مقالات اور مضامین

خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب میں امریکی اڈوں اور ان کے مابین فوجی تعاون کی تاریخ تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

اس الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں بھی جھوٹ بولا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی امریکی اڈا نہیں اور نہ ہی امریکی فوجیں موجود ہیں۔ آئیں آپ کے سامنے بعض تاریخی حقائق بیان کرتے ہیں۔

اتفاقِ کوئنسی (بالإنجليزية: Quincy Pact): 14 فروری 1945

یہ معاہدہ سعودی عرب کے مؤسس بادشاہ، ملک عبدالعزیز آل سعود، اور اُس وقت کے امریکی صدر روزویلٹ کے مابین امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کوئنسی (USS Quincy CA-71) پر بحیرۂ احمر میں طے پایا۔
امریکہ اور سعودی عرب کے مابین فوجی تعاون 1945 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت شروع ہوا، جس کا آغاز سعودی عرب کے شہر ظہران میں ہوائی اڈے (کنگ عبدالعزیز ایئر بیس) کی تعمیر سے ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ بیس دوسری جنگِ عظیم کے دوران لاجسٹک مقاصد کے لیے استعمال ہوا، بعد ازاں اس نے سرد جنگ کے دوران ایک اسٹریٹجک بیس کے طور پر کام کیا۔ 1980 کی دہائی میں دونوں ممالک نے سوویت حملے کے خلاف افغان مجاہدین کی حمایت میں تعاون کیا۔ بعد میں انہوں نے خطے میں صدام حسین کی مسلط کردہ ایران-عراق جنگ کے تناظر میں بھی تعاون جاری رکھا۔
امریکی فوج نے کئی دہائیوں سے مملکت میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے دوران امریکی فوجی ہتھیاروں کی فروخت اور تربیتی مشنز میں مدد کے لیے موجود رہے۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران کویت کو آزاد کرانے میں مدد کے لیے تقریباً 550,000 امریکی فوجی تعینات کیے گئے۔ 1991 سے 2003 کے درمیان تقریباً 5,000 امریکی فوجی—زیادہ تر امریکی فضائیہ کے—عراق پر جنوبی نو فلائی زون نافذ کرنے کے لیے مملکت میں موجود رہے۔
ان دہائیوں کے دوران یہ شراکت داری وسیع پیمانے پر فوجی اور فضائی مشقوں پر مشتمل رہی ہے۔ یہ مشقیں، جو باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں، جدید فضائی جنگی تربیت اور ملٹی ڈومین انٹرآپریبلٹی پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ دیگر تربیتی سرگرمیوں میں ڈرون کے مقابلے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو حقیقی دنیا کے منظرناموں میں شامل کرنا بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے لیے اہم سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

سعودی عرب کا ویژن 2030

امریکہ نے سعودی عرب کے ویژن 2030 کی بھی توثیق کی ہے، جس کا مقصد اپنی فوجی ضروریات کا 50 فیصد سعودی عرب کے اندر ہی تیار کرنا ہے اور غیر ملکی دفاعی کمپنیوں کو مملکت میں دفاتر کھولنے یا مقامی فرموں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ بوئنگ نے پہلے ہی سعودی عربین ملٹری انڈسٹریز کمپنی (SAMI) کے ساتھ ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر دستخط کیے ہیں، جس میں نہ صرف پائیداری بلکہ مینوفیکچرنگ، تربیت، انجینئرنگ اور تحقیق و ترقی بھی شامل ہے۔ اسی طرح لاک ہیڈ مارٹن نے ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) سسٹم کے اجزاء تیار کرنے کے لیے سعودی شراکت داری قائم کی ہے۔ RTX، جو پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کرتا ہے، SAMI کے ساتھ کئی اہم اجزاء کی تیاری اور جانچ پر کام کر رہا ہے۔

ایران نے خطے میں اسلامی ممالک کو کیوں نشانہ بنایا؟

جب ہمسایہ ممالک ایران کے دشمنوں کو پناہ گاہیں، فوجی اڈے، انٹیلی جنس مراکز اور ریڈار سسٹمز لگانے کے لیے اپنی سرزمین فراہم کریں گے، اور پھر یہی اڈے ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوں گے، تو اپنا دفاع کرنا ہر ملک کا عرفی، آئینی اور قانونی حق ہے۔ سادہ الفاظ میں، اگر آپ اپنے پڑوسی کے خلاف جنگ کے لیے کسی عالمی طاقت کو اپنی زمین فراہم کریں گے اور وہ آپ کے پڑوسی پر حملہ کرے گی، تو پھر آپ کو اس پڑوسی کی جوابی کارروائی پر اعتراض کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔

اب ہر باشعور انسان خود فیصلہ کرے کہ اچھا ہمسایہ کون ہے ؟ خلیجی ممالک یا ایران؟

جب امریکہ اور اسرائیل نے جارحیت کرتے ہوئے ایران کی اعلیٰ قیادت اور دیگر مفادات کو نشانہ بنایا، تو جواب میں ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ جب توانائی کی تنصیبات پر حملے ہوئے تو سعودی اور خلیجی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران اچھے ہمسایہ تعلقات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔
ایران کی امریکی سرزمین تک براہِ راست رسائی نہیں، لیکن وہ ممالک جنہوں نے خطے میں امریکہ کی موجودگی کو سہولت فراہم کی ہے، دراصل ایسے اڈے مہیا کر رہے ہیں جہاں سے امریکہ حملہ یا دفاع کر سکتا ہے۔ نتیجتاً ایران یہ مؤقف رکھتا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ ان مقامات کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے جو امریکی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایرانی حملوں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1) براہِ راست امریکی فوجی اڈے
جیسے بحرین میں پانچواں بحری بیڑا، جو خطے میں امریکی موجودگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ ایران کے مؤقف کے مطابق ایسے اڈے ممکنہ طور پر حملوں کے آغاز کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا وہ انہیں جائز ہدف سمجھتا ہے۔

2) امریکہ و اسرائیل کے دفاعی معاون ممالک
کچھ ممالک، جیسے اردن، جو اپنے اڈوں کو ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یا قطر اور امارات میں موجود دفاعی نظام (جیسے THAAD یا ابتدائی وارننگ ریڈار)، ایران کے نزدیک بالواسطہ فوجی مدد کے زمرے میں آتے ہیں۔

3) امریکی افواج کی متبادل موجودگی کے مقامات
کبھی کبھار امریکی افواج اپنے مرکزی اڈوں کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی موجود ہوتی ہیں۔ ایران کے مطابق ایسے مقامات بھی اس کی نگرانی میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

4) براہِ راست امریکی مفادات
ایران کے مؤقف کے مطابق اگر اس کے اندر شہری یا مالیاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے تو وہ بھی جوابی طور پر امریکی شہری مفادات کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے

5) مشترکہ امریکی شہری مفادات
ایسے توانائی یا صنعتی منصوبے جن میں بڑی امریکی کمپنیوں (جیسے ExxonMobil، Chevron، Halliburton) کی سرمایہ کاری ہو، ایران کے نزدیک حساس حیثیت رکھتے ہیں، خصوصاً اگر ایرانی تنصیبات پر حملے کیے جائیں۔

سعودی عرب کا فرقہ وارانہ جنگ بنانے کا منصوبہ
سعودى عرب نے اب ایک اور ایئرپورٹ کو امریکہ کے اختیار میں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ طائف شہر کا کنگ فہد ائرپورٹ جو مکہ مکرمہ کے نزدیک ہے۔ کل جب امریکہ ایران پر یہاں سے حملہ کرے گا۔ اور ایران جواب میں اس ائرپورٹ کو نشانہ بنائے گا تو شور مچایا جائے کہ ایران نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا اور پورے جہاں اسلام میں ایک مذہبی فتنہ کھڑا کیا جائے گا۔
البتہ امریکہ اور اسرائیل کی پروپیگنڈا مشینری کی جانب سے بعض دیگر ممالک، جیسے ترکی، آذربائیجان یا عمان کے حملوں کو بھی ایران سے منسوب کیا جاتا ہے، جسے ایران بے بنیاد قرار دیتا ہے۔اور ان حملوں میں اسرائیل ملوث پایا گیا ۔ ایران کے مؤقف کے مطابق اس کا دشمن چاہتا ہے کہ خطے کے ممالک براہِ راست ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں ملوث ہو جائیں، تاکہ وہ خود پیچھے رہ کر فائدہ اٹھا سکے۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *