Uncategorizedمقالات اور مضامین

عربوں کی فلسطین سے غداری کی تاریخ (1) تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

عربوں کا ماضی میں مشترکہ موقف

“اسرائیل کے ساتھ نہ مذاکرات چاہتے ہیں اور نہ ہی سفارتی تعلقات”

جب 17 ستمبر 1978 کو مصر اور اسرائیل کے مابین امریکہ کی سرپرستی میں 12 دن تک کیمپ ڈیوڈ مذاکرات ہوئے، اور ان مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیلی صدر مناحیم بیگن اور مصر کے اس وقت کے صدر انور سادات کے مابین صلح نامے پر دستخط کیے گئے، جسے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کہا جاتا ہے، تو اس سارے عمل کو عرب اور اسلامی ممالک نے قضیۂ فلسطین کے خلاف مصر کی ایک بڑی خیانت قرار دیا۔ اور متفقہ طور پر تمام عرب ممالک نے 1979 سے 1989 تک مصر کی عرب لیگ کی رکنیت معطل کر دی۔ اور سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک نے مشترکہ موقف اپنایا تھا کہ “اسرائیل کے ساتھ نہ مذاکرات چاہتے ہیں اور نہ ہی سفارتی تعلقات رکھتے ہیں”۔

آخر کیا وجہ بنی کہ یہی عرب ممالک بعد میں اسرائیل کے اتحادی بن گئے؟ بعض نے برسرِعام تعلقات قائم کیے، سفارت خانے کھولے، اور بعض نے پسِ پردہ اپنے تعلقات استوار کیے۔ اس کالم میں پوری صورتحال کو قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

غاصب اسرائیل کے قیام کا پس منظر

جب سلطنتِ برطانیہ اپنے عروج پر تھی اور سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سارے عرب ممالک برطانیہ یا فرانس کے زیرِ تسلط آ گئے، تو فلسطین برطانیہ کے زیرِ تسلط تھا۔ یہودیوں کی متشدد صہیونی تحریک اس کوشش میں تھی کہ وہ اپنی صہیونی ریاست سرزمینِ فلسطین پر قائم کریں۔ ان کے برطانیہ کے ساتھ مذاکرات ہوئے، اور برطانیہ نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ سرزمینِ فلسطین پر انہیں اپنی صہیونی ریاست بنانے میں تعاون کرے گا، اور ایک عہد نامہ لکھا گیا جو وعدۂ بالفور (Balfour Declaration) کے نام سے معروف ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے ایام میں 2 نومبر 1917 کو اس ڈیکلریشن پر برطانیہ کے وزیرِ خارجہ آرتھر بلفور نے دستخط کیے۔ اس وقت فلسطین سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔

برطانیہ نے جب اس پورے خطے پر قبضہ کر لیا تو اس کے اقتدار کے زیرِ سایہ صہیونی تحریک نے پوری دنیا سے یہودیوں کو سرزمینِ مقدس فلسطین کی طرف ہجرت کرنے پر کام شروع کر دیا۔ اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی آبادی فقط 3 سے 5 فیصد تک تھی۔ اور یہ تحریک اقتصادی منصوبوں اور اسلحہ کی طاقت سے فلسطین کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی، اور 1948 میں برطانیہ کے انخلاء کے چند گھنٹے بعد اس صہیونی تحریک نے اپنی ناجائز ریاست کا اعلان کر دیا، جسے پھر چند ہی گھنٹوں بعد سب سے پہلے امریکا نے تسلیم کر لیا۔ جس سے پورے عالمِ عرب و اسلام میں بے چینی کی لہر پیدا ہو گئی۔

عربوں بالخصوص خلیجی بادشاہوں کی تاریخی خیانت

خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے لیے اس زمانے میں خلیجی و عرب قبائل کے سرداروں نے برطانیہ کے ساتھ تعاون کیا۔ شریف حسین اس برطانوی و صہیونی سازش کو سمجھے بغیر اسرائیل کے لیے راہ ہموار کر رہے تھے، جبکہ انگریزوں کے پاس جھوٹے وعدے، خوشامد اور چاپلوسی کے سوا اسے دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ وہ فقط اسے دھوکہ دے کر اپنے عزائم پورے کرنا چاہتے تھے۔ برطانیہ پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے اس نے یہودیوں کی مدد کرنے اور فلسطین میں ظلم و ستم کے باوجود ان کے لیے پناہ گاہ تیار کرنے کے لیے اپنا تمام تر اثر و رسوخ استعمال کرنے کا عہد کیا۔ اس کے بعد اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس کے دونوں بیٹوں نے بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

فیصل وائزمین معاہدہ

فیصل اول صہیونی تحریک کے جال میں پھنس گیا اور اس نے وائزمین، جو 1920 سے 1946 تک انٹرنیشنل صہیونی تنظیم کا سربراہ تھا اور 1949 میں اسرائیل کا صدر بنا، کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے مطابق وہ یہودیوں کو فلسطین میں بقائے باہمی اور یکجہتی کے لیے ایک مستقل معاشرہ قائم کرنے کی سہولیات فراہم کرے گا، جسے بعد میں فیصل وائزمین معاہدے کے نام سے جانا گیا۔ اس کے بدلے میں وہ سب سے بڑے عرب علاقے پر اپنا تخت قائم کرے گا، جو برطانیہ اسے عطا کرے گا۔

شاہ اردن کا کردار

شاہ فیصل کا بیٹا عبداللہ اول، جو اردن کا بادشاہ تھا، برطانیہ کی اندھی اطاعت کرتا تھا، جس نے اسے کچھ امداد فراہم کی اور اس کے تخت کو مستحکم رکھنے کے لیے کچھ فوج اور فوجی اڈے بھی دیے۔ بین الاقوامی صیہونیت نے اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور فلسطینی سرزمین پر قبضے اور قیام میں سہولت کاری کے لیے اس میں ایک وفادار دوست اور ایک قابلِ قدر اتحادی پایا۔ عبداللہ اول کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بعد میں آنے والے عرب حکمرانوں نے بھی برطانیہ اور امریکہ کی اندھی اطاعت کا راستہ اختیار کیا۔

سعودی عرب کی حقیقت

حاییم وائزمین نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ “سعودی ریاست کا قیام ایک برطانوی منصوبہ تھا، اور اس کے بعد دوسرا منصوبہ اس کے ذریعے صہیونی وجود کا قیام تھا۔ اسے امید تھی کہ جنگ کے بعد وہ عبدالعزیز آل سعود کو مشرق کا آقا بننے میں مدد کریں گے، بشرطیکہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کی مخالفت نہ کرے۔” بعینہٖ یہی ہوا۔ تیسری سعودی مملکت کے بانی عبدالعزیز آل سعود نے برطانیہ کو یہ تحریری وعدہ دیا کہ:
“اسے فلسطین کو غریب یہودیوں یا دوسروں کو دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اور وہ آخری وقت تک برطانیہ سے رشتہ نہیں توڑیں گے”۔ جیسا کہ انہوں نے کہا تھا، آج تک آل سعود وہی کر رہے ہیں۔

اعلانِ بالفور کے ایک سو سال بعد، ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو یروشلم، یعنی شہرِ بیت المقدس، میں منتقل کرنے اور اسے یہودی عوام کے ابدی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کیا۔ پہلی صدارت سنبھالنے کے بعد ان کے یہودی داماد کشنر، صہیونی رہنماؤں اور فلسطین، اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے خطے کے خفیہ اور عوامی دورے کرتے رہے، تاکہ “صدی کی ڈیل” کو فروغ دیا جا سکے، جس کی بنیاد دو ریاستی حل کو ترک کرنے، فلسطینیوں کے حقِ واپسی کو سلب کرنے، اور مغربی کنارے میں قائم صہیونی بستیوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے پر تھی، اور وہ فقط مغربی کنارے کے باقی ماندہ حصوں پر فلسطینیوں کو خود حکمرانی کی اجازت، اور غزہ اور مصر کے شمالی سیناء کے کچھ حصوں پر ایک فلسطینی اسٹیٹ کے قیام کی تجویز تھی، اور اس پر بھی اسرائیل کی طرف سے تقریباً مکمل سیکیورٹی کنٹرول ہو گا۔

سعودی ولی عہد “بن سلمان” نے کشنر کے ساتھ اپنی خفیہ بات چیت، امریکہ کے متواتر دوروں، اور صہیونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے بارے میں اپنے واضح موقف کے ذریعے “صدی کی ڈیل” کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کی خیانت کی جڑیں بہت گہری ہیں، اور یہ کہ آج جو کچھ بن سلمان کر رہا ہے وہ لمحۂ فکریہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ان کے دادا، بانی “عبدالعزیز” تک پھیلی ہوئی ہیں، جنہوں نے فلسطین کو پیسے کے عوض بیچ دیا تھا۔

بالفور ڈیکلریشن سے لے کر “صدی کی ڈیل” اور ابراہیمی معاہدوں تک، سو سال سے زائد عرصے سے جھوٹے اور متضاد وعدے کیے جاتے رہے ہیں۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، لیکن اس کی قیمت ہر سودے کے ساتھ دوگنی ہو جاتی ہے! غداری کی ایک صدی کی تاریخ اس عرصے کے دوران فلسطینیوں کے لیے “اپنی سرزمین سے جلاوطنی، مصائب، مظلومیت، اور تباہی و بربادی کی المناک داستان” ہے، اور فلسطین کی سرزمین میں بالفور کے بوئے گئے شر کے بیج سے فلسطینیوں کے لیے کانٹے، خون اور آنسو ہی نکلے ہیں۔

لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ مقدس سرزمین فلسطین یہودیوں کے ہاتھ میں اب کتنی دیر تک رہے گی… عنقریب محورِ مقاومت اپنی مزاحمت اور تمام شہدائے قدس کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں فلسطین آزاد ہو گا، اور فلسطینی واپس آئیں گے، اور اس غاصب صہیونی ریاست کا عنقریب خاتمہ ہو گا۔
21 مارچ 2026

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *