وحدت نیوز نیٹ ورک: علامہ راجا ناصر ریاست کے دشمن نہیں بلکہ وہ اس کے فکری معالج ہیں۔ ان کے سوال سخت ہیں، مگر خیرخواہی سے بھرپور۔ وہ بارہا یاد دلاتے رہے ہیں کہ ریاست کا سب سے پہلا فرض اپنے کمزور شہری کی حفاظت ہے۔ اگر کمزور ہی غیر محفوظ ہو جائیں تو ریاست کا وجود کاغذی رہ جاتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو ملایا جائے تو علامہ راجا ناصر کا کردار پاکستانی سیاست میں ایک ایسی روشنی کی مانند نظر آتا ہے، جو شور و شرابے، مفادات اور وقتی نعروں سے بہت بلند ہے۔ ان کی سیاست سچائی سے معمور ہے، اصولوں سے مزین ہے اور انسانیت کی خوشبو سے بھری ہوئی ہے۔ وہ مزاحمت بھی سکھاتے ہیں اور محبت بھی۔ وہ اختلاف بھی رکھتے ہیں، مگر شائستگی کے ساتھ۔ وہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں، ذمہ داری سمجھتے ہیں اور امانت سمجھتے ہیں۔
تحریر: محمد حسن جمالی
پاکستان کی سیاست میں جب ایسے کرداروں کی تلاش کی جاتی ہے، جو اصولوں کی ترویج، انصاف کے پرچار اور مظلوموں کی حقیقی وکالت پر فخر محسوس کرتے ہوں تو ہمیں ان میں سب سے نمایاں اور روشن کردار علامہ راجا ناصر عباس صاحب کا نظر آتا ہے۔ موصوف نے بہت ہی کم عرصے میں اپنی قابلیت اور شفاف سیاسی کردار کا مظاہرہ کرکے پاکستانی عوام کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنائی ہے۔ پاکستانی قوم اب اس حقیقت کو سمجھ چکی ہے کہ لباس روحانیت میں ملبوس یہ شخصیت پاکستان کے دیگر سیاسی افراد کی طرح ہرگز نہیں، وہ یہ جان چکی ہے کہ ان کی سیاست اقتدار کی نہیں بلکہ حصول انصاف کی سیاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام پاکستان کی سیاست میں انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مزاحمتی کردار کے طور پر جانتے ہیں۔
تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ علامہ ناصر عباس جعفری کی مزاحمت جذباتی نہیں بلکہ شعور کا نتیجہ ہے۔ ان کی سیاسی روش میں ایک ایسی سنجیدگی دکھائی دیتی ہے، جو کم ہی رہنماؤں میں پائی جاتی ہے۔ وہ ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہوتے ہیں، مگر فکری استدلال کے ساتھ۔ ان کے لہجے میں تلخی نہیں بلکہ سچائی کی روشنی بولتی ہے اور ان کی اسی روش نے انہیں دوسروں سے منفرد بھی بنایا ہے اور توانا بھی۔ ایسا ہونا ہی چاہیئے تھا، کیونکہ علوی سیاست کے اصول ان کی سیاست کا مرکز ہیں۔ وہ سیاست کو امانت سمجھتے ہیں، نہ کہ تجارت۔ ان کی نظر میں سچ بولنے کی جرات قیادت کا سب سے پہلا معیار ہے۔وہ یہ جرات رکھتے بھی ہیں اور ادا بھی کرتے ہیں۔ طاقتور ہو یا معمولی فرد، وہ ہر ایک کے سامنے وہی بات کرت ہیں، جسے وہ حق سمجھتے ہیں۔
وہ کسی قیمت پر اصولوں سے پیچھے ہٹنے کے قائل نہیں۔ یہ وہ رویہ ہے، جس نے انہیں احترام بھی دیا اور ایک وزنی فکری مقام بھی۔ علوی سیاست کا دوسرا اصول کمزور کے لیے طاقت کا استعمال ہے۔ علامہ راجا ناصر اسی اصول پر قائم رہتے ہیں۔ وہ ہر اس مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں، جہاں انسانیت زخمی ہو رہی ہو۔ جبری گمشدگیاں ہوں، قتل و غارت ہو، قومی وحدت کو نقصان پہنچ رہا ہو یا شہری آزادیوں پر قدغن۔۔ وہ ہر صورت میں مظلوم کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان کی حمایت کسی مسلک، برادری یا جماعت تک محدود نہیں رہتی۔ ان کی نظر میں انسانیت سب سے پہلا عنوان ہے۔ یہی وسعت ان کے کردار کو بلند کرتی ہے۔ علوی اور حسینی سیاست کی پیروی کرتے ہوئے ان کی جدوجہد میں عدل سب سے مرکزی قدر کے طور پر جلوہ گر رہتا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں انصاف ایک نایاب شے بنتا جا رہا ہے، مگر علامہ ناصر عدل کو محض نعرہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ عدل کے لیے قیمت بھی چکاتے ہیں۔ ماضی میں ان کا طویل بھوک ہڑتالی دھرنا اسی قیمت کی علامت تھا۔ اس احتجاج میں انہوں نے ثابت کیا کہ اگر مقصد اصول انصاف کا حصول ہو تو اس کے لئے ہر قربانی دی جاسکتی ہے۔ یہ دھرنا ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی خاموش چیخ کی ترجمانی تھا۔ علامہ راجا ناصر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پاکستان کو بیرونی طاقتوں کی غلامی سے نجات دلانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل جیسی استکباری قوتیں پاکستان کے فیصلوں پر اثرانداز ہو کر اس کی خود مختاری کو کمزور کرتی آئی ہیں۔ اس غلامانہ زنجیر کو توڑنے کے لیے وہ فکری، سیاسی اور عوامی سطح پر بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں، جو یقیناً لائق تحسین کارنامہ ہے۔
ان کی آواز قوم کو یاد دلاتی ہے کہ عزت تب ملتی ہے، جب قومیں اپنی راہ خود چنیں، اپنی پالیسی خود بنائیں اور کسی بیرونی اشارے کو مقدر نہ سمجھیں۔ وہ عرصے سے اس طبقے کے خلاف فکری محاذ پر سرگرم ہیں، جو بیرونی قوتوں کے زیر اثر ملک کے سیاسی و معاشی ڈھانچوں پر قابض رہا ہے۔ ان کا مقصد ٹکراؤ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کو بیداری، خود شناسی اور آزادی کی ثروت سے مالا مال کرانا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی سیاست میں شمولیت اختیار کرکے علامہ راجا ناصر تکفیری سوچ کے خلاف بھی علوی اور حسینی سیاست کے ذریعے مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ تکفیری ٹولوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے یہ کہتے رہتے ہیں کہ سیاست نفرت کا نام نہیں بلکہ انسانیت اور عدل کا راستہ ہے۔ وہ اس بات کی تکرار کرتے رہتے ہیں کہ حسینی روش تلوار نہیں، روشنی ہے۔ یہی روشنی معاشرے میں انتہاء پسندی کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔
یقین کیجئے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں علامہ راجا ناصر مظلوم قوموں کے لیے آج امید کی کرن ہیں۔ وہ انہیں باور کراتے ہیں کہ طاقت اسلحے سے نہیں خودداری، شعور اور وحدت سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کا ہر قدم قوم کو بتاتا ہے کہ غلامی قبول کر لینا آسان ہے، مگر آزادی کی قیمت ادا کرنا ہی حقیقی وقار۔ علامہ ناصر کی شخصیت کا ایک دلکش پہلو ان کا نوجوانوں سے گہرا فکری تعلق ہے۔ وہ نوجوانوں کو جوش نہیں دیتے بلکہ شعور دیتے ہیں۔ وہ انہیں سمجھاتے ہیں کہ تبدیلی نعرے سے نہیں بلکہ علم اور بصیرت سے آتی ہے۔ ان کی گفتگو میں دلیل ہے، دیانت ہے اور مستقبل کا واضح نقشہ ہے۔ یہی انداز نوجوانوں کو ان کے قریب کرتا ہے اور انہیں ایک نئی سیاسی امید دیتا ہے۔ ان کا مزاحمتی کردار کبھی انتشار پیدا نہیں کرتا۔ وہ اختلاف ضرور کرتے ہیں، مگر عزت کے ساتھ۔ وہ طاقتور سے سوال ضرور کرتے ہیں، مگر نفرت نہیں پھیلاتے۔ ان کی سیاست جوڑتی ہے، توڑتی نہیں۔ یہی سیاست پاکستان کی اصل ضرورت ہے۔ قومی وحدت ان کے نزدیک ایک نعمت ہے، جسے بچانا ہر حال میں ضروری ہے۔
علامہ راجا ناصر ریاست کے دشمن نہیں بلکہ وہ اس کے فکری معالج ہیں۔ ان کے سوال سخت ہیں، مگر خیرخواہی سے بھرپور۔ وہ بارہا یاد دلاتے رہے ہیں کہ ریاست کا سب سے پہلا فرض اپنے کمزور شہری کی حفاظت ہے۔ اگر کمزور ہی غیر محفوظ ہو جائیں تو ریاست کا وجود کاغذی رہ جاتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو ملایا جائے تو علامہ راجا ناصر کا کردار پاکستانی سیاست میں ایک ایسی روشنی کی مانند نظر آتا ہے، جو شور و شرابے، مفادات اور وقتی نعروں سے بہت بلند ہے۔ ان کی سیاست سچائی سے معمور ہے، اصولوں سے مزین ہے اور انسانیت کی خوشبو سے بھری ہوئی ہے۔ وہ مزاحمت بھی سکھاتے ہیں اور محبت بھی۔ وہ اختلاف بھی رکھتے ہیں، مگر شائستگی کے ساتھ۔
وہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں، ذمہ داری سمجھتے ہیں اور امانت سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان کو ایک روشن، منصفانہ اور باوقار مستقبل چاہیئے تو اسے ایسے ہی رہنماؤں کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے، جو طاقت کے نہیں، اصولوں کے مالک ہوں۔ علامہ راجا ناصر آج اسی اصولی سیاست، اسی علوی روش اور اسی مزاحمتی وقار کے سب سے روشن استعارے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کردار صرف سیاست کا حصہ نہیں بلکہ سیاست کی روح ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعتاً اپنی سیاسی اور اجتماعی زندگی میں ایسے رہنماؤں کے اصولوں پر چلنے کی ہمت رکھتے ہیں یا صرف وقتی نعروں اور ظاہری طاقت کے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔؟








