بنت جبیل: مقاومت کی تاریخ کا ایک معجزہ
تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی
بنت جبیل، جنوبی لبنان میں مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کی سرحد سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا مگر غیر معمولی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس کی آبادی تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 45 روزہ شدید اور ہولناک جنگ کے بعد، بنت جبیل استقامت، جرات اور مزاحمت کی ایک ایسی علامت بن کر ابھرا ہے جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ جدید ترین اسلحہ اور ایٹمی صلاحیت سے لیس صہیونی ریاست کے مقابلے میں اس چھوٹے سے شہر نے جس عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ شہر نہ صرف جبل عامل کا دل ہے بلکہ حریت و مقاومت کا زندہ استعارہ بھی ہے۔
اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی پانچ ڈویژنز یعنی تقریباً 50 سے 75 ہزار تربیت یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوجی اس شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔ یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ طاقت کا اصل معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ ایمان، عزم اور عوامی حمایت بھی ہوتا ہے۔
آج اگر کوئی اسرائیلی قیادت کے بیانات سنے تو گمان ہوتا ہے جیسے بنت جبیل کوئی عظیم عسکری قوت یا وسیع و عریض شہر ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی وسعت نہیں بلکہ اس کے باسیوں کا حوصلہ اور مزاحمتی شعور ہے۔
بنت جبیل نے 2006 اور 2024 کی جنگوں کے بعد ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ مزاحمت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔
*جنگ کے پردے میں بے نقاب ہونے والے چہرے*
بنت جبیل کی اس جنگ نے جہاں صہیونی ریاست کی عسکری طاقت کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا، وہیں وطن کے خائن عناصر اور غیر ملکی ایجنڈوں پر عمل کرنے والوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے نے نقاب کر دیا، اور ان کی اصلیت کو واضح کر دیا۔
1- پہلا طبقہ:
وہ حکمران ٹولہ، جو خودمختاری، حکومت کی رٹ کے قیام، اور ملکی سالمیت و استقلال کے دعوے دار تھا۔ جب دشمن لبنان کے چپے چپے پر بمباری کر رہا تھا، ہزاروں شہری شہید ہو رہے تھے، اور تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے، جبکہ ان کے گھر اور کاروبار تباہ ہو چکے تھے اسی اثنا میں، دشمن کا مقابلہ کرنے، وطن کا دفاع کرنے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے، یہ بزدل حکمران (صدر اور وزیراعظم) امریکی سفارت خانے کی ڈکٹیشن پر عمل کر رہے تھے۔ وہ جنگ بندی سے پہلے ہی حملہ آور دشمن کے ساتھ ذلت آمیز مذاکرات میں مصروف تھے۔
مزید یہ کہ مذاکرات کی میز پر دشمن، ان پست ذہنیت بزدلوں کو مزید ذلیل کرنے کے لیے یہ تقاضا کر رہا تھا کہ پہلے تم اپنے وطن کا دفاع کرنے والی، اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والی مقاومت کو غیر مسلح کرو، اس کا اسلحہ چھینو، اور پھر اپنے ہی ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دو۔ گویا ایک طرف سے ہم تمہارے ملک پر حملہ آور ہیں، اور دوسری طرف تم اپنے ہی محافظوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاؤ۔
2- دوسرا طبقہ:
وہ دانشور اور صحافی، جو کبھی لبنان کی سیاسی، فکری اور ادبی اشرافیہ میں شمار کیے جاتے تھے خصوصاً وہ لوگ جو برسوں تک بائیں بازو، قوم پرستی اور آزادی کی تحریکوں کے ستون سمجھے جاتے رہے اس بحران میں اس حد تک زوال کا شکار ہوئے کہ انہوں نے مختلف تاویلات اور بہانوں کے تحت اپنے ذہن اور قلم دشمن یا اس کے آلہ کاروں کے ہاتھ فروخت کر دیے۔
اس جنگ کے نتائج کچھ بھی ہوں، بنت جبیل کے لیے یہ اعزاز ہی کافی ہے کہ اس نے آنے والی نسلوں کے لیے شجاعت، استقامت، عزت اور کرامت کی ایک روشن تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایک مختصر جماعت، جس کی تعداد چند سو افراد پر مشتمل تھی، اس نے چاروں طرف سے دشمن کے محاصرے، اور مسلسل فضائی و زمینی حملوں کے باوجود اپنی مقاومت اور مزاحمت کو جاری رکھا، اور ثابت قدمی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
*بنت جبیل پر قبضے کی خواہش: بنیادی اسباب*
بنت جبیل نتن یاہو اور اسرائیل کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے تین اہم اسباب درج ذیل ہیں:
1- بنت جبیل کی معنوی حیثیت:
جب حزب اللہ اور لبنانی مقاومت کے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے، 25 مئی 2000 کو اسرائیل نے لبنان سے مکمل انخلا کیا اور لبنان آزاد ہوا، تو اسی شہر کے اسٹیڈیم میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے سید شہدائے مقاومت، علامہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے اسرائیل کے بارے میں ایک مشہور جملہ کہا:
“یہ اسرائیل مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور ہے۔”
یہ جملہ نتن یاہو اور اسرائیلی قیادت کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے، اور وہ اسے بار بار یاد کرتے ہیں۔ وہ مسلسل جنگوں کے ذریعے دنیا پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اسرائیل ایک ناقابلِ شکست طاقت ہے، لیکن سید مقاومت نے ان کے بارڈر پر کھڑے ہو کر دنیا کو بتا دیا کہ یہ درحقیقت مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔
اسی لیے جولائی 2006 کی جنگ میں اسرائیل نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ اس شہر پر قبضہ کر لے، لیکن وہ تمام تر تباہی و بربادی کے باوجود ناکام رہا۔ پھر 2024 کی جنگ میں بھی اس نے پوری قوت صرف کی، لیکن ایک بار پھر ناکامی اس کا مقدر بنی۔
ابھی چند دن پہلے نتن یاہو اسرائیلی ٹی وی پر یہ دکھا رہا تھا کہ وہ اسٹیڈیم، جہاں سید مقاومت نے خطاب کیا تھا اور یہ جملہ کہا تھا کہ اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے، ہم نے اسے تباہ کر دیا ہے، اور وہ اس کو فتح کے طور پر پیش کر رہا تھا؛ لیکن اس کا یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔ جنگ بندی کا اعلان ہو گیا، مگر اس کی تقریباً 60 سے 70 ہزار فوج، اپنے ٹینکوں، توپوں اور شدید میزائل بمباری کے باوجود، اس شہر پر قبضہ نہ کر سکی۔
اس شہر کے ہر گھر اور ہر اپارٹمنٹ میں اسرائیلی پیش قدمی کے سامنے اسے ایک کمین گاہ محسوس ہوتی ہے۔ ڈیڑھ ماہ سے مسلسل محاصرے میں زندگی بسر کرنے والے خدا کے پراسرار مجاہد، دشمن کے ہر حملے اور پیش قدمی کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
بنت جبیل نے صحیح معنوں میں ثابت کر دیا ہے کہ “اسرائیل” مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے، اور یہ تاریخ کا ایک ایسا معجزہ ہے جو مسلسل مہذب مزاحمت کے اس کلچر کو فروغ دیتا ہے، جو کسی قابض کو تسلیم نہیں کرتا اور ہتھیار نہیں ڈالتا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی عظیم قربانیاں کیوں نہ دینی پڑ جائیں۔
2- بنت جبیل: علاقے کا مرکزی اور بڑا شہر
جنوبی لبنان کے اس علاقے میں بنت جبیل ایک بڑا شہر شمار ہوتا ہے۔ اسے اجتماعی، اقتصادی اور دیگر اعتبارات سے پورے خطے میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں حزب اللہ کے پاس ہیومن ریسورسز کا ایک اہم مرکز موجود ہے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ مقاومت کا نیٹ ورک اسی شہر سے تمام سرحدی علاقوں اور دیہاتوں کو کنٹرول کرتا ہے، اسی لیے وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
3- بنت جبیل کی جغرافیائی حیثیت:
یہ شہر علاقے کا سب سے بلند مقام ہے اور تقریباً 700 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنا فوجی اعتبار سے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہاں سے چاروں اطراف کی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ دشمن کا خیال ہے کہ حزب اللہ کے دفاعی ٹنلز اور مورچے اسی کے پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔ اس شہر کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث دشمن مسلسل اس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔
بنت جبیل اب صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ حزب اللہ اور لبنان کی مقاومت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، عزت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی صہیونی درندگی اور جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔
یہ شہر اس مزاحمتی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس نے نہ صرف دشمن کی عسکری برتری کو چیلنج کیا بلکہ اس کے غرور کو بھی پاش پاش کر دیا۔ بنت جبیل نے تاریخ میں یہ پیغام ثبت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت اگر ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ہو تو وہ خود ایک ناقابلِ شکست قوت بن جاتی ہے۔
اختتامیہ
بنت جبیل اب صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ حزب اللہ اور لبنان کی مقاومت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، عزت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی صہیونی جارحیت اور درندگی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔
حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں یہ حقیقت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ تمام تر عسکری دباؤ، جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسیع پیمانے پر جارحیت کے باوجود دشمن اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ مقاومت نے اپنے مؤقف، اپنی موجودگی اور اپنے مزاحمتی وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ثابت قدمی اور حکمت عملی کی ایک واضح فتح کا اظہار کیا۔
یہ شہر اس مزاحمتی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس نے نہ صرف دشمن کی عسکری برتری کے دعووں کو چیلنج کیا بلکہ اس کے غرور کو بھی زمین بوس کیا۔ بنت جبیل نے تاریخ میں یہ پیغام ثبت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت اگر ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ہو تو وہ خود ایک ناقابلِ شکست قوت بن جاتی ہے اور حالیہ جنگ بندی اس حقیقت کی ایک عملی توثیق ہے کہ مقاومت اپنی جگہ قائم ہے اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم اور فتح مند ہے۔ مقاومت کی قیادت، مجاہدین اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کو مقاومت کی یہ فتح مبارک ہو۔








