وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا اہم سربراہی اجلاس تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور وائس چیئرمین، قائد حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور آئینی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، زین شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، مشتاق احمد خان، عمار علی جان سمیت مختلف سیاسی و جمہوری جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس کے اعلامیے میں ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مہنگائی، بے روزگاری اور بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نظم و نسق، امن و امان اور عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ملک میں اٹھارہ، اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، کسان، مزدور اور تنخواہ دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ آنے والا بجٹ عالمی مالیاتی فنڈ کے دباؤ کے تحت عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالے گا۔
اجلاس میں عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے اور اہل خانہ و سیاسی رفقاء سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اجلاس میں صاحبزادہ حامد رضا، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور علی وزیر سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
شرکاء نے وزیرستان میں ملک طارق خان وزیر، چیف آف احمد زئی، کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جبکہ غزہ کے لیے جانے والے عالمی انسانی امدادی قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی گئی۔
اجلاس میں صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ اور آئین و جمہوریت کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے حقیقی جمہوری نظام اور آئینی حکمرانی ناگزیر ہے۔
تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، لاقانونیت، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عمران خان کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کے مطالبات کے حق میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔








