اہم خبریںبین الاقوامی خبریں

سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری: “جس نے شہید رہبر کی ہدایات پر عمل کیا، وہ ہمیشہ اپنے میدان میں کامیاب رہا”

وحدت نیوز نیٹ ورک 9 جولائی 2026 | قم المقدسہ
شہید رہبرِ امت کی یاد اور حضرت امام زین العابدینؑ کی شہادت کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبۂ قم کے زیر اہتمام دفتر قم میں ایک پُروقار تعزیتی و فکری تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، فضلاء اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کے لیے سیاست سے کنارہ کش رہنا کسی صورت درست نہیں، بلکہ غیر سیاسی ہونا ایک سنگین غلطی ہے۔ ائمہ اہل بیتؑ سے درحقیقت سیاسی اقتدار چھینا گیا تھا، اس لیے جو تشیع سیاست سے جدا ہو، وہ اپنی حقیقی روح سے محروم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر سیاسی ہونا دراصل سیکولر طرزِ فکر کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہل سنت کے ساتھ مل کر ہر ظلم، ناانصافی اور استبداد کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ شہید رہبر حضرت امام سید علی خامنہ ایؒ نے نوجوانی ہی سے سیاسی اسلام کو اپنی فکر کا محور بنایا۔ انہوں نے 17 برس کی عمر میں عراق کا سفر کیا اور بغداد میں اخوان المسلمین کے دفتر کا رخ کیا، کیونکہ وہ اسلام کے اجتماعی اور سیاسی کردار پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق صرف سیاسی تشیع ہی امت اور مظلوموں کے حقوق کا مؤثر دفاع کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہل بیتؑ کی جدوجہد کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام اور الٰہی نظامِ حکومت کا نفاذ تھا۔ جو لوگ اقتدار کو اپنی موروثی جاگیر سمجھتے تھے، وہ ائمۂ اطہارؑ کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ تصور کرتے تھے، اسی لیے انہیں شہید کیا گیا۔

انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ کے مشہور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آپؑ اپنی جوتی کو پیوند لگا رہے تھے تو ابن عباسؓ سے اس کی قیمت دریافت کی۔ اس واقعے کو عموماً اخلاقی زاویے سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ اس کا اصل پیغام سیاسی ہے۔ حضرت علیؑ نے فرمایا کہ اگر حکومت کے ذریعے لوگوں میں عدل قائم نہ کر سکوں تو میرے نزدیک حکومت کی حیثیت اس جوتی سے بھی کمتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کے مسائل پر خاموشی اور بے حسی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اگر امام حسینؑ ظلم کے سامنے خاموش رہتے تو کربلا کا عظیم واقعہ پیش نہ آتا۔ علامہ محمد تقی جعفریؒ کے بقول، امام حسینؑ نے قانون کی بالادستی اور انصاف کے قیام کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تاکہ معاشرہ بے قانونی کے اندھیروں سے نجات حاصل کر سکے۔ شہید رہبر بھی معاشرے میں قانون شکنی اور بے ضابطگی کے سخت مخالف تھے۔

سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امت کو اپنے سیاسی کردار سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور ایسے سیاسی گروہوں سے فاصلہ رکھنا چاہیے جو امریکہ کے سابق صدر اور ان کے بقول “قاتل ٹرمپ” کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں یا اس کے لیے نوبل انعام کی سفارش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کے نزدیک دشمن سے دوستی حرام ہے اور ایسا ہر معاہدہ ناجائز ہے جس کے نتیجے میں دشمن کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہو۔ ایسے معاہدوں کی مخالفت شرعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس شخصیت نے بھی شہید رہبر کی ہدایات پر عمل کیا، وہ اپنے میدان میں کامیاب ہوئی۔ سید حسن نصر اللہ، حاج قاسم سلیمانی اور حسن طہرانی مقدم اس کی نمایاں مثالیں ہیں، جن کی کامیابیاں شہید رہبر کی بصیرت افروز رہنمائی پر عمل کا نتیجہ تھیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید رہبر نے “حوزۂ پیشرو” کا نظریہ پیش کرتے ہوئے حوزۂ علمیہ کی اصلاح اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب کی تشکیل پر زور دیا، تاہم اس حوالے سے مطلوبہ توجہ نہ دی گئی، جس کے باعث آج حوزہ اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہا۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے نجف اشرف کی قدیم علمی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہاں ہزار سالہ علمی مرکز موجود تھا، حتیٰ کہ رات کے اوقات میں بھی درسِ خارج کی محافل منعقد ہوتی تھیں، لیکن جب حوزہ سیاست، تبلیغ اور عوامی میدان سے دور ہو گیا تو صدام جیسے ظالم آمر کو اقتدار پر قابض ہونے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ علماء کو عوام سے مضبوط رابطہ برقرار رکھتے ہوئے دین، معاشرے اور سیاست میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *