اہم خبریںپاکستان کی خبریں

پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: ذمہ داروں کا تعین اور سخت احتساب کیا جائے، قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے نتیجے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف، غیر جانب دار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے بیان میں کہا کہ پمز ہسپتال میں معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت کا دل دہلا دینے والا سانحہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور دکھ کا باعث ہے۔ جن ننھی جانوں نے ابھی زندگی کا آغاز ہی کیا تھا، ان کا اس طرح ایک سانحے کا شکار ہونا محض ایک حادثہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، انتظامی نگرانی اور حکومتی ترجیحات پر انتہائی سنگین سوالیہ نشان ہے۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے ملک کے اہم سرکاری ہسپتال میں اگر نومولود بچے بھی محفوظ نہیں تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کی ناکامی ہے۔

قائد حزب اختلاف سینیٹ نے غم زدہ والدین اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان خاندانوں پر جو قیامت گزری ہے، اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ یہ بچے صرف اپنے والدین کی اولاد نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری بھی تھے اور ریاست اپنے بنیادی فرض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور ہسپتال انتظامیہ، متعلقہ حکام اور ہر اس شخص کا تعین کیا جائے جس کی غفلت، لاپرواہی یا مجرمانہ کوتاہی کے باعث یہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی دباؤ، مصلحت یا اثر و رسوخ کے بغیر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے۔

انہوں نے امدادی ٹیموں کے مبینہ طور پر تاخیر سے پہنچنے اور ریسکیو آپریشن میں ممکنہ غفلت کی بھی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نومولود اور نازک حالت میں موجود بچوں کے وارڈ میں ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہوتا ہے، لہٰذا بروقت امداد کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔

قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیرِ صحت سمیت تمام متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سانحے کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے الگ ہوں اور عوام کے سامنے جواب دہی کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو محض رسمی تعزیتی بیانات، چند معطلیوں اور روایتی تحقیقاتی کمیٹیوں کی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی انصاف، ذمہ داروں کے تعین اور عملی احتساب کی ضرورت ہے۔ ملک میں ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں کسی عام شہری کے بچے کی جان بھی اتنی ہی قیمتی سمجھی جائے جتنی کسی بااثر اور طاقتور شخص کے خاندان کی۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے کے بعد ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر فائر سیفٹی نظام، ایمرجنسی ایگزٹس، ریسکیو سہولیات اور دیگر حفاظتی انتظامات کا جامع آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے ناقابلِ تلافی سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانیں کسی بھی حکومتی یا انتظامی غفلت کی قیمت نہیں ہو سکتیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے اور جو حکومت یا ادارے اس بنیادی ذمہ داری میں ناکام ہوں، انہیں عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سوال اٹھایا کہ ان معصوم بچوں کا خون آخر کس سے جواب مانگے گا اور اس المناک سانحے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *