اہم خبریںبین الاقوامی خبریں

مدرسہ علمیہ الولایہ قم میں وحدتِ امت اور مغربی ایشیا کی نئی صورتحال پر علمی نشست، علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کا خطاب

وحدت نیوز نیٹ ورک (قم المقدسہ) : مدرسہ علمیہ الولایہ قم المقدسہ میں شعبۂ تحقیق کے زیر اہتمام “امامینِ انقلاب کی نگاہ میں وحدتِ امت اور مغربی ایشیا کی نئی صورتحال” کے عنوان سے ایک اہم علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ، حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے محقق اور مقرر کی حیثیت سے خطاب کیا۔

یہ علمی نشست 14 ربیع الاول 1448 ہجری، بمطابق 27 اگست 2026ء کو منعقد ہوئی، جس میں قم المقدسہ کی مختلف دینی و علمی تنظیموں، مؤسسات، مدارس، جوامعِ روحانیت کے نمائندگان اور حوزۂ علمیہ کے کثیر تعداد میں طلاب نے شرکت کی۔

علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے اپنے خطاب میں امامینِ انقلاب کی نگاہ میں وحدتِ امت کے موضوع پر جامع اور بصیرت افروز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی طاقت اتحاد اور یکجہتی میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے مشترکہ مفادات اور مشترکہ اہداف کی بنیاد پر متحد ہو کر بڑی سے بڑی طاقتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ملتِ ایران کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے اتحاد، استقامت اور یکجہتی کے ذریعے بڑی عالمی طاقتوں کے مقابلے میں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے وحدت کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی وحدت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مختلف مکاتبِ فکر اپنے بنیادی اصولوں اور عقائد سے دستبردار ہو جائیں، بلکہ تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے مشترکات کی بنیاد پر دشمن کے مقابلے میں متحد ہوں۔

اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے مغربی ایشیا کی موجودہ اور نئی صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا قدرتی وسائل، خصوصاً تیل اور گیس سمیت دیگر اہم ذخائر سے مالا مال خطہ ہے، جس کے باعث یہ علاقہ ہمیشہ عالمی طاقتوں اور استعماری قوتوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

انہوں نے مختلف ممالک کے حوالے سے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ استعماری قوتوں نے خطے میں ہمیشہ تقسیم در تقسیم کی حکمتِ عملی اختیار کی تاکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی طاقت کو کمزور کیا جا سکے اور خطے کے وسائل اور مفادات پر اپنا تسلط برقرار رکھا جا سکے۔

علمی نشست میں شریک شرکاء نے موضوع کی اہمیت اور مقرر کے تحقیقی و فکری تجزیے کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر ان معزز مہمانوں کو اسناد سے بھی نوازا گیا جنہوں نے مسلسل تین علمی نشستوں میں شرکت کر کے علمی سرگرمیوں سے اپنی وابستگی اور دلچسپی کا اظہار کیا۔

آخر میں دعائے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ اس اہم علمی و فکری نشست کا اختتام ہوا۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *