وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : قائد حزبِ اختلاف سینیٹ اور سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین و ترجمان حسین احمد یوسفزئی کے ہمراہ معروف سیاسی رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور اہم آئینی معاملات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مجوزہ آئینی ترمیم، نئے صوبوں کے قیام، اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں مبینہ خفیہ ٹرائلز اور سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری و قانونی معاملات سمیت مختلف اہم قومی امور زیرِ بحث آئے۔
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ اسمبلی عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا اسے بنیادی نوعیت کی آئینی ترامیم یا ملک کے انتظامی و سیاسی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اخلاقی اور سیاسی اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے محروم پارلیمان کی جانب سے آئین کی روح، ریاستی ڈھانچے اور عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے والی کسی بھی ترمیم کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
ملاقات میں پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں خفیہ ٹرائلز کے معاملے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ شفاف عدالتی کارروائی ہر شہری کا آئینی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کی قید اور ان کے خلاف جاری قانونی کارروائی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ رہنماؤں نے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت سینیٹر مشتاق احمد خان کی آئندہ تاریخِ پیشی پر عدالت پہنچ کر ان کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کرے گی۔
ملاقات کے اختتام پر رہنماؤں نے آئین کی بالادستی، جمہوری آزادیوں، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت اور مشترکہ جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔







