اہم خبریںبین الاقوامی خبریں

قم المقدسہ میں مجلس وحدت مسلمین کے زیرِ اہتمام علمی و فکری نشست؛ ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی کا سیرتِ حضرت فاطمہ زہراؑ اور تفسیرِ سورۂ کوثر پر خصوصی خطاب

معروف مفسرِ قرآن نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو کوثرِ نسلی، کوثرِ معنوی اور کوثرِ علمی کا مصداق قرار دیا؛ نشست میں یمن کی صورتِ حال اور طلاب و مبلغین کی دینی و علمی ذمہ داریوں پر بھی گفتگو**

وحدت نیوز نیٹ ورک: قم المقدسہ | جمعہ، ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبہ قم المقدسہ کے زیرِ اہتمام دفترِ مجلس میں ایک علمی و فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، سورۂ مبارکہ کوثر کے تفسیری معارف، یمن کی موجودہ صورتِ حال اور طلابِ علومِ دینیہ و مبلغین کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ نشست کے مرکزی مقرر معروف مفسرِ قرآن حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی تھے۔

نشست کا آغاز برادر آغا کمیل کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں حجۃ الاسلام آقای بشیر دولتی نے ’’مسئلۂ روز‘‘ کے عنوان سے یمن کی صورتِ حال اور آلِ سعود کی جارحیت کے اسباب و عوامل کا جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ کو دبانے، یمن کی خودمختاری کو کمزور کرنے اور اس کے قدرتی وسائل پر تسلط حاصل کرنے کو جارحیت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا۔ انہوں نے یمن کے مسئلے کو عالمِ اسلام کا ایک اہم سیاسی و علاقائی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔

### ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی کا خصوصی خطاب

نشست کے مرکزی مقرر، معروف مفسرِ قرآن حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی نے اپنے خطاب کے آغاز میں قائدِ وحدت و ناصرِ ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری حفظہ اللہ کی ملی و دینی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ملت کی سربلندی، اتحاد اور دینی و ملی اہداف کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔

بعد ازاں انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و کمالات بیان کرتے ہوئے سورۂ مبارکہ کوثر کے اہم تفسیری نکات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حضرت صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت کو آیتِ کوثر کے مفاہیم کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے آپؑ کو **کوثرِ نسلی، کوثرِ معنوی اور کوثرِ علمی** کا مصداق قرار دیا۔

ڈاکٹر رضائی اصفہانی نے وضاحت کی کہ کوثرِ نسلی سے مراد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے نسلِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے خاندانِ نبوت کی نسل پوری تاریخ میں جاری و ساری رہی۔ کوثرِ معنوی آپؑ کی عظیم روحانی شخصیت، بلند مرتبے اور بے شمار معنوی برکات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ کوثرِ علمی آپؑ کے بلند علمی مقام اور ان معارف و تعلیمات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو امتِ مسلمہ کے لیے علم و ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔

انہوں نے سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور سورۂ کوثر کے معارف کو باہم مربوط کرتے ہوئے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ قرآنِ کریم کی تعلیمات اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کا گہرا مطالعہ دینی شعور اور فکری بالیدگی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

### طلاب و مبلغین کی علمی و تبلیغی ذمہ داریاں

ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں طلابِ علومِ دینیہ اور مبلغین کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے علمی استعداد میں اضافے، قرآنی معارف کی ترویج اور معاشرے کی دینی و فکری رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ دین کی مؤثر تبلیغ کے لیے علم و عمل میں ہم آہنگی، قرآنی تعلیمات سے گہرا تعلق اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام سے آگاہی ضروری ہے، تاکہ طلاب اور مبلغین معاشرے کی فکری و دینی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔

مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم المقدسہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اس نشست میں قرآنی معارف، سیرتِ فاطمیؑ اور عصرِ حاضر کے اہم مسائل کو موضوعِ بحث بنایا گیا، جس سے علمی و فکری مباحث کے فروغ اور طلاب و مبلغین کی دینی ذمہ داریوں کی یاددہانی کی اہمیت اجاگر ہوئی۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *