مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبہ قم کی معاونتِ مبلغین کے زیرِ اہتمام کارگاہ؛ تبلیغِ دین کے تقاضوں، پاکستان کی سیاسی و سماجی صورتِ حال اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر ممتاز علمی و فکری شخصیات کے خطابات
وحدت نیوز نیٹ ورک (قم المقدسہ) : | ۲۱ و ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبہ قم کی معاونتِ مبلغین کے زیرِ اہتمام ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے مبلغین کے لیے دو روزہ علمی و تربیتی کارگاہ کا انعقاد کیا گیا۔ کارگاہ کا بنیادی مقصد مبلغین کی علمی، فکری، اخلاقی اور تبلیغی صلاحیتوں کو نکھارنے، انہیں عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور معاشرے میں مؤثر دینی و فکری رہنمائی کے لیے تیار کرنا تھا۔
کارگاہ کے پہلے روز تین اہم علمی و تربیتی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں ممتاز علمی و فکری شخصیات نے تبلیغِ دین کے بنیادی اصولوں، مبلغین کی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں، پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتِ حال اور خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
پہلی نشست: مؤثر تبلیغِ دین کے بنیادی تقاضے
پہلی نشست سے جامعہ آل البیت کے شعبۂ تربیت کے مسؤول ڈاکٹر مجید ہدایتشده نے ’’تبلیغ کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے عصرِ حاضر میں دینی تبلیغ کی اہمیت اور مبلغین کی بنیادی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اخلاصِ نیت، حسنِ اخلاق، علمی پختگی، فکری بصیرت اور مخاطب شناسی کو مؤثر تبلیغ کے بنیادی عناصر قرار دیا۔
انہوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ کامیاب تبلیغ محض علمی معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ مبلغ کے کردار، اس کے طرزِ گفتگو، اخلاقی رویّے اور مخاطبین کے فکری و سماجی حالات سے آگاہی بھی اس عمل میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مبلغ کو چاہیے کہ وہ دینی پیغام کو حکمت، بصیرت اور مناسب اسلوب کے ساتھ پیش کرے، تاکہ اس کے اثرات انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نمایاں ہو سکیں۔
دوسری نشست: پاکستان کی سیاسی و اجتماعی صورتِ حال اور مجلس وحدت مسلمین کی ذمہ داریاں
دوسری نشست سے ڈاکٹر ناصر شیرازی نے خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان کی موجودہ سیاسی و اجتماعی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے قومی و اجتماعی مسائل، عوامی شعور کی بیداری اور موجودہ حالات میں مجلس وحدت مسلمین کے کردار و ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس امر کی اہمیت واضح کی کہ مبلغین دینی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ملک کے سیاسی و سماجی حالات اور معاشرے کو درپیش مسائل سے بھی آگاہی رکھیں، تاکہ وہ دینی بصیرت اور سماجی شعور کی روشنی میں عوام کی مؤثر رہنمائی کر سکیں۔ اس نشست میں مبلغین کو پاکستان کے معروضی حالات اور اجتماعی تقاضوں سے روشناس کرانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
تیسری نشست: خطے کی سیاسی صورتِ حال کا تجزیہ
تیسری نشست میں ڈاکٹر کوشکی نے ’’خطے کی سیاسی صورتِ حال کا تجزیہ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے علاقائی و عالمی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں، عالمی و علاقائی طاقتوں کے مفادات، محاذِ مزاحمت کی صورتِ حال اور جاری تنازعات کے مختلف پہلوؤں کا تجزیاتی جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے علاقائی و عالمی حالات کے فہم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر کی جانب توجہ دلائی کہ موجودہ دور میں مبلغین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اردگرد رونما ہونے والی تبدیلیوں کا درست ادراک رکھیں، تاکہ معاشرے میں فکری بصیرت، ذمہ دارانہ آگاہی اور مؤثر رہنمائی کا کردار ادا کر سکیں۔
عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تبلیغی تربیت
کارگاہ کی علمی و تربیتی نشستوں میں دینی تبلیغ کے روایتی موضوعات کے ساتھ عصرِ حاضر کے فکری، سماجی اور سیاسی چیلنجز کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔ اس کا مقصد مبلغین کی ایسی ہمہ جہت تربیت کے لیے علمی بنیاد فراہم کرنا تھا جس کے ذریعے وہ دینی تعلیمات کی ترویج کے ساتھ معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں مؤثر رہنمائی کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کر سکیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبہ قم کی معاونتِ مبلغین کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس دو روزہ کارگاہ کا بنیادی ہدف ایامِ فاطمیہ کے دوران تبلیغی فرائض انجام دینے والے مبلغین کی علمی و عملی استعداد میں اضافہ اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ وہ سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور اسلامی اقدار کے پیغام کو مؤثر، مدلل اور بصیرت افروز انداز میں معاشرے تک پہنچا سکیں۔








