سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کا حکومت سے جنگ میں شمولیت کے اسباب واضح کرنے پر زور؛ کہا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کے درمیان تصادم کا حصہ بننے کے بجائے مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد)، 19 اکتوبر 2026ء (پیر): مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین اور قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور کسی بھی فوجی اقدام کے اسباب و محرکات واضح کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو جنگ کا حصہ بننے کے بجائے سفارتی ذرائع، مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے تنازع کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے مخاطب ہو کر کہا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر پارلیمان کو لاعلم رکھنا تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ میں پاکستان کی شمولیت ایک حساس قومی معاملہ ہے، جس پر پارلیمان اور سینیٹ کو تفصیلی بریفنگ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس اہم معاملے پر نہ تو پارلیمان کا اِن کیمرا اجلاس منعقد کیا گیا اور نہ ہی ارکان کو پاکستان کی شمولیت کے اسباب اور حکومتی فیصلوں کے پس منظر سے آگاہ کیا گیا۔
2015ء کی متفقہ پارلیمانی قرارداد پر عمل درآمد کا مطالبہ
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یاد دلایا کہ پاکستانی پارلیمان نے 2015ء میں متفقہ قرارداد کے ذریعے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ میں پاکستان کو غیر جانب دار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اب اس پالیسی سے انحراف کیا جا رہا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں اور یہ فیصلہ کس اختیار کے تحت کیا گیا ہے؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب اور یمن کی صورتِ حال، پاکستان کے موجودہ مؤقف اور ممکنہ فوجی شمولیت سے متعلق تمام اہم معلومات پارلیمان کے سامنے پیش کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں عوام کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینا آئینی و جمہوری تقاضا ہے۔
یمنیوں کی اسلامی شناخت پر سوال اٹھانے کی مخالفت
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں یمن کے عوام کے خلاف تکفیری بیانیے اور ان کی اسلامی شناخت کو مشکوک بنانے کی کوششوں کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو کسی مسلمان کی تکفیر یا اس کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے یمن کے حوثیوں کے نسب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق ساداتِ حسنی سے ہے، جن کا نسب امام حسن مجتبیٰؑ کے ذریعے اہلِ بیتِ رسولؐ سے جا ملتا ہے۔ انہوں نے یمن کی تاریخی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے اس خاندان کی طویل حکمرانی کی تاریخ بھی بیان کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے زور دیا کہ یمن کے عوام کو اسلامی معاشرے کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ معاملے میں مذہبی احترام، انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی اور مسلکی اختلافات کو جنگ اور تشدد کا ذریعہ بنانا مسلم دنیا کے مفاد میں نہیں۔
پاکستان یمن جنگ میں فریق بننے کے بجائے ثالثی کرے
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین نے انکشاف کیا کہ ان کے بقول یمنی فریق متعدد مرتبہ پاکستان سے جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کر چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ چکے ہیں اور وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کر کے سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کے درمیان جنگ میں فریق بننے کے بجائے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا، خطے میں امن قائم کرنا اور تنازعات کا سیاسی حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے مطابق سفارتی کوششیں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں مدد دے سکتی ہیں بلکہ خطے کو مزید تباہی اور عدم استحکام سے بچانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
معاشی اور سکیورٹی بحران میں نئی جنگ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگی
سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات اور سکیورٹی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک اس وقت کسی نئے فوجی تنازع کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ، داخلی سلامتی کے مسائل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی مشکلات پہلے ہی ریاست کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔ ایسے حالات میں ایک نئی جنگ میں شمولیت ملک کے داخلی استحکام اور قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کسی بھی فوجی فیصلے سے قبل اس کے معاشی، سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور قومی مفاد کو ہر دوسری ترجیح پر مقدم رکھا جائے۔
انہوں نے یمنیوں پر مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کو نشانہ بنانے سے متعلق عائد کیے جانے والے الزامات کو بھی جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی۔
جنگ نہیں، مذاکرات اور امن پاکستان کی ترجیح ہونی چاہیے
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ پاکستان کو یمن کے خلاف جنگ میں شمولیت سے متعلق اپنے مؤقف اور فیصلوں کو پارلیمان کے سامنے واضح کرنا چاہیے اور مسلم ممالک کے درمیان تصادم کو بڑھانے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے عملی سفارتی اقدامات کرنے چاہییں۔
انہوں نے پارلیمانی نگرانی، قومی خودمختاری، مذہبی رواداری اور علاقائی امن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ممکنہ فوجی شمولیت پر نظرثانی کرے اور جنگ بندی، مذاکرات اور ثالثی کے راستے کو ترجیح دے۔
ان کے مطابق پاکستان کی ذمہ داری جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا نہیں، بلکہ تنازع کے خاتمے، مسلم دنیا میں اتحاد اور خطے کے امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔








