اپوزیشن لیڈر کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سوال، عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے اور سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور
وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : 13 اکتوبر 2026ء
قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ، آئین کی بالادستی، بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات، جمہوری اقدار کے احترام اور آئینی تقاضوں کی پاسداری پر زور دیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آئینی تقاضوں اور عوام کے جمہوری حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے صوبے کی صورتِ حال اور حکومتی فیصلوں کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ کیا ایمرجنسی کا نفاذ ہی واحد راستہ تھا؟
اپوزیشن لیڈر نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو ریاست کی اہم ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ آئین کی پامالی کی صورت میں عوام کی امانت اور اعتماد کے تقاضے کیسے پورے کیے جا سکتے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کی جانی چاہییں، کیونکہ سیاسی اختلافات کا حل محاذ آرائی کے بجائے مکالمے میں تلاش کرنا جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے سیاسی اختلافِ رائے کے احترام پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سیاسی سرگرمیوں اور مخالف آوازوں کو محدود کرنے سے جمہوری عمل متاثر ہو سکتا ہے اور عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال کا تقابل کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جو آئینی حدود، عوامی حقوق اور سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے گورنر کے بعض بیانات اور حکومتی اقدامات پر بھی تنقید کی اور سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے مکالمے، عوامی اعتماد کی بحالی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے خطاب کا مرکزی نکتہ آئین کی بالادستی، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، عوامی حقوق کے احترام اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت تھا۔ ان کے مؤقف کے مطابق ملک میں پائیدار سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے اور سیاسی عمل میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھا جائے۔








