مقالات اور مضامین

“27 ستمبر 2024ء — ایک ناقابلِ فراموش دن”

“27 ستمبر 2024ء — ایک ناقابلِ فراموش دن”

تحریر: ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی

27 ستمبر 2024ء وہ دن ہے جسے بھلانا ممکن نہیں۔ یہ وہ دن تھا جب مظلوموں کے دلوں کی دھڑکن، پابرہنوں کے حامی و مددگار اور ظالموں کی آنکھوں کا کانٹا، دشمن کے منظم حملے کا نشانہ بنا۔ اس کے ٹھکانے پر آسی ٹن سے زیادہ وزنی بم برسائے گئے۔ اس واقعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دشمن کو اس مردِ مجاہد کے وجود سے کس قدر خوف اور اضطراب تھا اور وہ اسے کسی صورت برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہ تھا۔

وہ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے، قتل ہونے نے ان کے وجود کو ختم نہیں کیا؛ ان کی فکر، ان کا نظریہ، ان کی آواز، ان کی گفتار اور ان کا کردار مظلوموں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ وہ کس طرح فراموش کیے جا سکتے ہیں؟ وہ ایک ایسی آواز تھے جو خاموش ہوکر بھی آج تک کانوں میں گونج رہی ہے۔ ان کی فکر ایک راستہ تھی، ان کی گفتار ایک پیغام تھی اور ان کا کردار ایک عملی نمونہ تھا۔

وہ اپنے عہد میں امام خامنہ ای کے فکر و نظریے کے علمبردار تھے۔ اسی نسبت اور اسی تعلق کی گہرائی کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ امام خامنہ ای نے ان کی شہادت پر تین مرتبہ فرمایا: «من به جد عزادار هستم»؛ یعنی ’’میں حقیقتاً سوگوار ہوں، میں واقعی عزادار ہوں۔‘‘ ایسے وفادار علمبرداروں کی جدائی پر دل کا غمگین ہونا ایک فطری امر ہے، کیونکہ بعض شخصیات اپنے عہد سے آگے بڑھ کر ایک فکر، ایک مکتب اور ایک جدوجہد کی علامت بن جاتی ہیں۔

آج اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے دل پر ایک اور حقیقت بھی گراں گزرتی ہے کہ وہ علمبردار بھی اپنے حقیقی مولا کی بارگاہ میں حاضر ہوچکے اور وہ راہبر بھی اپنے پروردگار کے حضور جا پہنچے جن کی قیادت و رہنمائی ان کے لیے سرمایۂ حیات تھی۔ دونوں نے اس دنیا کو خیرآباد کہا اور اپنے حقیقی مولا، ربِ کائنات کے حضور حاضر ہوگئے۔ پروردگارِ عالم دونوں کے درجات بلند فرمائے، اپنی رحمتِ واسعہ میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی شفاعت ہمیں نصیب فرمائے۔

مجھے آج بھی وہ دن پوری شدت سے یاد ہے۔ میں اپنی بیٹی کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایران روانہ کرنے کے لیے لاہور جا رہا تھا۔ ابھی لاہور کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اچانک یہ خبر ملی کہ وہ عظیم انسان اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ خبر ایسی تھی جس نے وقت کو جیسے ایک لمحے کے لیے روک دیا ہو۔

میں آج بھی اس کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ نہ دل مان رہا تھا کہ یہ خبر حقیقت ہے، نہ ذہن اسے قبول کرنے پر آمادہ تھا۔ جس گھر میں داخل ہوا، وہاں بھی غم کی یہی کیفیت تھی؛ آنکھیں اشک بار تھیں، دل بوجھل تھے اور ہر شخص اس عظیم سانحے کے صدمے میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ کیسا دن تھا، اسے بیان کرنا آسان نہیں۔ بعض دن تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، انسان کی یادداشت اور قلبی احساس کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ 27 ستمبر 2024ء بھی میرے لیے ایسا ہی ایک دن ہے۔

وقت گزر جاتا ہے، چہرے نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور آوازیں خاموش ہوجاتی ہیں، مگر بعض انسان اپنی فکر، اپنے کردار اور اپنی جدوجہد کی وجہ سے وقت کے گزرنے سے مٹتے نہیں۔ وہ آج بھی مظلوموں کے دلوں میں زندہ ہیں، ان کی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے اور ان کی فکر آج بھی ان لوگوں کے لیے چراغِ راہ ہے جو حق، آزادی اور مظلوموں کی حمایت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان عظیم علمبرداروں کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنے قربِ خاص سے سرفراز فرمائے، ان کی شفاعت ہمیں نصیب کرے اور ہمیں ان کے اخلاص، استقامت، وفاداری اور حق پسندی سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *