اہم خبریں

مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام تخت فولاد اور گلستان شہداء کا معرفتی و زیارتی دورہ

وحدت نیوز نیٹ ورک (اصفہان) : مجلس وحدت مسلمین شعبہ اصفہان کے زیرِ اہتمام تخت فولاد اور گلستان شہداء اصفہان کا معرفتی و زیارتی دورہ منعقد ہوا، جس میں طلاب کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

دورے کے دوران شرکاء نے تاریخی قبرستان تخت فولاد میں مدفون بزرگ عرفا، علما اور شخصیات کے مزارات پر حاضری دی۔ اس موقع پر بابا رکن الدین، جہانگیر خان قشقائی، فاضل ہندی، سید العراقین، آیت اللہ مستجاب الدعواتی، آیت اللہ شوشتری، آیت اللہ عبدالہی اور آیت اللہ رحیم ارباب سمیت دیگر بزرگ شخصیات کے مزارات پر فاتحہ خوانی اور زیارت کی گئی۔

اس موقع پر برادر محترم آقای عباس رئیسی نے مدفون عرفا و علما کی علمی، روحانی اور عرفانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اور جامع گفتگو کرتے ہوئے ان کی دینی و علمی خدمات کو اجاگر کیا۔

بعد ازاں شرکاء نے گلستان شہداء اصفہان کا بھی دورہ کیا اور آیت اللہ عارف عامل ماصری، شہید کاظمی، شہید ذاہدی، شہید نیلفروشان، شہید محمدرضا تورجی زادہ، شہدائے 12 روزہ جنگ اور شہدائے جنگ تحمیلی رمضان سمیت دیگر شہداء کے مزارات پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین شعبہ اصفہان کے صدر مولانا سید محسن نقوی نے شہداء کی زندگی، جدوجہد اور قربانیوں کے حوالے سے مختصر اور جامع خطاب کیا، جبکہ مولانا سلیم آرزو نے شہداء کی یاد میں ترانہ پیش کیا۔

مقررین نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ گلستان شہداء اصفہان میں تقریباً 8 ہزار شہداء مدفون ہیں، جبکہ اصفہان کی سرزمین نے انقلاب اسلامی سے لے کر آج تک تقریباً 24 ہزار شہداء کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

تخت فولاد اصفہان کو تاریخی اور روحانی اعتبار سے اہم قبرستان قرار دیتے ہوئے شرکاء کو اس کے تاریخی پس منظر اور یہاں مدفون علما و عرفا کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اسی مقام پر معروف تاریخی و مقدس مقام لسان الارض بھی واقع ہے، جس سے متعلق تاریخی روایات میں اس سرزمین کی روحانی نسبت اور اہمیت بیان کی گئی ہے۔

دورے کے اختتام پر شرکاء کے لیے طعام کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس معرفتی و زیارتی پروگرام کا مقصد طلاب کو اصفہان کی تاریخی، علمی و روحانی میراث اور شہداء کی عظیم قربانیوں سے روشناس کرانا تھا۔

مجلس وحدت مسلمین شعبہ اصفہان

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *