وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی حیثیت اور اختیارات کو ختم کرنے والے ممالک کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا آئین پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیتا ہے، لہٰذا آئین اور پارلیمانی نظام کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک میں بلدیاتی اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنانا ایک اہم قومی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بلدیاتی نظام کو مؤثر اور بااختیار بنانے کے لیے ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کو مشترکہ لائحۂ عمل کے لیے مدعو کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور باہمی مشاورت کے لیے مختلف اہم قومی معاملات، بشمول صوبوں سے متعلق امور، ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ نے آئینی ترامیم کے حوالے سے کہا کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل ارکانِ پارلیمنٹ کو اس کا جائزہ لینے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ انہوں نے آئینی ترامیم سے متعلق معلومات کو خفیہ طور پر لیک کیے جانے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات پارلیمنٹ کے تقدس اور وقار کے منافی ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اور انہیں اندھیرے میں رکھ کر کیے جانے والے فیصلوں کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی معاہدوں اور اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا ملک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے 1970 کے انتخابات کے بعد کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 کے انتخابات میں بھی عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حقیقی اور عوامی نمائندگی رکھنے والے سیاستدانوں کو کمزور کرکے جمہوریت مضبوط نہیں کی جا سکتی۔ سیاستدانوں کو کمزور کرنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت سیاسی راستے اور سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام یا سیاسی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا، ہم اس نوعیت کے کسی سیاسی ایڈونچر کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہمارے لیے عوام، آئین اور قانون سب سے مقدم ہیں اور ہم کسی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی سیاست نہیں کرنا چاہتے۔
قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ نے کہا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے غیر سیاسی قوتوں کے بجائے سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات اور بات چیت کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین سے وفاداری کا حلف اٹھانے والے ہر فرد پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین طاقتور افراد کے لیے کھلونا نہیں بلکہ ایک مقدس قومی دستاویز ہے، جس کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار اللہ کی امانت ہے اور اسے کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حکومتی ذمہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزراء اپنے منصب کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے پابند ہیں جبکہ وزیراعظم بحیثیت چیف ایگزیکٹو ملکی معاملات اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے جواب دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین واضح اور ترقی پسند ہے، تاہم اس کی اصل روح کو متاثر کرنے کی کوششیں تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اخلاقی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے اور حکومت کے ہر ایسے اقدام پر پارلیمنٹ کے اندر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی جو عوامی مفاد، آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہو۔








