وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملک کی موجودہ سیاسی، عدالتی اور معاشی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں طاقت ہی حق بن چکی ہے اور حالات ’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘ کے مصداق بنا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے، جبکہ عدلیہ اپنی ساکھ، استقلال اور خودمختاری کھو چکی ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے بلکہ فیصلے لکھوائے اور ڈکٹیٹ کیے جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور پولیس کے ذریعے عوام پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ تمام حقائق روزانہ اخبارات میں واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو غیر متعلق بنا دیا گیا ہے اور پارلیمنٹ بھی اپنی حیثیت کھو چکی ہے۔ ملک میں جو کچھ دکھائی دے رہا ہے وہ کھنڈرات ہیں، حتیٰ کہ عدلیہ کی عمارتیں بھی معنوی طور پر کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل ناپید ہے اور عدل و انصاف کا سرِعام قتل ہو رہا ہے۔
سربراہ مجلس وحدت مسلمین نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہو رہی بلکہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پولیس، عدلیہ اور بیوروکریسی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ایک طرف ریاستِ پاکستان اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے اور دوسری طرف بدترین مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، اس کے باوجود ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوے فیصد اکثریت کھڑی ہے، اور جو بھی آج ان کا مخالف ہے وہ دراصل ظلم اور ناانصافی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مایوس اور ناامید کرنے کی کوششیں دراصل مخالفین کی بزدلی اور خوف کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس وقت ملک عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ بیرونِ ملک جا کر کیے جانے والے فیصلے اور معاہدے عوامی تائید سے محروم ہیں اور پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے حالیہ عدالتی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے مقدمات جنوری سے ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں مگر ان کی سماعت نہیں ہو رہی، جو واضح طور پر ’’پک اینڈ چوز‘‘ کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ من پسند فیصلے کیے جا رہے ہیں اور یہ سب خوف کے سائے میں ہو رہا ہے۔
بیان کے اختتام پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے دعا کی کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی قائم ہو، عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے اور قوم کو ظالم، نااہل اور جابر عناصر سے نجات نصیب ہو۔
پاکستان میں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے، طاقت ہی حق بن چکی ہے، عمران خان کے ساتھ 90 فیصد عوام کھڑے ہیں: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
Shares:








