وحدت نیوز نیٹورک (اسلام آباد )–مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور سینیٹر، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حکومت کی جانب سے زائرینِ کربلا کے لیے زمینی راستے پر عائد پابندی کو غیر آئینی، غیر انسانی اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ خود زائرین کے ہمراہ ریمدان بارڈر کی جانب مارچ کریں گے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا:
“ہم اس غیر منصفانہ حکومتی فیصلے کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔ وزیر داخلہ نے یکطرفہ اور آمرانہ فیصلہ کرتے ہوئے ملتِ جعفریہ کو نظرانداز کیا اور انہیں کیڑے مکوڑوں کی مانند سمجھا۔ یہ فیصلہ آئین، اخلاق، شریعت، اور انسانی حقوق کے سراسر خلاف ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
“ہم نے حکومت سے مذاکرات کی کوشش کی، سینیٹ کی کمیٹی اور وزارتِ مذہبی امور کے ذریعے مسئلہ اُٹھایا، لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ کابینہ کو اس فیصلے کی خبر تک نہیں۔ حکومت نے غریب زائرین کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور ان کے بنیادی مذہبی حقوق کو پامال کیا۔”
علامہ راجہ ناصر عباس نے انکشاف کیا کہ:
“ایران کے سفیر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ریمدان بارڈر پر زائرین کو ویزا فراہم کیا جائے گا۔ میں خود ویزا حاصل کرچکا ہوں، اور تمام عاشقانِ حسین (ع) سے اپیل کرتا ہوں کہ کراچی میں جمع ہوں، جہاں سے ہم بذریعہ بس ریمدان کی جانب روانہ ہوں گے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ:
“ہم ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت نے ہمیں مشورے کے قابل نہ سمجھا، اور کوئی متبادل راستہ بھی نہیں سوچا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خاموش رہیں گے؟ ہرگز نہیں! میں خود آپ کے ساتھ چلوں گا۔ تمام مومنین سے کہتا ہوں: تیار رہیں! ہم اس بے حس حکومت سے نہیں ڈرتے اور اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہمارا پہلا پڑاؤ کراچی ہوگا، اور پھر ریمدان کی جانب روانگی۔ إن شاء اللہ۔ جلد ہی روانگی کی تاریخ اور دن کا اعلان کیا جائے گا۔”
آخر میں انہوں نے کہا:
“یہ ہمارا امام حسین (ع) سے عہد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اموی و عباسی ادوار میں بھی شیعیانِ حیدر کرار نے ہاتھ کٹوا دیے، مگر زیارتِ امام حسین (ع) ترک نہ کی۔ ہم بھی ہر قیمت پر زیارت کریں گے، چاہے جو قربانی دینا پڑے۔”
اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ سید ظہیر الحسن کربلائی اور سید ناصر عباس شیرازی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔








