اہم خبریںپاکستان کی خبریں

حضرت زینبؑ کا حماسی کردار اور رنگِ الٰہی میں ڈھلی ہوئی زندگی، حجۃ الاسلام سید صادق رضا تقوی کا خطاب

وحدت نیوز نیٹ ورک (مشہد مقدس) : 16 اکتوبر 2026ء مؤسسہ شہید عارف الحسینی، دفتر مجلس وحدت مسلمین شعبۂ مشہد مقدس کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہفتہ وار دعائے ندبہ اور علمی نشست میں پاکستان سے تشریف لائے ممتاز عالمِ دین حجۃ الاسلام والمسلمین سید صادق رضا تقوی نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی عظیم شخصیت، حماسی کردار، صبر و استقامت اور معرفتِ الٰہی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے آپؑ کی سیرت کو حق و حقیقت کے راستے پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے کامل نمونۂ عمل قرار دیا۔

ہفتہ وار یہ پروگرام برادر سید قاسم شمسی کی میزبانی میں ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں دعائے ندبہ کے بعد علمی نشست کا اہتمام کیا گیا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید صادق رضا تقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا حماسی کردار، بے مثال استقامت اور معرفتِ الٰہی تاریخِ اسلام کا روشن باب ہے۔ انہوں نے حاج بوترابی کی گفتگو اور تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
«ما رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا»؛ معرفتِ الٰہی کی عظیم منزل

سخنران نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تاریخی جملے **«ما رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا» (میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا)** کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس کلام کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ان کٹھن حالات کا تصور کرنا ضروری ہے جن میں سیدہؑ نے یہ الفاظ ادا فرمائے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت، اہلِ بیتؑ اور خاندان کے دیگر افراد کی قربانیوں اور اسیری کی صعوبتوں کے باوجود خدا کی رضا اور اس کی حکمت کے سوا کچھ نہ دیکھنا غیر معمولی معرفت، صبر اور مقامِ تسلیم کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید ترین مصائب اور مظالم کے درمیان بھی رضائے الٰہی پر کامل اعتماد برقرار رکھنا عظیم الٰہی شخصیات کی سیرت کا نمایاں وصف ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا یہ جملہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ معرفتِ خداوندی، روحانی بلندی اور رضائے الٰہی کے سامنے کامل تسلیم کا آئینہ دار ہے۔
سیدہ زینبؑ؛ ترجمانِ کربلا اور عظمتِ علوی کی مظہر

حجۃ الاسلام والمسلمین سید صادق رضا تقوی نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے اپنے کردار، خطبات، شجاعت اور قربانیوں کے ذریعے اپنے والدِ گرامی امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تربیت کے گہرے اثرات کو نمایاں کیا۔ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت علم، شجاعت، عدل اور حکمت کا مظہر ہے، جبکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی ان اعلیٰ انسانی و الٰہی اقدار کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ترجمانِ کربلا کہنا بجا ہے، کیونکہ آپؑ نے اپنے خطبات اور بے مثال استقامت کے ذریعے امام حسین علیہ السلام کے قیام اور پیغامِ کربلا کو دنیا تک پہنچایا۔ آپؑ نے اسیری کے باوجود حق کی آواز بلند کی اور ظلم و استبداد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے صبر، شجاعت اور بصیرت کی تاریخ رقم کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے معرفت و بصیرت درکار ہے، اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کلام، بالخصوص «ما رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا» کی حقیقت تک رسائی کے لیے بھی گہری معرفتِ الٰہی ضروری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کلام کی معنوی عظمت اور گہرائی مزید نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔
عظیم شخصیات کے کلام کی تفہیم کے لیے بصیرت ضروری ہے

سخنران نے عصرِ حاضر میں رہبرِ شہید کے افکار و کلام کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عظیم شخصیات کی گفتگو میں بعض اوقات ایسے عمیق معانی اور نکات پوشیدہ ہوتے ہیں جن کا ادراک فوری طور پر آسان نہیں ہوتا۔ ان افکار کی حقیقی تفہیم کے لیے غور و فکر، بصیرت اور گہری معرفت ضروری ہے۔
رنگِ الٰہی اختیار کرنا، قربِ خداوندی کا راستہ

حجۃ الاسلام والمسلمین سید صادق رضا تقوی نے اپنے خطاب کے اختتام پر معرفتِ الٰہی اور قربِ خداوندی کے موضوع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کے لیے خدا کے قرب کی جانب پیش رفت کا ایک بنیادی راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو رنگِ الٰہی میں رنگ لے، اپنے افکار، کردار اور اعمال کو الٰہی تعلیمات کے مطابق ڈھالے اور ہر حال میں رضائے خداوندی کو مقدم رکھے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے جملے «ما رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا» کی حقیقی معنویت کو وہی شخص بہتر طور پر درک کر سکتا ہے جو معرفتِ خداوندی کے راستے پر گامزن ہو اور اپنی زندگی کو رضائے الٰہی کے تابع بنانے کی کوشش کرے۔ اگر انسان اپنے کردار و عمل میں رنگِ خدا اختیار کرے تو وہ قربِ الٰہی کی منزل کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔
خصوصی دعائیہ اختتام

پروگرام کے اختتام پر امام خمینیؒ، رہبرِ شہید اور شہدائے اسلام کے درجات کی بلندی، رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی طولِ عمر اور دشمنانِ اسلام کی نابودی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *