مؤسسۂ شہید عارف الحسینی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار نشست؛ حجۃ الاسلام والمسلمین الفت حسین جویا کا خطاب، سیدہؑ کی سیرت کو ظلم و استبداد کے مقابلے میں نمونۂ عمل قرار دیا
وحدت نیوز نیٹ ورک (مشہد مقدس): مؤسسۂ شہید عارف الحسینی، دفترِ مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبۂ مشہد مقدس کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں حجۃ الاسلام والمسلمین جناب الفت حسین جویا نے سیدۂ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرتِ طیبہ، کردار اور اسوۂ مقاومت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
اپنے خطاب میں حجۃ الاسلام والمسلمین الفت حسین جویا نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی حق پر استقامت، ظلم کے خلاف صدائے احتجاج اور ولایت کے دفاع کی ایک روشن مثال ہے۔ عصرِ حاضر میں سیدہؑ کی سیرت اور طرزِ عمل ظلم و استبداد کے مقابلے میں امتِ مسلمہ کے لیے بہترین نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنابِ سیدہؑ نے اپنی بصیرت، جرأت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ولایت کے دفاع اور حق و حقیقت کی پاسداری میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ آپؑ کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق کے دفاع کے لیے شعور، استقامت اور اصولوں سے وابستگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
مقرر نے اس امر پر زور دیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت صرف خواتین ہی نہیں، بلکہ تمام اہلِ ایمان کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ سیدہؑ کی تعلیمات یہ درس دیتی ہیں کہ ظلم و ناانصافی کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے حق، ولایت اور عدل کے دفاع کے لیے بصیرت اور جرأت کے ساتھ کردار ادا کیا جائے۔
انہوں نے سیدۂ طاہرہؑ کی حیاتِ مبارکہ کو امتِ مسلمہ کے لیے بیداری، استقامت اور مقاومت کا روشن چراغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کے اسوۂ عمل کو اپنانا موجودہ دور کے فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
نشست کے اختتام پر عالمِ اسلام کی سربلندی، مظلومینِ جہاں کی کامیابی، امتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت اور حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورِ پُرنور کے لیے دعا کی گئی۔








