ہم نے پاکستان کیوں بنایا تھا؟
تحریر : ڈاکٹر نذر حافی
میں ایک لکھاری ہوں۔حسبِ توفیق کچھ طلبا کی خدمت میں بھی حاضر ہوتا رہتا ہوں۔قارئین اور طلبا مجھ جیسوں سے یہ سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ اگر پڑوسی کا گھر جل رہا ہو تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جلنے دو چونکہ اس سے کم از کم ہمارے گھر میں تو روشنی ہو رہی ہے۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے ملک میں ناانصافی ہو رہی ہو تو کیا اس سے یہ جواز فراہم ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ہونے دو۔ ہمیں پاکستان اور بھارت کے تقابل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر بھارت کی کمزوریوں، وہاں کے مسلمانوں کے مسائل، مذہبی کشیدگی، ہجومی تشدد، نفرت انگیزی ، مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم، اسرائیل کے ساتھ روابط، یا ریاستی ناانصافیوں کو گنواتے ہوئے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب یہ سب پاکستان کیلئے بھی جائز ہو گیا ہے ۔
کیا ہم اپنے دینی مدارس، سکول و کالجز نیز یونیورسٹی کے طلبا کو اس سوال کا درست جواب دے سکتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کیوں بنایا تھا؟ کرکٹ کے میدان میں فتح خوشی دے سکتی ہے، جنگ میں کامیابی غرور پیدا کر سکتی ہے اور معاشی ترقی ریاست کو طاقتور بنا سکتی ہے لیکن انسانی عظمت کا پیمانہ ان سب سے بلند ہے۔کیا مسلمانوں کی عظمت کا وہ خواب جس کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا آج ہماری نوجوان نسل کے نئے لکھاریوں کی آنکھوں میں بھی موجود ہے؟ نئی نسل اے آئی کے دور میں اتنا تو خود بخود سمجھنے لگی ہے کہ کسی ریاست کی اصل عظمت اس کے رقبے، فوج، دولت یا آبادی سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہری کو کتنا محفوظ، آزاد، باعزت اور برابر سمجھتی ہے۔ ریاست کی حقیقی عظمت اس کے شیش محلات کے بجائے اس کی گلیوں میں ہوتی ہے، اس کی عوامی طاقت اشرافیہ کے کے بجائے عام شہری میں ہوتی ہے، اور اس کی رِٹ عددی اکثریت کے بجائے انصاف پسند اقلیت میں ہوتی ہے۔
ہم گزشتہ کالم میں یہ عرض کر چکے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کا قیام بھی اسی مسئلے سے جڑا ہوا تھا۔ 1947ء کے مسلمانوں کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ ہندوستان میں کتنی تعداد میں ہیں، اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنی مذہبی، تہذیبی اور سیاسی شناخت کے ساتھ کس مقام پر زندگی گزاریں گے۔
پاکستان کا تصور اسی اجتماعی خود اختیاری کی خواہش سے پیدا ہوا تھا کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں اور اپنی شناخت کے ساتھ ایک آزاد سیاسی وجود رکھیں۔ اس پس منظر میں آج جب ہم بھارت کو دیکھتے ہیں تو وہاں کے مسلمانوں کی صورتِ حال کو پاکستان میں مسلمانوں کی ابتری کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔
بھارت میں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں، مگر آبادی کی کثرت ہمیشہ طاقت کی ضمانت نہیں ہوتی۔ تاریخ میں ایسی قومیں بھی گزری ہیں جو تعداد میں بہت بڑی تھیں مگر سیاسی، معاشی یا قانونی طور پر کمزور رہیں۔ بھارت کی سچر کمیٹی کی 2006ء کی رپورٹ نے مسلمانوں کی تعلیم، روزگار، سرکاری ملازمت، معاشی مواقع اور بعض بنیادی سہولیات میں پسماندگی کی نشاندہی کی تھی۔ یہ رپورٹ آج کے بھارت کی مکمل تصویر نہیں، لیکن تاریخی محرومی کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سرکاری حوالہ ضرور ہے۔ اگر ایک عام مسلمان جتنا کمزور بھارت میں ہے اتنا ہی کمزور پاکستان میں بھی ہے تو پھر پاکستان میں اس کے حقوق کون غصب کر رہا ہے؟ اس سوال کا جواب دئیے بغیر قیامِ پاکستان کا ہدف کیسے پورا ہوگا؟
حالیہ برسوں میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد، سماجی مقاطعے اور بعض انتظامی اقدامات نے بھی قانون کی حکمرانی کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسی ہی نفرت انگیز تقاریر پاکستان میں مسلمان بھی ایکدوسرے کے خلاف کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کو 2024ء میں یہ اصول واضح کرنا پڑا کہ محض کسی شخص کے ملزم یا مجرم ہونے کی بنیاد پر اس کی جائیداد کو مناسب قانونی کارروائی کے بغیر منہدم نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست اس وقت مہذب نہیں ہوتی جب اس کے پاس بے پناہ طاقت ہو، ریاست اس وقت مہذب ہوتی ہے جب وہ اپنی طاقت کو بھی قانون کے سامنے محدود رکھنے پر آمادہ ہو۔ اگر جرم کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے تو الزام کو سزا میں تبدیل کرنے کا اختیار انتظامیہ کو کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اگر گھر عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی گرا دیا جائے تو پھر عدالتی انصاف کس چیز کا نام رہ جاتا ہے؟ بھارتی عدالت نے کم از کم کوئی فیصلہ تو کیا لیکن پاکستان میں جہادِ افغانستان کے نام پر عام شہریوں و عام مسلمانوں کو جس آگ کا ایندھن بنایا گیا اُس پر تو عدالتیں گنگ ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی مختلف مواقع پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیزی، تشدد اور امتیازی رویوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بعض ہندوتوا تنظیموں اور گروہوں کے کارکنوں پر مسلمانوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں، مقاطعے اور اشتعال انگیزی کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ کسی ہندو تنظیم کے بعض کارکنوں کا جرم تمام ہندوؤں کا جرم نہیں، جس طرح کسی مسلمان کا جرم تمام مسلمانوں کا جرم نہیں۔ تاہم پاکستان میں انسانی کُشی اور برادر کُشی کی بنیاد فراہم کرنے والوں کے حوالے سے ریاستی سطح پر مکمل پردہ پوشی اور سرد مہری ہے۔
انصاف صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کی غلطی دیکھیں، انصاف یہ بھی ہے کہ ہم اپنے فیصلے میں تعصب کو داخل نہ ہونے دیں۔ نفرت بھی اسی مقام سے جنم لیتی ہے۔ پہلے لفظ کسی انسان کو “دوسرا” بناتے ہیں، پھر “کم تر” اور بالآخر کبھی یہی فاصلہ تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ مذہب جب انسان کو اخلاقی بلندی دینے کے بجائے سیاسی غلبے کا ہتھیار بن جائے تو مقدس علامتیں انسانی جان اور انسانی وقار سے زیادہ اہم قرار پانے لگتی ہیں۔ حالانکہ کسی مذہب کی حقیقی اخلاقی عظمت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ طاقتور انسان کو کمزور انسان کے ساتھ کیا سلوک کرنا سکھاتا ہے۔
دوسری طرف پاکستان کا تاریخی جواز محض مسلم اکثریت کا قیام نہیں تھا۔ اس کا جواز ایک ایسی اجتماعی آزادی کا حصول تھا جس میں مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی اور سیاسی شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور اپنی اجتماعی زندگی کے فیصلے خود کریں۔ اس تصور کی تکمیل اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کا عام مسلمان اشرافیہ و غیر اشرافیہ کی تقسیم سے آزاد ہو جائے۔ آج آزادی کے تقریباً اسّی برس کے بعد کیا عام پاکستانی کے بچوں کو اشرافیہ جیسی تعلیم و صحت نیز ٹرانسپورٹ و قانونی سہولیات دستیاب ہیں۔ کیا عام پاکستانی کیلئے ملک میں تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع یکساں ہیں؟ کیا سیاسی اختلافِ رائے کو ریاست سے دشمنی سمجھنے کا رجحان کم ہوا ہے؟ کیا مذہبی اختلاف کے باوجود انسان کی جان، عزت اور شہری حقوق محفوظ ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ کیا پاکستان نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ آزاد ہوں اور غیر مسلم شہری اپنے ایمان کے ساتھ محفوظ؟
بھارت اگر اپنے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے تو یہ بھارت کی ناکامی ہے، پاکستان کی کامیابی نہیں۔ پاکستان اگر اپنے شہریوں کو انصاف نہیں دیتا تو بھارت کی خرابیاں پاکستان کے لیے کوئی عذر نہیں بن سکتیں۔دو غلطیاں مل کر ایک درست ریاست نہیں بناتیں۔
ہمیں اس سے غرض نہیں کہ بھارت ہم سے کتنا خراب ہے، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اپنے دعوے کے مطابق عام مسلمانوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں کتنا کامیاب ہوا ہے۔ جو قوم اپنے وجود کو اسلام کے اقتدارِ اعلیٰ اور اپنے قیام کو مسلمانوں کی حقیقی آزادی سے جوڑتی ہے، اس کے لیے کامیابی کا معیار دوسروں کی کمزوری نہیں ہو سکتا۔ اسے اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ کیا اس نے عدل و انصاف، دفتری نظام، نیز تعلیم و صحت کو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں رکھا؟ کیا اس نے آزادی کو اپنے حامی اور مخالف دونوں کے لیے یکساں سمجھا؟ کیا اس نے مذہب کو انسان کی عزت بڑھانے کا ذریعہ بنایا یا سیاسی کشمکش کا ہتھیار ؟
کیا یہ سچ نہیں کہ ریاست کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ بھی قانون کے مطابق پیش آئے، اپنے ناقد کو بھی بولنے کا حق دے، اپنے اقلیتی شہری کو بھی اتنا ہی محفوظ رکھے جتنا اپنی اکثریت کو، اور اپنے طاقتور اداروں کو بھی قانون کا پابند بنائے۔ بھارت کی کمزوریاں ہمارے لیے عبرت ہو سکتی ہیں، تقابل کا حوالہ ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ ایک آئینہ بھی ہو سکتی ہیں، مگر کامیابی کا سرٹیفکیٹ نہیں۔پاکستان کی کامیابی دہلی کی ناکامی سے نہیں، اسلام آباد کے انصاف سے ثابت ہوگی۔
پاکستان اس روز ایک کامیاب ریاست کہلائے گا جس روز ایک عام شہری، کسی خوف، سفارش اور طاقت کے بغیر، رات کو اپنے گھر کا دروازہ بند کرتے ہوئے یہ یقین رکھ سکے گا کہ اس کی جان، عزت، آزادی اور حقِ ملکیت کو کسی فرد، جماعت، اکثریت یا حکمران کی مرضی سے کوئی خطرہ نہیں چونکہ قانون اس کی حفاظت کر رہا ہے۔ المختصر یہ کہ پاکستان اس لئے نہیں بنایا گیا تھا کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ بھارت ہم سے کتنا برا ہے ۔۔۔








