وحدت نیوز نیٹ ورک: (قم/ایران): مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبۂ امورِ خارجہ کے سربراہ ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے آئین و قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی اختلافات کے حل کے لیے غیر معمولی اقدامات، عدلیہ کو سیاسی کشمکش میں گھسیٹنے اور طاقت کے بے جا استعمال سے ملک میں جمہوری عمل، قومی یکجہتی اور داخلی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے اپنے بیان میں کہا کہ عوامی رائے کو نظرانداز کرنا اور آئینی حدود سے تجاوز کرنا تشویش ناک امر ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے اور وہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کی دو تہائی اکثریت سے منتخب ہوئے ہیں؛ اس لیے جمہوری عمل کے نتائج اور عوامی نمائندوں کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات کو آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنا ضروری ہے۔ غیر معمولی اقدامات کے ذریعے سیاسی مسائل سے نمٹنے کی کوششیں وفاق اور صوبوں کے مابین کشیدگی بڑھانے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے عدلیہ کی آزادی و غیر جانب داری کو یقینی بنانے اور اسے سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیاسی و معاشی بحران کے حل کے لیے قومی اتفاقِ رائے ناگزیر
سید شفقت شیرازی نے پاکستان کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال، دہشت گردانہ حملوں، معاشی مشکلات، مہنگائی اور سیاسی تقسیم جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں قومی اتفاقِ رائے کو فروغ دینے، آئین کی پاسداری اور ریاستی اداروں کے مابین اعتماد کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو سیاسی تصادم کو مزید ہوا دیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کے دوران طاقت کا بے جا استعمال اور منتخب اداروں کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوششیں عوامی بے چینی میں اضافے اور سیاسی تقسیم کو گہرا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے، عوام کے معاشی مسائل حل کرنے اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
حکومت سے آئینی راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ
ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ جبر اور غیر معمولی اقدامات کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور سنجیدہ سیاسی مشاورت کو ترجیح دیں۔ انہوں نے عدلیہ کی آزادی و غیر جانب داری کے تحفظ، منتخب صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات کے احترام اور سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور جمہوری مستقبل کا انحصار عوامی مینڈیٹ کے احترام، قانون کی حکمرانی اور آئینی اداروں کی خودمختاری پر ہے۔ موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے آئین کا تحفظ، قومی اتحاد کا فروغ اور سیاسی مکالمے کو مؤثر بنانا ناگزیر ہے، تاکہ شہریوں کے حقوق محفوظ رہیں اور وفاقی حکومت و صوبوں کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھا جا سکے۔








