مختلف ممالک کے علمائے کرام، سیاسی و دینی شخصیات اور مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں کی شرکت؛ مسئلۂ فلسطین، اتحادِ امت اور شہدائے مقاومت کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
وحدت نیوز نیٹ ورک (قم المقدسہ) :، یکم اکتوبر 2026ء: شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین اور مزاحمتی محاذ کے دیگر شہداء کی یاد میں مجلس وحدت مسلمین شعبۂ قم کے زیرِ اہتمام ’’شہدائے مقاومت کانفرنس‘‘ قم کے مرکزی کانفرنس ہال الغدیر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس میں حوزۂ علمیہ قم کے علمائے کرام، دینی و سیاسی شخصیات، مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں اور پاکستان سمیت مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود نے شرکت کی۔ مقررین نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت، فکری و تنظیمی خدمات، مسئلۂ فلسطین کے لیے ان کی جدوجہد اور مزاحمتی تحریکوں میں ان کے کردار پر اظہارِ خیال کیا۔
تلاوتِ قرآن، نعتِ رسولؐ اور ترانوں سے کانفرنس کا آغاز
تقریب کا باقاعدہ آغاز حجۃ الاسلام والمسلمین قاری بشارت امامی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں شہزاد حسین نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور شہید سید حسن نصراللہ کی یاد میں ترانۂ شہادت پیش کیا۔
گروہِ پیامِ اسلامی نے فارسی، عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں ترانے پیش کیے، جنہوں نے تقریب کے روحانی اور فکری ماحول کو مزید مؤثر بنایا۔
ناصر ابوشریف: شہید نصراللہ اسلامی مزاحمت کی نمایاں شخصیت تھے
کانفرنس کے پہلے مقرر تحریکِ جہادِ اسلامی فلسطین کے نمائندے ناصر ابوشریف تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت، قیادت، انتظامی صلاحیتوں اور مزاحمتی محاذ میں ان کے مقام پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے مسئلۂ فلسطین کی حمایت اور مزاحمتی تحریکوں کو منظم و مضبوط بنانے میں شہید نصراللہ کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلۂ فلسطین کی حمایت اور امتِ مسلمہ کا اتحاد خطے کے اہم اجتماعی تقاضوں میں شامل ہیں۔
ناصر ابوشریف نے شہید سید حسن نصراللہ کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور اسلامی اقوام کے باہمی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
یمن کے سفیر محمد ابراہیم الدیلمی کا خطاب، انصار اللہ سے متعلق الزامات کی تردید
کانفرنس سے اسلامی جمہوریہ ایران میں یمن کی انقلابی حکومت کے سفیر محمد ابراہیم الدیلمی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال، یمن، فلسطین اور لبنان کی مزاحمتی تحریکوں اور شہید سید حسن نصراللہ کی خدمات پر گفتگو کی۔
انہوں نے شہید نصراللہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مسئلۂ فلسطین اور مسجد الاقصیٰ کے دفاع کے لیے ان کی جدوجہد کا ذکر کیا۔
یمن کے سفیر نے انصار اللہ کے حوالے سے مقدس اسلامی مقامات پر حملے کے بعض الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا:
’’یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ مسجد الاقصیٰ کا دفاع کرتے ہیں، وہ کعبہ پر حملہ کریں؟‘‘
انہوں نے اپنے خطاب میں یمن کے خلاف 2015ء میں شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے اس وقت کی جانے والی کوششوں پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔
الدیلمی کے مطابق، ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستانی فوج یمن کے خلاف فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس مؤقف کو یمنی عوام کے لیے حمایت کا اہم اظہار قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ علاقائی صورتحال کے آغاز سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین راجہ ناصر عباس جعفری کے ساتھ ان کے رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، جس میں یمن سے متعلق امور اور خطے کی صورتحال زیرِ بحث آتی رہی ہے۔
حجۃ الاسلام نجف لک زائی: شہید نصراللہ نے انفرادی جذبوں کو منظم اجتماعی قوت میں تبدیل کیا
کانفرنس کے آخری مقرر حجۃ الاسلام والمسلمین نجف لک زائی، سربراہِ شعبۂ تحقیقات دفترِ تبلیغاتِ اسلامی حوزۂ علمیہ قم تھے۔
انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت کے تنظیمی اور اجتماعی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآنِ کریم کی آیت مبارکہ:
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ
کا حوالہ دیا اور منظم صف بندی کے قرآنی تصور کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح پر قربانی اور ایثار کا جذبہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، تاہم انفرادی صلاحیتوں اور جذبوں کو ایک منظم، متحد اور اجتماعی تحریک میں تبدیل کرنا ایک اہم تنظیمی صلاحیت ہے۔
ان کے مطابق شہید سید حسن نصراللہ کی نمایاں خصوصیات میں ایمان، ایثار اور قربانی کے انفرادی جذبوں کو اجتماعی نظم، تنظیمی استحکام اور مشترکہ مقاصد کے لیے بروئے کار لانے کی صلاحیت شامل تھی۔
علمائے کرام، پاکستانی شخصیات اور بین الاقوامی وفود کی شرکت
کانفرنس میں مختلف دینی و علمی شخصیات، مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں اور بین الاقوامی وفود نے شرکت کی۔ شرکاء میں آیت اللہ شیخ حسین، حجۃ الاسلام عبدالمحسن البقشی اور حوزۂ علمیہ آل البیت کے ذمہ دار سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔
پاکستان سے آیت اللہ سید شجاع حسینی، آیت اللہ شیخ باقر المقدسی، شیعہ علماء کونسل پاکستان اور تحریک بیداری امتِ اسلامی کے نمائندوں سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور اسلامی تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔
مختلف ممالک اور اداروں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی موجودگی نے کانفرنس کے علمی، دینی اور بین الاقوامی پہلو کو نمایاں کیا۔
اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر
کانفرنس کی نظامت حجۃ الاسلام ارشد حسین نے انجام دی۔
تقریب کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین شعبۂ قم کے ذمہ دار حجۃ الاسلام والمسلمین سید ذیشان حیدر الحسنی نے تمام علمائے کرام، معزز مہمانوں، مزاحمتی تحریکوں کے نمائندوں اور شریک وفود کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے منتظمین اور شرکاء کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے تقریب میں شرکت پر تمام مہمانوں سے اظہارِ تشکر کیا۔
شہدائے مقاومت کانفرنس میں شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین اور دیگر شہدائے مزاحمت کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے مسئلۂ فلسطین کی حمایت، اتحادِ امت اور اسلامی اقوام و تحریکوں کے درمیان باہمی روابط و یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
مجلس وحدت مسلمین شعبۂ قم، ایران








