اہم خبریںبین الاقوامی خبریں

تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اجلاس، 27 ستمبر کے احتجاج کو ملک گیر بنانے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ

وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اہم سربراہی اجلاس اتحاد کے سربراہ اور قائد حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اس کے پاکستان پر اثرات، بلوچستان و خیبرپختونخوا میں امن و امان، مہنگائی، بے روزگاری، مجوزہ آئینی ترامیم اور نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں قائد حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی و سیکرٹری جنرل تحریک تحفظِ آئین پاکستان اسد قیصر، بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، زین شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، زبیر عمر، سینیٹر مشتاق احمد، صاحبزادہ حسن رضا، ساجد ترین، تیمور جھگڑا، اخوندزادہ حسین یوسفزئی، عمار جان، حامد حسین، ناصر شیرازی، سید اسد عباس، سید ظہیر عباس نقوی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سندھ و پنجاب میں عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے 27 ستمبر کے احتجاج کو آئینی و جمہوری جدوجہد قرار دیتے ہوئے اسے مؤثر بنانے کے لیے ملک بھر میں سیاسی و عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دیگر جمہوری سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جائیں گے اور آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لیے رابطہ کاری کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مختلف ذمہ داریاں اور کمیٹیاں بھی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔

شرکاء نے آئین، پارلیمان، وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے وسائل و اختیارات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے سندھ کی موجودہ جغرافیائی و انتظامی حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت کی۔ اجلاس میں نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم سے متعلق تجاویز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر زیرِ حراست افراد کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے براہِ راست ملاقات اور صحت سے متعلق درست معلومات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کی بازیابی، ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ اور ڈیتھ اسکواڈز کے خاتمے پر بھی زور دیا گیا۔

تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دریائے سندھ میں پانی کی کمی، سندھ ڈیلٹا، زراعت اور ماحولیات کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے کینال اور متنازع آبی منصوبوں سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بارڈر تجارت کی بحالی، قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں متعلقہ صوبوں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے اور شہری آبادیوں کے جبری انخلا کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، امن و امان اور دیگر عوامی مسائل کو 27 ستمبر کے احتجاج کے بنیادی نکات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران پیش آنے والے واقعات اور کوہاٹ دھماکے کی بھی مذمت کی گئی۔

شرکاء نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سمیت مختلف آئینی معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے آئینی کردار، وفاقی نظام اور صوبائی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مؤثر سفارتی و ثالثی کردار کی حمایت جبکہ ایمان مزاری کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری کی بھی مذمت کی گئی۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد ہوگا اور اسے مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ سیاسی، میڈیا اور عوامی رابطہ حکمتِ عملی تشکیل دی جائے گی۔ اپوزیشن اتحاد نے آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری، صوبائی حقوق، شہری آزادیوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *