اہم خبریںپاکستان کی خبریں

اتحادِ امت اور تعلیماتِ صادقین کانفرنس؛ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا خصوصی خطاب

وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) : مجلس علماء امامیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی ادارہ الباقر کے شعبۂ تبلیغات کے تحت میلادِ باسعادتِ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی مناسبت سے ’’اتحادِ امت اور تعلیماتِ صادقین‘‘ کے عنوان سے ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور سینیٹ آف پاکستان میں قائدِ حزبِ اختلاف، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری حفظہ اللہ نے خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔

تقریب میں مجلس وحدت مسلمین کے پارلیمانی لیڈر اور رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین سمیت علمائے کرام، مبلغینِ امامیہ، دینی و علمی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اپنے خصوصی خطاب میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو آج جن پیچیدہ سیاسی، فکری اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مؤثر مقابلہ صرف اتحاد، شعور اور بصیرت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور تعلیماتِ امام جعفر صادق علیہ السلام میں اتحادِ امت اور اسلامی اخوت کے روشن اور قابلِ تقلید نمونے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیماتِ صادقینؑ ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ مسلمان اپنے علمی اور فقہی اختلافات کے باوجود قرآنِ کریم، رسولِ اکرم ﷺ اور مشترکہ اسلامی اقدار کی بنیاد پر متحد رہ سکتے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس بات پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے مشترکہ دینی، اخلاقی اور انسانی اصولوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں فکری یلغار اور تہذیبی چیلنجز کے مقابلے کے لیے علماء، دانشوروں اور مبلغین پر پہلے سے بڑھ کر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

کانفرنس کے دیگر مقررین نے بھی سیرتِ پیامبر اکرم ﷺ اور تعلیماتِ امام جعفر صادق علیہ السلام کی روشنی میں اتحادِ امت، اخوتِ اسلامی اور عصرِ حاضر کے فکری و تہذیبی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔

مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ سیرت و تعلیماتِ صادقینؑ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے معاشرے کو درپیش فکری، تہذیبی اور اخلاقی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے اور امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور اخوت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *