وحدت نیوز نیٹ ورک: (اسلام آباد) قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سینیٹ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، سیاسی قیدیوں کے مسائل، آئینی بالادستی اور عوامی حقوق سے متعلق اہم نکات اٹھاتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں موجود سیاسی قیدیوں کے حالات تشویشناک ہیں، لہٰذا ایک خصوصی پارلیمانی یا غیر جانبدار ٹیم تشکیل دی جائے جو مختلف جیلوں کا دورہ کرے، سیاسی قیدیوں سے ملاقات کرے اور ان کو درپیش مشکلات، قانونی مسائل اور انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں اور تمام قیدیوں کو آئین و قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد کے علاقے شکریال میں واقع مسجد و امام بارگاہ کے حوالے سے بھی ایوان میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بااثر شخص کی جانب سے مقامی آبادی، مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین و نمازیوں کو مسلسل ہراساں اور تنگ کیا جا رہا ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور علاقے کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی اور امن و امان کی فضا برقرار رہے۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ ملک اس وقت سنگین سیاسی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں فعال بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ قانون سازی کی جائے۔
انہوں نے ایوان میں اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی، آئین کی بالادستی اور قانون کی یکساں عملداری ہی ملک میں سیاسی استحکام کی ضمانت ہے۔ ان کے خطاب کو اپوزیشن اراکین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی ان کے مؤقف پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔








