Uncategorized

شہید قائد کی برسی ، رہبر معظم کے پیغام پر عمل کرنا حوزہ علمیہ کی اولین ذمہ داری ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری

وحدت نیوز نیٹ ورک ( قم المقدس) قم مقدسہ کے مدرسہ حجتیہ میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کی مناسبت سے چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے شہید قائد کی میراث، رہبر معظم کے پیغامات اور عصرِ حاضر میں حوزہ علمیہ کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ آپ کی گفتگو کے اہم نکات
انقلاب اسلامی اور قم کا کردار:
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ قم انقلاب اسلامی اور عالمی سطح پر فکری و سیاسی تحول کا مرکز ہے۔ امام خمینیؒ نے مستضعفین کی حمایت اور مستکبرین کی مخالفت کا پرچم بلند کیا جس کے نتیجے میں شہید قائد، شہید بہشتی، شہید مطہری، سردار قاسم سلیمانی اور سید حسن نصراللہ جیسی شخصیات سامنے آئیں۔
رہبر معظم اور حوزہ علمیہ:
انہوں نے کہا کہ زمانہ غیبت میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای مرکزِ امامت ہیں جو دنیا کے طاغوتوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ رہبر کا حوزہ علمیہ قم کی صدی پر تاریخی خطاب نہایت اہم ہے، جسے بار بار پڑھنا اور اس میں اپنی ذمہ داری تلاش کر کے عملی اقدامات کرنا ضروری ہے۔
جدید اسلامی تمدن کی ضرورت:
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت طاقت مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے، لیکن چین جیسے ممالک انسانی روح کے کمال یا متوازن معاشرے کی تشکیل کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ فریضہ صرف اسلامی حوزہ ادا کرسکتا ہے۔ حوزہ کے نصاب کو جدید اسلامی تمدن اور امت سازی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
مغربی تمدن کے خلاف جدوجہد:
علامہ ناصر عباس نے مغربی تمدن کو ظلم، فحاشی اور جہالت کا نظام قرار دیا اور کہا کہ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ بشریت کو اس سے نجات دلائے اور اخلاقی اقدار کی حامل امت تیار کرے۔ سوشل میڈیا پر داخلی اختلافات ختم کر کے جہانی فکر اپنانا ہوگی۔
سیاست اور فعل مکلف:
انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا ایک شرعی ذمہ داری ہے جس کا تعین فقیہ اور مرجع کرتے ہیں۔ امام خمینیؒ کے مطابق مرجعیت کے خلاف بولنے والے کی توبہ بھی قبول نہیں۔ رہبر و مراجع کے اجماعی فتووں کی روشنی میں حتیٰ غیر اسلامی حکومت میں بھی تشیع کے مفادات کے تحفظ کے لئے ووٹ دینا بعض حالات میں ضروری ہوجاتا ہے۔
شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی میراث:
چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ شہید قائد جوڑنے والے، متواضع، شب زندہ دار اور شجاع رہنما تھے۔ انہوں نے کبھی اپنا نعرہ نہیں لگوایا بلکہ امام خمینیؒ کے نعرے کو عام کیا۔ ان کی قیادت کی اصل روح ظلم کے خلاف قیام اور مظلوم کی حمایت تھی۔ مجلس وحدت مسلمین اسی راستے پر گامزن ہے اور پاکستان میں تشیع کا مضبوط سیاسی چہرہ ہے۔

حوزہ کے طلبہ و علما سے اپیل:
علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ علما و طلبہ احساس ذمہ داری کریں، رہبر کے بیانات کو بار بار پڑھیں اور اپنی ذمہ داریاں متعین کریں۔ بصورت دیگر ہماری زندگیاں محض روایتی انداز میں گزرتی رہیں گی۔ حقیقی تبدیلی کے لئے ایک تحریک اور داخلی و اجتماعی سطح پر تحول کی ضرورت ہے۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *