اللہ وسایا کے بارے میں خوش بینی کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی
آج کل اللہ وسایا کی مرتب کردہ کتاب احتسابِ ناصبیت کے حوالے سے خاصی بحث جاری ہے۔ اللہ وسایا مکتبِ دیوبند کے معروف عالمِ دین ہیں اور اس کتاب میں انہوں نے اپنے اکابر علماء کی ان تحریروں، کتابوں اور تاریخی بیانات کو یکجا کیا ہے جن میں معاویہ کے بارے میں دینی موقف اور اس عہد کے بعض اہم واقعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کی اشاعت کے بعد تکفیری حلقوں کی طرف سے شدید اعتراضات اور واویلا اس بات کی علامت ہے کہ معاویہ کے بارے میں قائم تقدیسی تصور کے لیے یہ کتاب ایک فکری چیلنج بن گئی ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بنیاد پر شیعہ حلقوں کو اللہ وسایا کے بارے میں غیر معمولی خوش بینی اختیار کرنی چاہیے؟ میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔
بعض تکفیری حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اللہ وسایا نے اپنے مکتب کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے، لیکن میرے خیال میں انہوں نے کوئی نیا عقیدتی موقف پیش نہیں کیا، بلکہ اپنے ہی مکتب کے اکابر کی کتابوں اور تحریروں میں موجود مواد کو جمع کرکے سامنے رکھا ہے۔ اس لیے اگر یہ مواد ان کے لیے ناقابلِ قبول ہے تو اصل سوال اللہ وسایا سے زیادہ ان اکابر کے مواقف کا ہے جن سے یہ مواد نقل کیا گیا ہے۔ یوں ان ناصبین کو ایک ساتھ دو تعارضات کا سامنا ہے: ایک طرف معاویہ کے بارے میں قائم کردہ تقدیسی تصور اور دوسری طرف مد مقابل تاریخ و حدیث کا وسیع ذخیرہ، یہ ایک تعارض۔
اور دوسری طرف اس تقدیسی تصور کا اپنے ہی اکابر کے ان مواقف سے تعارض بھی ہے جو اس تصور سے ہم آہنگ نہیں۔
معاویہ کا سیاسی کردار، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے عہد میں ان کے ساتھ جنگ صفین، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے قتل میں شرکت، حضرت عمار یاسر رضوان اللہ علیہ کے قتل اور دیگر جلیل القدر صحابہ کے واقعات کے بارے میں تاریخی و حدیثی مواد اتنا وسیع ہے کہ اللہ وسایا کی کتاب میں نقل شدہ مواد اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔ خصوصاً حضرت عمار یاسر رضوان اللہ علیہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی روایت کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، وہ انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلائیں گے، اس بحث میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے واضح شواہد کے باوجود اگر کسی شخصیت کے بارے میں ایسا تقدیسی تصور قائم کر لیا جائے جو تاریخ و حدیث کے متعدد شواہد سے متصادم ہو، تو علمی دیانت کا تقاضا اپنے تصور پر نظرِ ثانی ہے، نہ کہ روایات کو نظریاتی مفاد کے مطابق ڈھالنا۔
اسی طرح قرآن مجید اہل بیت علیہم السلام کی محبت، مودت، طہارت اور منزلت کو واضح کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی سیرت و احادیث اس نسبت کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ ایسے میں ایک طرف اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ اور دوسری طرف ایسی شخصیت سے غیر معمولی قلبی وابستگی جس کا سیاسی کردار اہل بیت علیہم السلام کی تاریخ کے سنگین واقعات سے وابستہ ہے، ایک بنیادی فکری سوال پیدا کرتا ہے: کیا ان دونوں نسبتوں کو ایک ہی اعتقادی و اخلاقی سطح پر جمع کیا جا سکتا ہے؟
عقلِ سلیم اس سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
یہاں علم کے بارے میں بھی ایک بنیادی اصول سامنے رہنا چاہیے کہ کسی شخص کا بڑا عالم ہونا اس امر کی ضمانت نہیں کہ اس کے تمام تاریخی و کلامی نتائج درست ہوں گے۔ جب علم تعصب، گروہی وابستگی یا سیاسی تقدیس کا محافظ بن جائے تو وہ حقیقت تک پہنچنے کے بجائے تعصب کے لیے استدلال فراہم کرنے لگتا ہے۔ اصل معیار دلیل، تاریخی شواہد اور استدلال کی صحت ہے۔
اسی اصول کے تحت اللہ وسایا کی کتاب کا علمی پہلو قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے اپنے مکتب کے اکابر کی ایسی تحریریں سامنے رکھی ہیں جن سے معاویہ کے بارے میں قائم تقدیسی تصور پر سوال اٹھتا ہے؛ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ انہوں نے شیعہ موقف اختیار کر لیا ہے یا اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں ان کی مجموعی فکری پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔ کسی ایک تاریخی شخصیت پر تنقیدی کتاب پیش کرنا کسی شخص کے پورے مذہبی، کلامی اور سیاسی موقف کی تبدیلی کا ثبوت نہیں۔
اس کا ایک قرینہ خود ان کے مخالفین کا رویہ بھی ہے۔ اگر اللہ وسایا نے واقعی شیعہ مکتبِ فکر کے بنیادی موقف کی تائید کی ہوتی تو اعتراضات کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہوتا۔ موجودہ اعتراضات کا مرکزی محور معاویہ کے بارے میں تاریخی مواد پیش کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اللہ وسایا متعدد مواقع پر شیعہ کے کفر کے موقف کو تسلیم کر چکے ہیں؛ اس لیے صرف اس کتاب کی بنیاد پر ان سے شیعہ فکر کی طرف غیر معمولی فکری قربت کی توقع رکھنا درست نہیں۔ جو شخص بنیادی اعتقادی سطح پر شیعہ کو اپنے سے خارج سمجھتا ہے، وہ ہمارے فکری دائرے کا فرد نہیں ہو جاتا۔
زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ اللہ وسایا اپنے ہی مذہبی دائرے کے اندر موجود تاریخی تعارضات کو اپنے مصادر کی مدد سے قابلِ فہم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک سنی طالب علم جب ایک طرف معاویہ کا تقدیسی بیانیہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف اپنے ہی مصادر میں اس کے برخلاف حدیثی و تاریخی مواد دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ اپنے ہی مصادر سے اس تعارض کو سامنے لانے والی کوئی علمی کاوش اہل سنت کے داخلی فکری اضطراب کو کم کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے «احتسابِ ناصبیت» ایک قابلِ توجہ علمی خدمت ہے، مگر اسے شیعہ فکر کی طرف نظریاتی پیش قدمی قرار دینا درست نہیں۔
لہٰذا شیعہ حلقوں کو اس کتاب کو نہ نظر انداز کرنا چاہیے، نہ اس کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہیے اور نہ اس کے مصنف کے بارے میں ایسی خوش فہمی پیدا کرنی چاہیے جس کی علمی بنیاد موجود نہ ہو۔ ان کے علمی اقدام کا احترام اپنی جگہ، ان کے پیش کردہ تاریخی مواد کا سنجیدہ مطالعہ اپنی جگہ؛ مگر اس سے ان کے مجموعی مذہبی و کلامی موقف کی تائید لازم نہیں آتی۔
علمی احترام اپنی جگہ، فکری موافقت اپنی جگہ؛ تاریخی اعتراف اپنی جگہ، اعتقادی اعتماد اپنی جگہ۔ یہی توازن «احتسابِ ناصبیت» اور اللہ وسایا دونوں کو سمجھنے میں ضروری ہے۔ یہ کتاب قابلِ مطالعہ اور قابلِ بحث ہے، مگر معاویہ کے بارے میں موجود وسیع تاریخی و حدیثی ذخیرے کے مقابلے میں اسے فیصلہ کن انکشاف قرار دینا یا اس کی بنیاد پر اللہ وسایا کے بارے میں غیر معمولی خوش فہمی پیدا کرنا، دونوں علمی تناسب کے خلاف ہیں۔








