وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد): قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ آف پاکستان اور سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور سیکرٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں سینیٹر نور الحق قادری اور رکن قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی بھی شامل تھے۔
ملاقات میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی، مجلس وحدت مسلمین کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر سید ناصر عباس شیرازی، ترجمان سید محسن شہریار، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ظہیر عباس نقوی اور مولانا مشرف حسینی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے ایک نوٹیفکیشن کے نتیجے میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو میڈیکل تعلیمی اداروں سے خارج کیے جانے کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
شرکاء نے کہا کہ افغان طلبہ طویل عرصے سے پاکستان کے مختلف میڈیکل تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں اور اچانک کسی نوٹیفکیشن کے ذریعے ان کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرنا نہ صرف ان طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ اس کے پاک افغان برادرانہ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ملاقات میں مطالبہ کیا گیا کہ افغان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایم ڈی سی کا مذکورہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے اور پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
دورانِ ملاقات حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں اضافے کے معاملے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں، جبکہ پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ مہنگائی میں اضافے اور عوام پر مزید معاشی بوجھ کا سبب بنے گا۔
شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی میں کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل، بالخصوص تعلیم، معاشی مشکلات اور پاک افغان تعلقات سے متعلق اہم معاملات کو پارلیمنٹ سمیت ہر آئینی اور جمہوری فورم پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔








