وحدت نیوز نیٹ ورک (قم المقدسہ): اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی اور شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان، شعبہ قم کے دفتر میں ’’جہاد تبیین‘‘ کی سولہویں سلسلہ وار نشست منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی نظریاتی بنیاد، شہید قائد کے سیاسی منشور، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور پاکستان کے علاقائی کردار سمیت اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پروگرام کا آغاز قاری مشاہد حسین نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور قومی ترانے کی سعادت قاری شہزاد رفیق جعفری نے حاصل کی۔ نشست کی نظامت کے فرائض حجت الاسلام والمسلمین مولانا محمد علی شریفی نے انجام دیے۔
نشست کے پہلے حصے میں ’’مسئلۂ روز‘‘ کے عنوان سے حجت الاسلام سید محمد روح اللہ رضوی نے 6 جولائی 1987ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی قرآن و سنت کانفرنس میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی قیادت میں پیش کیے گئے سیاسی منشور ’’سبیلنا‘‘ (ہمارا راستہ) کا خلاصہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’سبیلنا‘‘ محض ایک سیاسی منشور نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی، سماجی اور نظریاتی مستقبل کے حوالے سے ایک جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے منشور کی تجدید، اس کی علمی و فکری بنیادوں کی ازسرِنو شناخت اور موجودہ حالات میں اس کی معنویت و اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
نشست کے دوسرے حصے سے قم المقدسہ کے تحقیقی ادارے ’’مرصاد‘‘ کے چیئرمین حمید عظیمی نے خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان کے اسلامی ریاست کے طور پر قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مغربی ایشیا میں تیزی سے رونما ہونے والی سیاسی و تزویراتی تبدیلیوں اور ان حالات میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
حمید عظیمی نے مکہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے علاقائی و عالمی اثرات کو سمجھنے کے لیے اسے خطے میں تشکیل پانے والے نئے سیاسی و معاشی روابط کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان سے یورپ تک مجوزہ اسرائیل نواز کوریڈور (IMEC) کے مقابلے میں خطے کے متبادل تجارتی راستوں، بالخصوص سی پیک، کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے 7 اکتوبر کے واقعات کے پس منظر میں بھی خطے میں جاری ان تزویراتی منصوبوں اور مفادات کو اہم عوامل میں شمار کیا۔
انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان گزشتہ برسوں میں بڑھتے ہوئے روابط اور ان کے علاقائی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدے کے بعد خطے میں سیاسی صف بندی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے بقول سعودی عرب کا ترکی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور خطے میں نئی شراکت داریوں کا فروغ ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
حمید عظیمی نے ان خیالات کی بھی تردید کی کہ مذکورہ علاقائی تعاون کسی مخصوص ملک، بالخصوص ایران یا یمن، کے خلاف تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے واقعات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان نے یمن کے خلاف سعودی جنگ میں عملی شرکت سے گریز کیا، جبکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران بھی پاکستان کا کردار مصالحت اور ذمہ داری پر مبنی رہا ہے۔
انہوں نے مکہ معاہدے کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون صرف عرب ممالک تک محدود نہیں بلکہ عرب، ترک اور برصغیر کی مسلم اقوام کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی علامت ہے، جو مسلم دنیا میں باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔
مرصاد کے چیئرمین نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے خطے کے نئے اتحادوں کو اپنے اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش بعید از امکان نہیں، تاہم امتِ مسلمہ، بالخصوص پاکستان کے عوام، کسی بھی اسلامی برادر ملک کے خلاف جارحیت کے حامی نہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقے سے بچنے اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اقتصادی روابط کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ذریعے قدیم شاہراہِ ریشم (Silk Road) کو نئے تقاضوں کے مطابق فعال کرنا پاکستان، ایران اور چین کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں باہمی انحصار، تعاون اور پائیدار امن کے امکانات کو تقویت ملے گی۔
نشست کے اختتام پر شرکاء نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال اور شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرکاء نے شہید قائد کے افکار و نظریات کو زندہ رکھنے اور انہیں نئی نسل تک منتقل کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔








