اہم خبریںپاکستان کی خبریں

کوٹ ادو میں “تکریمِ شہداء و تجدیدِ عہد کانفرنس” کا انعقاد، علمائے کرام کا شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت، اتحادِ امت اور مزاحمت کے تسلسل پر زور

وحدت نیوز نیٹ ورک : کوٹ ادو (نمائندہ خصوصی): بین الاقوامی ادارہ الباقر کے شعبۂ تبلیغات مجلس علماء امامیہ پاکستان کے زیر اہتمام “تکریمِ شہداء و تجدیدِ عہد کانفرنس” کوٹ ادو میں منعقد ہوئی، جس میں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بہاولپور، ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، وہاڑی، خانیوال، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ سے آئمہ جمعہ والجماعت، مبلغین امامیہ اور علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس میں شہدائے مقاومت خصوصاً سید علی خامنہ ای، سید حسن نصراللہ اور دیگر شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جبکہ ان کی دینی، فکری اور مزاحمتی خدمات کو زبردست انداز میں سراہا گیا۔ مقررین نے ایران اور لبنان پر ہونے والی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا اور اتحادِ امت، بیداری اور مزاحمت کے تسلسل کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ امام سید علی خامنہ ای نے امت مسلمہ میں وحدت، بیداری اور استقامت کی نئی روح پیدا کی اور عالمی استکبار کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ تجدیدِ عہد کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد، وحدت اور یکجہتی کا پیغام پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔

انہوں نے 13 جون کو مینارِ پاکستان میں منعقد ہونے والی “شہیدِ امت کانفرنس” کو عظیم قومی و ملی اجتماع قرار دیتے ہوئے جنوبی پنجاب سے بھرپور شرکت کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

دارالعلوم محمدیہ سرگودھا کے پرنسپل اور مجلس علماء امامیہ کے مرکزی رہنما علامہ ملک نصیر حسین نے اپنے خطاب میں شہید سید حسن نصراللہ کی مزاحمتی جدوجہد اور لبنان میں بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان نے ان کی قیادت میں نہ صرف دفاعی و سیاسی میدان میں استحکام حاصل کیا بلکہ خطے میں استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمتی محاذ کو نئی توانائی بھی فراہم کی۔

بعد ازاں ممتاز عالم دین اور بین الاقوامی ادارہ الباقر کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ و تربیت علامہ ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے امام سید علی خامنہ ای کی فکری، روحانی اور اسٹریٹجک خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ امام خامنہ ای نے عالمی سطح پر امت مسلمہ کے اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور فکری یگانگت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جبکہ دفاعی میدان میں ان کی حکمتِ عملی کے باعث ایران نے غیر معمولی ترقی حاصل کی۔

کانفرنس سے علامہ ضیغم عباس نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ موجودہ دور میں علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی شعور کو درست سمت فراہم کریں اور بیداری و تبیین کے عمل کو مزید مؤثر بنائیں۔

کانفرنس کے اختتام پر شہدائے اسلام و مقاومت کے لیے خصوصی دعا کی گئی جبکہ ایران، لبنان، فلسطین اور دیگر مظلوم خطوں پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے امت مسلمہ کے اتحاد، مظلوم اقوام کی حمایت اور مزاحمتی محاذ کی بھرپور تائید و حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں ایران پر جارحیت کے بعد پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقدہ “شہیدِ امت کانفرنس” میں بھرپور شرکت کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *