وحدت نیوز نیت ورک (اسلام آباد): علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان جنگ کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی و علاقائی المیہ ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان صدیوں پر محیط مذہبی، ثقافتی اور سماجی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کسی بھی مسلح تصادم میں نقصان دونوں اطراف کے عوام کا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عوام نے دہشت گردی اور بدامنی کی بھاری قیمت چکائی ہے، اس لیے مزید کشیدگی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
سینیٹر نے ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے، جس کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے اور اس پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بالخصوص خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے واضح کیا کہ ہر خودمختار ملک کو اپنے دفاع اور سرحدوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ نہ پاکستان افغانستان کو ختم کر سکتا ہے اور نہ افغانستان پاکستان کو، اس لیے دیرپا امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک مل کر ایک مؤثر “ریجنل سیکیورٹی فریم ورک” تشکیل دیں تاکہ سرحدی نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو مربوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دو مسلمان ممالک کے درمیان تنازع پیدا ہو تو تیسرے فریق کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چین، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ خطے کے امن کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کریں۔ ان کے بقول موجودہ کشیدگی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت علاقائی تجارتی منصوبوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی معاشی صورتحال طویل جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، اس لیے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان کو مختلف محاذوں پر الجھانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔
گفتگو کے اختتام پر سینیٹر نے کہا کہ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی پاکستان کا مقدر ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بالآخر امن اور استحکام ہی غالب آتا ہے۔








