اہم خبریںپاکستان کی خبریں

قائداعظم کا تصورِ پاکستان آئین کی بالادستی، جمہوریت اور مساوی شہری حقوق پر مبنی تھا، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

وحدت نیوز نیٹ ورک: (اسلام اباد) رئیس مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے قائداعظم محمد علی جناح کی 149ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے بانی کی سالگرہ ہمیں اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمارے عزیز وطن کی بنیاد آئین کی بالادستی، مساوی شہریت، قانون کی حکمرانی اور مختلف آرا کے احترام جیسے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا وژن ایک جدید اور جمہوری پاکستان کا قیام تھا، جہاں تمام شہری بلا امتیاز برابر ہوں اور حکومتی نظام عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج پاکستان کو شدید سیاسی عدم استحکام، گہرے معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری، دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے اور آزادی اظہار پر پابندیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں قائداعظم کے تصورات اور موجودہ زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس پاکستان کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا، وہاں اختلافات تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیے جاتے تھے، ادارے آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر کام کرتے تھے اور حکمرانی میں ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دی جاتی تھی۔ تاہم موجودہ دور میں مسلسل سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی عدم توازن اور آزادی اظہار پر قدغنوں نے قومی ترقی کے عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔

رئیس مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے معاشی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اور سطحی اقدامات کے بجائے عدل و انصاف پر مبنی منصفانہ اور پائیدار اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے قرضوں، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔ اسی طرح دہشت گردی کے خطرے، جو سماجی محرومیوں اور ناہمواریوں سے فائدہ اٹھاتی ہے، سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انسانی حقوق اور شہری بالادستی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے افکار کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھنے کے لیے قومی مفاہمت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا، جمہوری اقدار کو بحال کرنا، آزادی اظہار کو تکثیری معاشرے کی بنیاد تسلیم کرنا اور تنوع کے ساتھ وحدت کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک مضبوط، برداشت والا اور خوشحال پاکستان تعمیر کیا جا سکتا ہے، وہی پاکستان جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *