اہم خبریںپاکستان کی خبریں

اگر ہم اقبالؒ کے پاکستان کے وارث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اس ملک کو دوبارہ عدل، آزادی، اور عوامی اقتدارِ اعلیٰ کے اصولوں پر استوار کرنا ہوگا،سینیٹرعلامہ راجہ ناصرعباس

وحدت نیوز نیٹ ورک (اسلام آباد) سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے 9 نومبر کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہم شاعرِ مشرق، مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبالؒ کا یومِ ولادت عقیدت و احترام سے منا رہے ہیں، وہ مردِ مومن جس نے غلام ذہنوں کو خودی کا درس دیا، مردہ قوموں میں بیداری کی روح پھونکی اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد و خودمختار مملکت کا خواب دیکھا، مگر آج جب ہم “اقبال کے پاکستان” کی بات کرتے ہیں تو دل سے ایک سوال، ایک خلش، ایک درد ابھرتا ہے، کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا تصور اقبالؒ نے پیش کیا تھا؟ اقبالؒ نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی، عدل و مساوات، اور عوامی اقتدارِ اعلیٰ ہو، جہاں قرآن و سنت کے اصول ریاست کی بنیاد ہوں اور حکمران قوم کے خادم ہوں، آقا نہیں،

انہوں نے کہا کہ افسوس! آج وطنِ عزیز پر ایک غیر آئینی و غیر قانونی نظام مسلط ہے جو فارم 47 کی سیاست کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو مسخ کر چکا ہے، آئین پامال ہو رہا ہے، اور حق کی آوازیں دبائی جا رہی ہیں، اقبالؒ نے خبردار کیا تھا “جُدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی”

آج کی سیاست سے دین کی روح اور عدل کی بنیاد غائب ہو چکی ہے، قانون کمزور کے لیے قید اور طاقتور کے لیے ڈھال بن گیا ہے، یومِ اقبال محض تقاریر اور نغموں کا دن نہیں، بلکہ عملی بیداری، خود احتسابی اور اصلاحِ حال کا دن ہے، اگر ہم اقبالؒ کے پاکستان کے وارث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اس ملک کو دوبارہ عدل، آزادی، اور عوامی اقتدارِ اعلیٰ کے اصولوں پر استوار کرنا ہوگا، اقبالؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم زندہ قوم ہیں؟ یا صرف اقبال کے اشعار کی محفلوں میں سوئے ہوئے لوگ۔؟

Shares:

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *