وحدت نیوز امور خارجہ : (قم ــ) مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کی جانب سے جمعۃ الوداع 28 مارچ 2025 کو “یوم القدس” کی مناسبت سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین کے امور خارجہ کے سیکرٹری، علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم القدس صرف نعرے لگانے کا دن نہیں، بلکہ یہ دن فلسطینی قضیہ کو زندہ رکھنے، عالمی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی علامت ہے۔
علامہ شیرازی نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد برطانوی سرپرستی میں یہودیوں نے فلسطین پر قبضے کی منظم کوششیں شروع کیں۔ برطانیہ نے یہودیوں سے وعدہ کیا کہ جنگِ عظیم اول کے بعد انہیں ایک ریاست دی جائے گی، جس کے بعد مشرق و مغرب سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی اکثریت مسلمان تھی، لیکن ان کی زمینوں پر قبضہ کر کے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
علامہ اقبال اور شہید قسام جیسے رہنماؤں نے اس سازش کے خلاف آواز بلند کی، لیکن عرب حکمرانوں کی کمزوریوں اور سازشوں کے باعث فلسطینی مقاومت کو شدید دھچکہ لگا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں فلسطینیوں کی شہادت اور جبری ہجرت کے بعد اسرائیل نے ناجائز ریاست کے طور پر خود کو دنیا پر مسلط کیا، جسے سب سے پہلے ترکی نے تسلیم کیا۔
انہوں نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے، صدی کی ڈیل اور ابراھیمی معاہدے جیسے اقدامات کو فلسطینی مسئلے کو دفن کرنے کی سازشیں قرار دیا۔ تاہم، امام خمینی نے انقلاب اسلامی کے فوراً بعد یوم القدس کا اعلان کر کے ان سازشوں کا راستہ روکا۔ “اگر امام خمینی یہ دن نہ مناتے تو شاید آج قضیۂ فلسطین دنیا کے نقشے سے مٹ چکا ہوتا،” ظالموں اور جابروں کے خلاف جس علم کو امام خمینی نے بلند کیا تھا آج رھبر معظم سید علی خامنہ ائ نے اس علم کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علاوہ یورپی ممالک میں بھی ہمیں یوم القدس کی ریلیاں نکال کر ظالموں سے برائت کا اظہار کرنے والے جوانوں کی کثیر تعداد نظر آتی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید حسن نصر اللہ ، شہید اسماعیل ھینہ اور شہید یحییٰ سنوار کی مجاھدانہ شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ آج حماس اور حزب اللہ جیسی مزاحمتی تحریکیں پہلے کی نسبت بہت زیادہ مستحکم اور قوی ہو چکی ہیں جو غلیل سے شروع ہو کر اب تل ابیب پر میزائل برسا رہی ہیں، اور یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مقاومت وقت کے ساتھ مزید طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ شہداء کا لہو ان تحریکوں میں نئی روح پھونک دیتا ہے ۔ یوم القدس امت مسلمہ اور جبھہ مقاومت کو ایک نقطے پر اکٹھا کرتا ہے اور ظالم عالمی قوتوں کے خلاف اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین قم کے دفتر میں شرکاء کے لیے افطاری کا اہتمام کیا گیا۔ مجلس شعبہ قم کے نمائندے مولانا سید قمر نقوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔








