53

مسلم بن عقیل حضرت امام حسین علیہ السلام کے چچا زادہ بھائی، مردحق، جری اور اسلام میں امام کے حقیقی آشنا تھے۔ آپ اسلامی فتوحات اور جنگ صفین وغیرہ میں شریک رہ چکے تھے اور جب امام حسین علیہ السلام نے بیعت یزید کو ٹھکرا کر مدینہ کو خدا حافظ کہا تو آپ بھی امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مکہ تک تشریف لائے، مکہ میں امام حسین علیہ السلام کو اہل کوفہ کے خطوط موصول ہوئے کہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے آپ تشریف لائیے ہوسکتا ہے آپ ہماری ہدایت کا سبب بنیں۔

امام حسین علیہ السلام کوفہ کی تہذیب اور وہاں کے لوگوں کی بدلتی ہوئی طبیعت اور مفاد پرستی کو بخوبی جانتے تھے، کیونکہ اسی کوفہ میں آپ کے پدر بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا۔ ایسے شہر کے لئے کسی مخلص اورتجربہ کار شخص کی ضرورت تھی کہ جو لحظہ بہ لحظہ رنگ بدلنے والے افراد سے شکست نہ کھا سکے اور اپنے مقصد کے حصول سے ہنگامی حالات میں بھی غافل نہ رہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے مختصر قافلہ پر نظر ڈالی اور مسلم بن عقیل کو اپنا نمائندہ منتخب فرما کر کوفہ روانہ کردیا۔ جب آپ شہر مکہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک شکاری نے ہرن شکار کیا ہے اور اسے ذبح کر رہا ہے حضرت مسلم نے اس کو بدشگونی سمجھا اور واپس آگئے امام (ع)نے دریافت فرمایا: آپ کیوں واپس لوٹ آئے؟ حضرت مسلم جواب دیتے ہیں مولا اس سفر میں خطرہ محسوس ہوتاہے کیونکہ جب میں مکہ سے باہر نکلا تو میں نے ایک شکار ی کو ہرن ذبح کرتے دیکھا آپ نے فرمایا :مسلم ہم اہل بیت ایسی چیزوں سے فال بد نہیں لیتے لہٰذا تم کوفہ کے لئے روانہ ہو جاؤ۔

اطاعت امام علیہ السلام

جناب مسلم اس موقع پر یہ نہیں کہتے کہ مولا اس سفر کی ابتدا میں جب ایسی بدشگونی ہوگئی تو اس کی انتہا کتنی خطرناک ہوگی۔ اور پھر بنی امیہ سے ہماری خاندانی دشمنی چلی آرہی ہے کوفہ کی حکومت ان کے ہاتھ میں ہے میں تن تنہا جاؤں گا تو اس کا جو نتیجہ ہوگا وہ سامنے ہے میں اکیلا حکومت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے برعکس حضرت مسلم خاموش مولا کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے فرمان امام سن رہے ہیں امام علیہ السلام نے آخرمیں کامیابی کی دعا دی اور مسلم مکہ سے کوفہ کے لئے روانہ ہو گئے۔

امام کا خط اہل کوفہ کے نام

مسلم کی روانگی سے قبل امام نے سعید اور ہانی بن عروہ کے ہاتھ ایک خط اہل کوفہ کے نام اس مضمون کا ارسال کیا یہ لوگ یعنی سعید و ہانی بن عروہ تمہارے خطوط لے کر پہنچے تمہاری تحریر کو میں نے غور سے پڑھا تمہاری بات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ تمہارا کوئی امام نہیں ہے لہذا تم مجھے بلا رہے ہو ، میں اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیج رہا ہوں یہ میرے معتمد ہیں اور میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ وہ مجھے تمہارے حالات کی اطلاع دیںگے اگر انہوں نے اطلاع دی کہ کوفہ کے سر برآوردہ افراد اس بات پر متفق ہیں تو میں آجاؤں گا۔ واضح رہے امام کتاب خدا پرکامل عدالت کا پابند حق اور مرضی معبود کاہمہ وقت خواستگار ہوتا ہے۔ والسلام حسین بن علی بن ابی طالب۔

جناب مسلم مکہ سے مدینہ تشریف لائے اور روضہ رسول میں نماز ادا کرکے صبح ہوتے ہی کوفہ کی سمت سفر کا آغاز کردیا۔ راستے کی مشکلا ت برداشت کرتے ہوئے مدینہ سے کوفہ پہنچے اور مختار بن عبید ثقفی کے گھر قیام پذیر ہوئے۔ جناب مسلم کی آمد کی خبر سن کر اہل کوفہ مختار کے گھر میں جمع ہوئے آپ نے امام حسین علیہ السلام کا خط پڑھ کرسنایا تو لوگ جوش محبت و عقیدت سے رونے لگے۔ اور بعض با اثر عقیدت مندوں نے کھڑے ہوکر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اپنی نصرت کا یقین دلایا اسکے بعد لوگ آپ کے ہاتھوں پر امام حسین (ع)کی بیعت کرنے لگے۔ اگرچہ جناب مسلم نے ان لوگوں سے بیعت کا مطالبہ نہیں کیا تھا لیکن جب وہ بہ رضا و رغبت بیعت کرنے لگے تو آپ نے ان سے اس طرح بیعت لی جس طرح رسول نے قبیلہ خزرج وغیرہ سے بیعت لی تھی بیعت کے الفاظ یہ تھے ؛کتاب خدا وسنت رسول کی طرف دعوت، ظالموں اور سرکشوں سے جہاد، مستضعفین سے دفاع، محروموں کے حقوق کی بازیابی، غنائم کی صحیح تقسیم اور اہل بیت کی نصرت۔

بیعت کرنے والوں کی تعداد میں اختلاف ہے اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بیعت ایک ہی روز نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا سلسلہ کم وبیش ایک ماہ جاری رہا تھا ۔اسی لئے بیعت کرنے والوں کی تعداد معین نہیں کی جا سکتی۔(١)

لیکن جب ابن زیاد ملعون کوفہ کا گورنر بن کر آیا تو اس نے اہل کوفہ سے کہا: شام سے بہت جلد لشکر آنے والا ہے، جو تم کو تباہ وبرباد کردے گا نیز تمہاری جان اور آبرو بھی محفوظ نہ رہ سکے گی۔ چنانچہ وہ افرادجنہوں نے ابن زیاد کا کلا م سنا تھا، وہاں سے نکل کرمہاجرین کے اہل خانہ کے پاس پہنچے اور ان کی ماں بہنوں اور بیویوں کو ورغلایا کہ تمہارے وارثوں کو شام کا لشکر آکر تہہ تیغ کردیگا اور لشکر آنے ہی والا ہے عورتوں کا دل اپنے وارثوں، بھائیوں بھتیجوں کے قتل سے لرزنے لگا اور بے تحاشا گھروں سے نکل پڑیں اور اپنے اپنے عزیزوں کے دامن پکڑ کر فریادیں کرنے لگیں جن سے مہاجرین کے دل بھی کانپنے لگے کچھ تو انہیں عورتوں کے ساتھ چلے گئے اور کچھ موقع دیکھ کر فرار ہوگئے اورجناب مسلم وہاں پہنچے تو بہت مختصر افراد کو موجود پایا شام ہوتے ہی آپ کے پاس صرف ٣٠ افراد بچے تھے اسی کم تعداد کے ساتھ آپ نے نماز مغربین ادا کی نماز کے بعد ان میں سے بھی دس فرار ہوچکے تھے۔

جناب مسلم مسجد سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ کے ساتھ دس ہی افراد رہ گئے ہیں انہیں لوگوں کے ہمراہ آپ باب کندہ کی طرف روانہ ہوئے مسلم محلہ کندہ میں جس وقت پہنچے تو اپنے کو تنہا پایا اب آپ کے ہمراہ کوئی راستہ بتانے والا بھی نہ تھا اور ابن زیاد کی دھمکی آمیز تقریر سے کوفہ میں سناٹا چھایا ہوا تھا ہر ایک کے مکان کا دروازہ بند نظر آتا تھا مسلم کی نگاہ ایک عورت پر پڑی جو اپنے دروازہ پر کھڑی اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھی چونکہ مسلم پر پیاس کا شدید غلبہ تھا اور دوسری طرف کوفیوں کی غداری کے احساس نے بھی کافی متاثر کر دیا تھا آپ نے اس عورت کے پاس جاکر سلام کیا اور کہا میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلادو۔ اس عورت کا نام طوعہ تھا جو پہلے محمدبن اشعث کی کنیز تھی اور آزادی کے بعد اسید حضرمی کے نکاح میں آگئی تھی اس سے ایک لڑکا بلال پیدا ہوا وہ اسی لڑکے کا انتطار کر رہی تھی طوعہ اندر سے پانی لائی مسلم نے پانی پیا پھر وہ کاسہ رکھنے اندر چلی گئی اور جب لوٹ کر آئی تو دیکھا کہ وہ شخص دروازے ہی پر بیٹھا ہوا ہے طوعہ نے کہا اے بندہ خدا کیا میں نے تمہیں پانی نہیں پلایا ؟ اس کے بعد فوراً حضرت مسلم سے کہا: تم اب اپنے گھر کیوں نہیں جاتے ؟

مسلم خاموش رہے اس نے دوتین مرتبہ کہا تو مسلم نے جواب دیا! اے کنیز خدا میرا اس شہر میں کوئی گھر نہیں ہے کیا تم اپنے گھر میں مجھے پناہ دے کر ثواب حاصل کروگی؟ ممکن ہے اپنی زندگی میں ہی اس کا کچھ عوض دے سکوں۔ طوعہ نے پوچھا آپ کون ہیں آپ نے فرمایا: میں مسلم بن عقیل ہوں کوفہ والوں نے میرے ساتھ غداری کی ہے۔ طوعہ نے کہا آپ مسلم ہیں آئیے میرا گھر حاضرہے آپ داخل خانہ ہوئے طوعہ نے ایک الگ کمرے میں فرش لگایا کھانا لائی مگر آپ نے کھانا تناول نہیں فرمایا۔ اسی اثنا میں طوعہ کا لڑکا بلال آگیا اس نے اپنی ماں کو جب اس کمرہ میں بار بار آتے جاتے دیکھا تو معلوم کیا کہ آپ اس کمرہ میں آج بار بار کیوں داخل رہی ہیں بتائیے ماجرا کیا ہے؟ لڑکے کی ضد نے اس کو یہ راز بتانے پر مجبور کردیا پہلے اس نے لڑکے سے کہا: تم یہ قسم کھاؤ کہ یہ بات کسی سے نہیں بتاؤ گے اس نے قسم کھائی تو طوعہ نے کہا کہ آج ہمارے گھر میں مسلم بن عقیل مہمان ہیں وہ یہ بات سن کرخاموشی سے لیٹ گیا لیکن صبح ہونے کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا، صبح ہوتے ہی طوعہ کا لڑکا بلال، عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ مسلم بن عقیل ہمارے گھر میں موجود ہیں عبدالرحمن، فورا ہی دربار ابن زیاد میں اپنے باپ کے پاس پہنچا اور اس کے کان میں آہستہ سے کہا کہ مسلم ہمارے محلہ کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں ابن زیاد نے پوچھا کہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے؟ محمد بن اشعث نے جواب دیا کہ کہتا ہے مسلم بن عقیل ہمارے گھروں میں سے کسی گھر میں ہیں. مسلم کی گرفتاری کیلئے ابن مرجانہ نے محمد بن اشعث کی سر کردگی میں اسیّ سواروں کو روانہ کیا جب یہ لشکر طوعہ کے گھر کے قریب پہنچا جناب مسلم نے ہتھیاروں کی جھنکار اور گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی زرہ پہن کرگھر سے باہر نکلنا ہی چاہتے تھے کہ ابن اشعث کا لشکر گھرمیں داخل ہوا اور مسلم کوگرفتار کرنے کے نتیجہ میں جنگ شروع ہوگئی اور تن تنہا مسلم نے لشکر کو تین مرتبہ گھر سے باہر نکال دیا۔ (2)

جب ابن زیاد کے سپاہیوں نے دیکھا کہ اس طرح مسلم بن عقیل پر ہم قابو نہیں پا سکیں گے تو انہوں نے مکانوں کی چھتوں سے جناب مسلم پر پتھر اور آگ برسانا شروع کردیا، مسلم بن عقیل اس روباہ شکار لشکر کی بزدلی اور کم ظرفی کو دیکھ کر گھر سے نکل آئے اور دلیرانہ جنگ کرنے لگے اور محمد بن اشعث کے بہت سے سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مسلم کے حملوں کو دیکھ کر ابن اشعث سمجھ گیا کہ مسلم کو اس طرح گرفتار نہیں کیا جاسکتا لہذا اس نے کہا مسلم آپ کے لئے امان ہے تو آپ نے فرمایا:کیا فریب کار اور بدکردار لوگوں کی امان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ لیکن لشکر والوں نے بیک آواز کہا کہ آپ کو دھوکا نہیں دیا جارہا ہے اورنہ ہی آپ سے جھوٹ بولا جارہا ہے۔ آپ کو اسیر کرکے ابن زیاد کے پاس لایا گیا؛

اور جب جناب مسلم نے اپنی شہادت کے آثار محسوس کئے تو وصیت کے لئے مہلت طلب کی ابن زیاد نے کہا وصیت کی اجازت ہے حضرت مسلم نے ایک مرتبہ پورے مجمع پر نظر ڈالی عمر سعد کے علاوہ کوئی شخص وصیت کے لائق نظر نہ آیا، مجبوری کی حالت میں کمینہ، نالائق اور گھٹیا لوگ بھی قابل اعتماد سمجھ لئے جاتے ہیں، لہذا حضرت مسلم نے بھی ابن سعد کو لائق اعتبار سمجھ کر فرمایا ہمارے تمہارے درمیان ایک قرابت ہے اس لئے تم سے میری ایک خواہش ہے لیکن ابن سعد نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا، ابن زیاد نے کہا سن تو لوکیا کہتے ہیں۔ ابن سعد جناب مسلم کے پاس گیا آپ نے اس کویہ وصیت کی کہ جب میں کوفہ آیا تھا تو اس وقت میں نے چھ سو درہم قرض لئے تھے ان کو میری زرہ اور تلوار فروخت کرکے ادا کردینا اور میری شہادت کے بعد ابن زیاد سے میر ی لاش لے کر دفن کردینا اور امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر اس حادثہ سے مطلع کردینا اور لکھنا کہ کوفہ تشریف نہ لایئے. ابن زیاد نے حکم دیا کہ مسلم کو بالائے بام لے جاکر شہید کردیا جائے جب مسلم کو چھت پر لے جایا گیا تو اس وقت آپ یاد خدا میں مصروف تھے احمر بن کبیر نے جناب مسلم کا سر تن سے جدا کیا اور لاش کو زمین پر پھینک دیا ۔اِنّا للّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ راجِعون

*******

١۔ الشہید المسلم ص١٠٣ومبعوث الحسین ص١٠

2۔ نفس المہموم ؛البدایة والنہایة ح٨ص١٦٧

ماخذ: http://www.erfan.ir/urdu/73049.html