اسلام ٹائمز: قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 713 دہشت گردوں سمیت 58603 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 731 ملزمان قتل اور 517 ملزمان بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کراچی میں جاری آپریشن کے نتائج کے حوالے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا ہے کہ آپریشن کے بعد کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 43 فیصد کمی آئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے بعد شہر میں قتل کی وارداتوں میں 37 فیصد کمی جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 6.7 فیصد کمی آئی ہے۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 713 دہشت گردوں سمیت 58603 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 731 ملزمان قتل اور 517 ملزمان بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ کے مطابق اس دوران 14253 ہتھیار بھی برآمد کیے گیے ہیں اور آپریشن کے دوران مفرور ہونے والوں کی تعداد میں 9.4 فیصد آضافہ ہوا ہے۔ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ آپریشن کے بعد کراچی میں جرائم میں مجموعی طور پر نمایاں کمی آئی ہے۔ وزیر داخلہ نے ملک میں موجود غیرملکیوں کی تعداد اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب تک ہونے والی پیشرفت کی تفصیلات بھی قومی اسمبلی میں پیش کیں۔

قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ایک لاکھ 16 ہزار 308 شہری پاکستان میں موجود ہیں جبکہ 79 ہزار447 برطانوی، امریکہ کے 52 ہزار46 شہری، 17 ہزار320 کینیڈین اور 16ہزار 501 بھارتی شہری بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق 2008ء سے اب تک امریکی شہریوں کے سوا 37 ہزار 993 غیر ملکی قیدیوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جاچکا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پیشرفت کی تفصیلات کے مطابق، پلان کے تحت غیرملکی طلبہ کو مدارس میں داخلے سے روک دیا گیا۔ پلان کے نفاذ کے بعد سے اب تک 175 افراد کو پھانسیاں دی گئیں ہیں، انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت 60، اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت 74 اور مشترکہ طور پر 12 تنظیموں کو کالعدم قراردیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے 9 خصوصی عدالتیں قائم بھی کی گئی ہیں، جن میں 69 مقدمات منتقل کر دیے گئے ہیں۔