اسلام ٹائمز: اس کا تاریخی پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات تمام سال سردی کی لپیٹ میں رہتے ہیں اور عموماً ان علاقوں میں ماہِ محرم سردی کی شدت کے ایام میں آتا ہے۔ ان علاقوں کے مذہبی رہنماوں اور علمائے کرام نے عوام کی باہمی مشاورت سے ان ایام کو شمسی تقویم کے تحت ہجری تقویم کے ساتھ گرمی کے موسم میں بھی منانے کا فیصلہ کیا۔
 
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں واقعہ کربلا کی یاد میں ماہ محرم الحرام کے علاوہ ماہ اسد میں بھی عزاداری کا اہتمام ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان میں کربلا کے اس عظیم واقعے کو شمسی تقویم کے مطابق اسد کے مہینے میں محرم ہی کی طرح نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ اس کا تاریخی پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات تمام سال سردی کی لپیٹ میں رہتے ہیں اور عموماً ان علاقوں میں ماہِ محرم سردی کی شدت کے ایام

میں آتا ہے۔ ان علاقوں کے مذہبی رہنماوں اور علمائے کرام نے عوام کی باہمی مشاورت سے ان ایام کو شمسی تقویم کے تحت ہجری تقویم کے ساتھ گرمی کے موسم میں بھی منانے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ محرم کا واقعہ شمسی تقویم میں ماہِ اسد میں پیش آیا تھا، لہذا کشمیر میں محرم کے علاوہ ماہ اسد میں بھی ایامِ عزاء منانے کے رواج نے فروغ پایا۔ یوں یہ سلسلہ کشمیر سے چل کر بلتستان آیا اور قریباً ایک صدی سے یہ عشرہ اسد تمام بلتستان میں مذہبی جوش و جذبے اور دینی حمیت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ امسال عشرہ اسد شروع ہوچکا ہے اور عاشورا یکم اگست کو منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں اسکردو پولیس اسد مجالس اور عاشورا کی سکیورٹی کیلئے خصوصی انتظامات کرے گی اور فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے خصوصی سکیورٹی پلان ترتیب دے رہی ہے۔