علامہ نیر عباس مصطفوی

نے وحدت ہاؤس گلگت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں حرمین شریفین واقع ہونے کی وجہ سے آل سعود محترم نہیں ہیں بلکہ سرزمین مکہ و مدینہ تمام مسلمانوں کے نزدیک محترم ہیں۔ مقدس مقامات کی وجہ سے حکمران مقدس ہوتے ہیں تو پھر یہودی ریاست بھی محترم ہوتی، مقدس مقامات اور حجاز کے ناجائز حاکم کو الگ الگ تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ مجلس وحدت مسلمین نے یمن پر سعودی جارحیت کی مذمت میں ریلی نکالی اور مظلوم یمنی عوام کی حمایت کی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کا نعرہ ہی ظالم سے نفرت و بیزاری اور مظلوم کی حمایت اور داد رسی ہے چاہے ظالم شیعہ ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم غیرمسلم ہی کیوں نہ ہو۔

علامہ شیخ نیئر عباس مصطفوی نے کہا کہ نواز لیگ مجلس وحدت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور بے بنیاد الزامات کی آڑ میں مجلس وحدت کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا احتجاج نواز حکومت اور اس کے ہمدرد جارح سعودی حکمرانوں کے خلاف تھا جنہوں نے یمن کے عوام پر چڑھائی کی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اس احتجاجی مظاہرے میں کسی بھی مکتب فکر کو نہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور نہ ہی دل آزار نعرے لگائے گئے۔ محض سنی سنائی باتوں پر انسداد دہشت گردی کے دفعات لگا کر ایف آئی آر درج کروانے کے پیچھے ایک سیاسی جماعت کا ہاتھ ہے جو مجلس وحدت کی سیاسی مقبولیت سے خوفزدہ اور پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے خوف زدہ ہو کر ہم مظلوموں کی حمایت اور ظالموں سے اظہار نفرت کبھی ترک نہیں کرینگے۔