تحقیقی رپورٹ:

رائل یونائیٹڈ سروس انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے حال ہی میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے،

جس میں دنیا بھر میں موجود جہادی گروپوں کے مالی وسائل کے حوالے سے دلچسپ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اپنے آپ کو ریاستِ اسلامیہ کہلوانے والا گروہ مالی اعتبار سے تاریخ میں سب سے زیادہ مستحکم عسکری گروپ ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے مالی وسائل حاصل ہیں۔ اس ضمن میں کرائی گئی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جہادی گروپوں نے مخیر حضرات کی طرف سے ملنے والے مالی عطیات کی بجائے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے طریقوں پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے، جن میں قدرتی وسائل کی فروخت سمیت مختلف طریقے شامل ہیں۔ جیسا کہ زیر تسلط علاقوں سے ٹیکسوں کی وصولی اور سمگلنگ کے راستوں پر کنٹرول وغیرہ۔

مالی وسائل کے اہم ذرائع:
داعش کو مخیر حضرات سے بھی مالی عطیات حاصل ہوتے ہیں تاہم انکے پاس مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ بلیک مارکیٹ میں تیل کی فروخت اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں آباد غیر مسلموں اور ان کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے بدلے میں وصول کیے جانے والے ٹیکسوں سے آتا ہے۔ اس سے قبل اسی طرز پر طالبان بھی مالی وسائل حاصل کرنے کے ذرائع بڑھاتے رہے ہیں جن میں منشیات کی تجارت پر کنٹرول اور وسیع پیمانے پر بھتے کی وصولی شامل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق طالبان سالانہ 25 تا 40 کروڑ ڈالر کماتے ہیں۔ جبکہ صومالیہ میں متحرک ‘‘الشباب گروپ’’ کا زیادہ تر انحصار کوئلے کی برآمد اور ٹیکسوں پر ہے۔ یہ بہت منظم گروہ ہے اور اس نے انتظامی ادارے بھی بنا رکھے ہیں اور یہ اپنی وزارتِ خزانہ بھی چلا رہا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق دنیا کے چار امیر ترین جہادی گروپس کی اجتماعی سالانہ آمدنی چار اعشاریہ چھ ارب امریکی ڈالر ہے۔ جبکہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ سالانہ آمدنی کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ داعش دو ارب ڈالر، طالبان چالیس کروڑ ڈالر، الشباب دس کروڑ ڈالر، لشکرِ طیبہ دس کروڑ ڈالر۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں سینٹر فار فائننشل کرائم اور سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر ٹام کیٹنگز کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس طرح کے جہادی گروپوں کے مالی معاملات سمجھنے میں اکثر غلطی کرتی ہے۔ آپ اکثر دیکھیں گے کہ اس طرح کی تنظیموں میں مالی معاملات کو دیکھنے والا غیر ملکی ہوتا ہے۔ یہ کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو کہیں اور سے آیا ہوتا ہے اور مالیات کا تجربہ اور مہارت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں بین الاقوامی برادری کے طور پر ان تنظیموں پر اس سے زیادہ محنت صرف کرنی چاہیئے جتنی یہ تنظیمیں اپنے اوپر لگاتی ہیں لیکن ہم ان کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔

عسکریت پسندوں کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے سے روکنے کا مناسب وقت:
مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ان تنظیموں کے مالی وسائل کو روکنے کا سب سے بہتر موقع ان کے ابتدائی ایام میں ہوتا ہے جب یہ مخیر حضرات سے ملنے والے عطیات پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت ان مخیر حضرات پر مالی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں مگر جب ایک مرتبہ یہ مالی وسائل حاصل کرنے کے مختلف ذرائع خود بنا لیتی ہیں پھر ان کو ملنے والے رقوم کو روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک سال قبل داعش نام کے جہادی گروپ کو کم ہی لوگ جانتے تھے سوائے انکے جو اس سے متاثر ہوکر اس میں شامل ہونے کے لئے جاتے تھے یا پھر وہ جو سکیورٹی اور تعلیمی اداروں میں شام اور عراق کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اس کے سامنے آنے کے بعد بھی اسے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا کہ یہ بھی ان بےشمار گروپوں کی طرح ہے جو صدر بشار الاسد کے خلاف شام میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

جنوری 2014ء میں امریکی صدر براک اوباما نے فلوجہ اور دوسری جگہوں پر عراق اور شام میں القاعدہ کا جھنڈا لہرانے والوں کی استطاعت اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات کو گھٹا کر بیان کیا تھا۔ لیکن چند ہی مہینوں میں داعش نے شمالی شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ امریکہ کے سابق وزیر دفاع چک ہیگل نے داعش کو منظم اور وسیع مالی وسائل کی حامل تنظیم قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسکی حیثیت ایک دہشت گرد گروہ سے بہت بڑھ کر ہے اور یہ کہ یہ بےشمار مالی وسائل رکھتا ہے۔

دہشتگردی میں مالیات کا کردار:
بین الاقوامی برادری کی توجہ کسی بھی دہشتگرد تنظیم سے زیادہ داعش کے فنڈ پر تھی جو اسے تیل کی آمدن، ٹیکسوں، لوٹ مار اور بھتوں سے حاصل ہو رہی تھی۔ امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد نے داعش کے خلاف فضائی مہم کو تیل کے کارخانوں اور سمگلنگ کے راستوں پر مرکوز کئے رکھا، اس یقین کے ساتھ کہ تنظیم کے ذرائعِ آمدن کو مسدود کرنے سے یہ تنظیم اپنی موت آپ مر جائے گی۔
مالی وسائل کی اہمیت اس بحران میں اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود یہ بحران۔ روم کے ایک مقرر مارکس تولیس سسرو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ سرمائے کی لامحدود فراہمی ہی جنگ کا ایندھن ہوتا ہے۔
ماضی قریب میں سرد جنگ کے دوران میں ریاستیں سرمایہ اور بالواسطہ طریقوں سے سیاسی تشدد کو ہوا دیتی رہیں لیکن سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے لیبیا اور سوڈان جیسے ملکوں کے خلاف منظور کی جانے والی قراردادوں کی وجہ سے ریاستی دہشت گردی میں ڈرامائی حد تک کمی واقع ہوئی۔ اگرچہ بعض تنظیمیں ریاستی پشت پناہی سے چلتی رہی ہیں، تاہم سرد جنگ کے بعد کی دہشت گرد تنظیمیں ریاستی پشت پناہی پر انحصار نہیں کرسکتی تھیں اور انہیں اپنے مالی وسائل ڈھونڈنے کی ضرورت تھی۔ مالی وسائل کا ماہرانہ حساب کتاب ہی کسی دہشت گرد اور باغی گروہوں کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ یہ رگوں میں دوڑتےخون کی طرح اہم بھی ہوتا ہے اور ایک بڑی کمزوری بھی۔

عسکریت پسندوں کے ڈونرز:
مالی وسائل حاصل کرنا اور ان کو محفوظ بنانا کسی بھی دہشت گرد گروپ کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ سرمائے کی مینیجمٹ، عسکری مہارت اور نئے رضاکاروں کو بھرتی کرنے کی صلاحیت سے ہی دہشت گرد تنظیموں کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ عام طور پر دہشت گرد گروپوں کے لئے مالی وسائل حاصل کرنے کے دو بنیادی ذرائع ہوتے ہیں۔ مالی عطیات اکثر اوقات ہم خیال گروپ فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نائجیریا کے بوکو حرام گروپ نے مبینہ طور پر شروع میں القاعدہ سے ڈھائی لاکھ ڈالر وصول کئے تھے۔ اسی طرح القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے 2005ء میں عراق میں القاعدہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے ایک لاکھ ڈالر منتقل کرنے کو کہا تھا کیونکہ ان کے اپنے مالی وسائل ختم ہو گئے تھے، گو کہ عطیات ابتدائی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن اسے حکام کی جانب سے بند کرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے اور اس کی ترسیل معطل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ مالی طور پر خودکفیل ہونے کے لئے شدت پسند تنظیموں کو بیرونی عطیات سے بڑھ کر اپنے اندرونی اور اپنے مالی ذرائع پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جسے بین الاقوامی برادری کے لئے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

منشیات:
دہشتگرد گروپوں کے لئے ایک اہم اور بڑا مالی ذریعہ منشیات سے حاصل ہونے والا سرمایہ ہے، صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب جس کی ایک واضح مثال ہے جبکہ اس تنظیم کو کسی حد تک عطیات بھی ملتے ہیں تاہم اس نے کوئلہ برآمد کرنے کا ایک مؤثر کاروبار شروع کیا جس سے اقوامِ متحدہ کے مطابق، اسے سالانہ 80 لاکھ امریکی ڈالر کی آمدن ہوتی ہے۔ الشباب نے مالی وسائل جمع کرنے کے ایک اور ذریعے پر بھی مہارت حاصل کی ہے اور وہ ہے ذاتی اور ٹرانسپورٹ ٹیکس کا نفاذ۔ تنظیم ایک علاقے اور اس کی آبادی کو کنٹرول کرتی ہے اور اپنے زیرِ کنٹرول علاقے میں حکومتی طرز پر کام کرتی ہے۔ یہ لوگوں سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور اس کے بدلے میں انہیں کچھ خدمات دیتی ہیں جن میں سکیورٹی اور انصاف دینا شامل ہے۔ داعش بھی اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں آباد مسلمانوں کو خوراک اور دیگر خدمات کی فراہمی کا وعدہ کرتی ہے۔

کسی علاقے پر کنٹرول سے منافع بخش کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی ملتا ہے جس طرح افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں منشیات کے کاروبار کو بند کرنے کے لئے اب تک 7 ارب امریکی ڈالر سے زائد رقم خرچ کی جا چکی ہے اور گذشتہ 13 سال کے دوران نیٹو کی جانب سے اس پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود پوست کی کاشت کم ہونے کی بجائے، ماضی سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 90 فیصد افیون کی ترسیل افغانستان سے ہوتی ہے۔ غرض یہ کہ طالبان اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف منشیات سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ امریکی ڈالر کماتے ہیں۔

تاہم یہ بھی واضح ہو کہ تمام شدت پسند گروہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے ٹیکس اور بھتہ وصول نہیں کرتے۔ کم آبادی والے صحارا اور ساحل کے وسیع علاقوں میں قائم شدت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم اور مغربی افریقہ میں القاعدہ دو مرکزی ذرائع سے مالی وسائل جمع کرتی ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں قائم حقانی نیٹ ورک کے مالی وسائل کا مرکزی ذریعہ سمگلنگ ہے۔ یہ تنظیم 1979ء میں سابق سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کی مخالف رہی ہے اور اسی وجہ سے اسے سمگلنگ کے پرانے راستوں پر کنٹرول حاصل ہے اور پاکستان افغانستان میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اپنی مجرمانہ سرگرمیوں سے وسائل اکٹھے کرتا ہے۔

اغوا برائے تاوان:
شدت پسند گروہوں کی جانب سے مالی وسائل جمع کرنے کے لئے اغوا برائے تاوان کے طریقے کے استعمال میں حال ہی میں بہت تیزی آئی ہے۔ یمن میں قائم اے کیو اے پی یا جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ نے ایک اندازے کے مطابق 2011ء سے 2013ء کے درمیان صرف اغوا برائے تاوان کے ذریعے 20 لاکھ امریکی ڈالر کمائے۔ اقوامِ متحدہ نے اغوا برائے تاوان سے ہونے والی آمدن کا اندازہ لگاتے ہوئے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کو 2004ء سے 2012ء کے درمیان اغوا برائے تاوان سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر کی آمدن ہوئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ صرف داعش نے گذشتہ سال اس طریقۂ کار کے ذریعے 45 لاکھ امریکی ڈالر کمائے۔ پس ظاہر ہوا کہ اگر شدت پسند تنظیموں کو اپنے آپ کو قائم و دائم رکھنا اور آگے بڑھنا ہے تو اسے اپنے زیرِ کنٹرول اور زیرِ اثر علاقوں میں اور آبادی کے اندر مالی وسائل اکٹھے کرنے کے ذرائع پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

عراق پر 2003ء میں حملے کے دوران ملنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اے کیو آئی یا عراق میں القاعدہ نے مالی وسائل کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ ان دستاویزات میں اس گروپ نے معاشی بد انتظامی کو اپنی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ کیونکہ کسی بھی شدت پسند تنظیم کو قائم و دائم رہنے کے لئے مالی وسائل بے انتہا ضروی ہوتے ہیں جس کے بغیر یہ نہیں چل سکتے اور یہی ان کی ایک بڑی کمزوری بھی بن سکتی ہے۔
نائن الیون کے حملوں کے بعد بین الاقوامی برادری نے شدت پسند گروپوں کو منتشر کرنے کے لئے ان کے مالی وسائل کے ذرائع کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’’ کا پہلا اقدام دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے مالی وسائل کی بنیادوں پر حملہ تھا، تاہم جس طرح ہم شمالی شام اور عراق میں دیکھ رہے ہیں کہ شدت پسندوں کو مالی وسائل سے محروم رکھنا بھی آسان نہیں، خاص کر جب وہ بیرونی عطیات سے خود کفالت کی طرف چل پڑتے