ایران میں کیا ہورہا ہے اور تہران نے اب تک اس کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیوں نہیں کیا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک ترکیبی جنگ ہے جس کے ذریعے دشمن حکومت ایران کو خانہ جنگی میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔ دشمن نے اپنے ہدف کے حصول کے لیے یہ روش اختیار کی ہے۔ بین الاقوامی اور خطے کے خفیہ ادارےایرانی عوام کو نظام حکومت کے خلاف اکسانے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔ دشمن نے اس جنگ میں خواتین کے حقوق کے لیے نام نہاد تحریک، گلی کوچوں میں بے گناہوں کی قتل و غارت گری اور اقلیتوں کے حقوق کی نام نہاد تحریک کو بطور ابزار استعمال کیا ہے۔ ان تینوں کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری تھا کہ دشمن تمام تر وسائل اور طاقت کے ساتھ میدان میں کودے تاکہ ایرانی عوام کو دھوکے اور فریب کے ساتھ اپنی حکومت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے۔ اس سب کے بعد دشمن کی خواہش تھی کہ ایرانی سیکورٹی فورسز اپنی ہی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کریں۔

لیکن چونکہ ایرانی حکمران مسلمان اور اپنی عوام پر یقین اور ان کے عزم پر بھروسے کرنے والے حکمران ہیں۔ ایرانی انتہائی ذہین اور ماضی کے تجربات سے سیکھے ہوئے کشتہ کار حکمران ہیں۔دشمن کی اس چال پر ایرانی حکومت کا نکتہ نظر پہلے دن سے ہی بہت شفاف تھا کہ:

 

سعودی، امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے کرائے کے قاتلوں سے عوام کو جدا کرنا

کسی بھی عوامی اجتماع پر کبھی بھی گولی نہ چلانا، صرف اور صرف اپنا دفاع کرنا، اور کبھی بھی میدان میں انتقام کا سہارا نہ لینا اور اس کے لیے موت کا خطرہ تک قبول کرنا۔ اور اس کی بنیاد یہ اصول ہے کہ ” ظالم بن کر مرنے سے بہتر مظلومیت کی موت بہتر ہے”۔

یہ ایک ترکیبی اور مسلط کردہ جنگ ہے جو کسی ایک کمانڈ اور کنٹرول روم سے نہیں لڑی جارہی اور نہ ہی کسی خاص علاقے میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ کسی جگہ یہ قومی اور لسانی جھنڈے کے نیچے شروع کی گئی تو کسی جگہ انسانی حقوق کے نام پر اس آگ کو لگایا گیا ہے لہذا اس درمیان یہی حکمت عملی سب سے بہتر تھی جو ایرانی حکومت نے اختیار کی ہے۔ اس جنگ کا مقابلہ صبر اور وقت کی مدیریت سے ممکن ہے۔ ایرانی حکومت کے یہ دونوں اصول کافی تھے کہ جنگ کا رخ واپس دشمن کے کیمپ کی طرف موڑ دیا جائے۔

اس حکمت عملی کے ایران نے نتائج حاصل کرنا شروع کردئیےہیں:

عام عوام بلوائیوں اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کےسرغنوں اور ٹھکانوں کے بارے جان چکی ہے۔ عوام جان چکی ہے کہ ان بلوائیوں کے پیچھے غیر ملکی خفیہ اداروں اور عناصر کا ہاتھ ہے۔ عوام جان چکی ہے کہ یہ لوگ کسی بھی صورت ایرانی عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

اسی طرح مسلح بلوائیوں کے سرغنوں کے نیٹ ورک اور ان کی سرگرمیاں مکمل طور پر بے نقاب ہوچکی ہیں۔

بیرونی دشمن منتشر ہو گیا اور اب اس کے پاس کچھ نہیں رہا ۔دشمن بے ہنگم اور غیر منظم حملے کرنے لگا ہے ۔ بلوائی پورے ایران میں لوگوں کی نگاہ میں منفور اور ناپسندیدہ بن چکے ہیں۔ اور لوگ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہمدردی کرنے لگے ہیں ۔

ایرانی قیادت کی حکمت وبصیرت اور حکام کی درست روش سے خطرہ فرصت میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ جب کہ دشمن کی نقل و حرکت کے تمام منصوبوں اور نقشوں پر قابو پا لیا گیا۔ابتدائی طور پر جو لوگ مظاہرین کے حوالے سے کچھ نرم گوشہ رکھتے تھے ان میں سے نوے فیصد لوگ ان کی اصلیت جان کر حکومتی کیمپ میں چلے گئے ہیں۔

واستعينوا بالصبر والصلاة وانها لكبيرة الا على الخاشعين (بقرہ/۴۵)

اور صبر اور نماز سے مدد لو اور یہ بہت سخت ہے سوائے ان لوگوں کے جو فرماں بردار ہیں۔