تحریر: نذر حافی
[email protected]

قرآن مجید اور سُنّتِ نبوی ؐکا مقصد “ہدایتِ بشر” ہے۔ آیات و روایات کو صرف رٹہ لگا کر حفظ کرنے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ ہر مسلمان اِس پر ایمان رکھتا ہے کہ قرآن اور احادیث کے اندر اُس کیلئے مکمل  نظامِ حیات موجود ہے۔ یعنی مسلمانوں کیلئے قرآن اور احادیث ایک نظامِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک غیر نبوی ؐ و غیر قرآنی نظامِ حیات، چاہے مغرب میں رہنے والے بنائیں یا مشرق میں، چاہے مکہ و مدینہ میں رہنے والے بنائیں یا کوفہ و شام والے، چاہے گورے انگریز بنائیں یا سیاہ افریقائی، ایسا کوئی بھی نظام مسلمانوں کیلئے نظامِ حیات نہیں ہے۔ “قرآن و سُنّت” صرف نبیﷺ کی ظاہری زندگی کے دور میں نظامِ حیات نہیں تھے بلکہ نبی پاک ؐ کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی “قرآن و سُنّت” کو مسلمانوں کیلئے ایک مکمل نظامِ حیات کی حیثیت حاصل ہے۔ عصرِ حاضر میں بھی اور قیامت تک بھی، اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید اور اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ ہماری ہدایت کے ذمہ دار ہیں۔

کوئی بھی مسلمان لمحہ بھر کیلئے بھی قرآن مجید اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنی زندگی کیلئے نجات دھندہ نہیں سمجھ سکتا۔ اب  ایک طرف اکثریت اُمّت تو قرآن مجید اور احادیثِ نبوی ؐ کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں  رکھتی۔ بہت سارے مسلمان ترجمہ کرنا تو دور کی بات، دیکھ کر بھی عربی پڑھنا نہیں جانتے۔ جو پڑھنا اور ترجمہ کرنا جانتے بھی ہیں، اُن کی سوجھ بوجھ کے بھی درجات مختلف ہیں۔ عام عوام کیلئے بھی ہر فرقے کے علماء قرآن و حدیث کی اپنی اپنی تفاسیر بیان کرتے ہیں۔ دوسری طرف نبی اکرم ؐکے وصال کے بعد کے زمانے میں حضورؐ سے بھی براہِ راست ہدایت نہیں لی جا سکتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ایسے دور میں اُمّت کی ہدایت کیسے ممکن ہے؟ کیا اب سارے مسلمان بیٹھ کر عربی، تاریخ اسلام، علوم قرآن اور علومِ احادیث سیکھنا شروع کر دیں؟ یہ بھی ناممکن ہے۔

بفرضِ محال اگر یہ ممکن بھی ہو جائے تو پھر بھی اُمّت کسی اک نکتے پر جمع نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے جنہوں نے علومِ قرآن اور علومِ احادیث میں تبحر اور گہرائی حاصل کی ہے، خود اُن کا فہمِ دین ایک دوسرے سے مختلف ہے اور وہی ایک دوسرے کو غلط کہتے ہیں۔ مزید اگر سارے مسلمان اِن علوم کو حاصل بھی کر لیں تو نتیجہ سابقہ اختلافات کے تسلسل اور نئے اختلافات و نئے فرقوں کی ایجاد کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ یہ سوال انتہائی اہم ہے۔ یہ واضح ہے کہ اس دور میں اُمّت کی اکثریت کیلئے قرآن مجید اور نبی کریم ؐ سے براہِ راست ہدایت لینا ناممکن ہے۔ یہ ایک دو سال کی بات نہیں بلکہ اب قیامت تک اس اُمّت نے اسی طرح رہنا ہے۔ یہ اتنا اہم مسئلہ جب ہمیں سمجھ آرہا ہے تو کیا نعوذ باللہ نبی اکرم ؐ کو اِس مسئلے کا پتہ نہیں تھا۔؟ کیا اُنہیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ میرے بعد قیامت تک میری اُمّت کیسے صراطِ مستقیم پر چلے گی۔؟

اگر ہمارے نبی ؐ نے ہمارے لئے، غُسلِ جنابت کا طریقہ، بیت الخلاء کے احکام، کھانے کے آداب اور مسواک کے فوائد تک بتائے ہیں تو کیا یہ نہیں بتایا کہ میرے بعد قیامت تک میری اُمّت کیسے ہدایت پائے گی۔؟ پیغمبرِ اسلامؐ ایک عظیم مدبِّر، بہترین قائد، بابصیرت رہنماء اور ایک بے مثال انقلاب کے بانی تھے۔ کیا اتنا عظیم قائد یہ بتا کر نہیں گیا کہ میرے بعد میری اُمّت نے کیسے میرے انقلاب کو زندہ رکھنا ہے۔؟ قرآن مجید صرف نبی اکرمؐ کے زمانے کیلئے ہدایت کی کتاب نہیں تھا، یہ قیامت تک کیلئے اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اب قیامت تک کیلئے اس سے مولوی حضرات اپنی اپنی مرضی کے مطابق گوناگون مطالب نکال کر لوگوں کو اپنے اپنے پیچھے لگائے ہوئے ہیں۔ جو علماء حضرات لوگوں کو قتل کرنے اور درندگی پر ابھارتے ہیں، وہ بھی اسی قرآن سے آیات بیان کرتے ہیں اور جو عالمِ بشریت کی خدمت اور فلاح و بہبود، نیز انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کی بات کرتے ہیں، وہ بھی اسی قرآن سے استدلال کرتے ہیں۔

کیا نبی اکرم ؐ اس قرآن کو اسی طرح لاوارث چھوڑ کر چلے گئے تھے کہ جو کوئی شخص مرضی ہے، اس قرآن سے مطالب اخذ کرتا رہے یا پھر آپ اُمّت کو بتا کر گئے تھے کہ میرے بعد گمراہی سے بچنے کیلئے اس قرآن کے مطالب اور مفاہیم کس سے لینے ہیں۔؟ اللہ کی آسمانی کتابوں سے من پسند معانی نکالنے اور من گھڑت استنباط کرنے والے گذشتہ اقوام میں بھی موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔ کیا رسولِ خدا ؐ جیسے دانا رہبر کو اس خطرے کا ادراک نہیں تھا؟ اور اگر ادراک تھا تو آپ نے اس کے سدِّباب کیلئے کیا اقدامات فرمائے۔؟ آج ہم دیکھتے ہیں کہ عام اور چھوٹے چھوٹے لیڈر بھی اگلے پچاس سو سال کے بعد پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں اور اُن سے نمٹنے کیلئے مختلف نکات بیان کرتے ہیں۔ جب ہمارے یہ عام سے لیڈر اتنی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو کیا نبی اکرم ؐ جیسا عظیم رہبر ان خطرات کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا کہ میرے بعد میری اُمّت کے مولوی اللہ کی کتاب سے خود ساختہ مفاہیم نکالیں گے، میری قائم کردہ اسلامی ریاست کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور میری آل و خاندان کو قتل کر دیا جائے گا۔؟ اگر ایک عظیم اور دانا رہبر ہونے کے ناطے ہمارے پیغمبرؐ کو اِن خطرات کا ادراک تھا تو اِن کی روک تھام کیلئے آپ نے کیا اقدامات کئے۔؟

اگر پیغمبرِ اسلام ؐکو اپنے بعد اپنی اُمّت میں مسائل، اختلاف و گمراہی کے خطرے کی سوجھ بوجھ تھی تو کیا آپ نے مسائل و اختلاف کے حل کیلئے اُمّت کو  قرآن مجید اور اپنے اہلِ بیتؑ کے دامن میں پناہ لینے کا حکم دیا تھا یا قرآن و اہلِ بیت کو چھوڑ کر خود بیٹھ کر اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر سقیفہ بنی ساعدہ کی طرح مسائل حل کرنے کا کہا تھا۔؟ پیغمبرِ اسلام کے بعد اگر سقیفہ بنی ساعدہ والا طریقہ کار درست تھا تو پھر کیوں خلفائے راشدین نے خلفا کے انتخاب کیلئے وہی طریقہ اختیار نہیں کیا۔؟ کیوں پہلے خلیفہ نے دوسرے خلیفہ کا انتخاب سقیفہ بنی ساعد کی طرز پر نہیں کیا؟ اُنہوں نے کیوں صرف اپنی صوابدید پر دوسرے خلیفہ کا انتخاب کیا؟ کیا اُمّت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اُنہیں یہ حق کتابِ خدا یا رسولِ خدا نے دیا تھا۔؟ چلیں اگر پہلے خلیفہ کا طریقہ کار درست تھا تو پھر دوسرے خلیفہ نے اُسے کیوں اختیار نہیں کیا؟ اُنہوں نے اپنے بعد ایک چھ رُکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا کہ جو اختلاف کرے، اُس کی گردن مار دی جائے؟ کیا اُمّت کیلئے ایسی خون آشام کمیٹی  بنانے کا حکم اُنہیں قرآن یا سُنّت نے دیا تھا۔؟

کیا ایسا پیغمبر جو قیامت تک کیلئے آخری دین لے کر آیا ہے، وہ اپنے بعد اُمّت کو ایسے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا کہ میرے بعد لوگ جو چاہیں، وہ سلوک اللہ کی کتاب اور میری اُمّت کے ساتھ کریں۔؟ کیا کتابِ خدا یا نبی اکرمؐ نے خلیفۃ الرسول ؐکیلئے مکّی، قریشی یا عمر میں بڑا ہونے کی قید معیّن کی تھی۔؟ جہاں سے تاریخ اسلام شروعات ہوتی ہے، وہیں سے سوالات اُٹھنےشروع ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے ہاں جو بھی سوالات اٹھاتا ہے، اُسے مطمئن کرنے کے بجائے اُس کے خلاف کُفر، شرک، ارتداد اور گمراہی کے فتوے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوالات کے جوابات دینے کے بجائے متشدد رویّہ اختیار کرنے سے صاحبانِ فکر و دانش کے نزدیک موجودہ اسلام زیرِ سوال چلا جاتا ہے۔ یاد رکھئے آیات و روایات کو  زبانی حفظ کرنے اور ایک دوسرے کو تقریروں میں سنانے سے مقصدِ نزولِ قرآن اور مقصدِ ختمِ نبوّت پورا نہیں ہوسکتا، جب یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا تو اُس وقت تک اُمّت بھی متحد نہیں ہوسکتی۔

اتحادِ اُمّت کیلئے ضروری ہے کہ جیسے نبی پاکؐ کی ظاہری زندگی میں مسلمان کتاب و سُنّت کو اپنے لئے نظامِ حیات مان کر اُس پر عمل کرتے تھے، اُسی طرح نبی پاک کی ظاہری و دنیاوی زندگی کے بعد بھی اپنی زندگی گزارنے کا لائحہ عمل اور نظامِ حیات کتاب و سُنّت سے اخذ کریں۔ ایک غیر نبوی ؐ و غیر قرآنی نظامِ حیات، چاہے مغرب میں رہنے والے بنائیں یا مشرق میں، چاہے مکہ و مدینہ میں رہنے والے بنائیں یا کوفہ و شام والے، چاہے گورے انگریز بنائیں یا سیاہ افریقائی، ایسا کوئی بھی نظام  مسلمانوں کیلئے نظامِ حیات نہیں ہے۔ ختمِ نبوّت کے بعد وحدتِ اُمّت کیلئے پہلا قدم یہی ہے کہ نبی اکرمؐ کی اس دنیاوی زندگی کے بعد بھی آپ ؐسے ہی سارے کا سارا  نظامِ حیات لیا جائے۔ ختمِ نبوّت کے بعد قیامت تک کیلئے حضرتِ انسان کی خاطر نظامِ حیات کا منبع  “قرآن و سُنّتِ نبویؐ ” ہے۔ اب قیامت تک ہمیں یہ نُسخہ اپنے پلو میں باندھ لینا چاہیئے کہ نبی پاک ؐ کی حیاتِ مبارکہ کی مانند آپؐ کے وصال کے بعد بھی جو نظام “قرآن و سُنّت” کا عطا کردہ نہیں ہوگا، وہ قرآنی و نبویؐ بھی نہیں ہوگا۔