تحریر: نذر حافی

یہ مقبوضہ کشمیر ہے۔ یہاں عوام کی سسکیاں کوئی نہیں سنتا۔ خواص میں سے کچھ بکے ہوئے، کچھ سہمے ہوئے اور کچھ محاصرے میں ہیں۔ میڈیا کی یہاں تک رسائی نہیں اور عالمی برادری کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ یہاں کے مکینوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تو پھر انسانی حقوق کیسے! گلی کوچوں میں جابر اور غاصب فوج گشت کر رہی ہے، کہیں سے مدد کی امید نہیں اور نہ ہی کسی سے مدد لی جا سکتی ہے۔ یہاں پر ساتھ ہی آزاد کشمیر اور پاکستان ہے۔ جہاں پر لوگ نمازیں پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں، عیدِ قربان پر قربانی بھی دیتے ہیں اور زکواۃ بھی ادا کرتے ہیں۔۔۔ ساٹھ ہجری میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی۔ لوگ اذانیں دے رہے تھے اور نمازیں پڑھ رہے تھے، حج کر رہے تھے اور زکواۃ بھی ادا کر رہے تھے، خواص بھی آج کل کی طرح کچھ بکے ہوئے، کچھ سہمے ہوئے اور کچھ محاصرے میں تھے۔ لوگوں کو اپنی نمازوں، حج، زکواۃ اور عبادات کی تو فکر تھی، لیکن انہیں یہ فکر نہیں تھی کہ وہ کِس کی غلامی کر رہے ہیں۔ لوگ یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ وہ نبی اکرمﷺ کو تو اپنا آقا مقامِ نبوّت کی وجہ سے مانتے ہیں، لیکن وہ یزید جیسے فاسق کو اپنا آقا کیوں مان بیٹھے ہیں۔؟َ

اُس وقت حضرت امام حسینؑ دیکھ رہے تھے کہ عوام کو شعور نہیں ہے، خواص بکے ہوئے اور یا پھر ڈرے ہوئے ہیں، جبکہ فوج اور طاقت جابر و غاصب حکومت کے پاس ہے۔ ایسے میں حضرت امام حسینؑ اگر چاہتے تو وہ بھی یہ کہہ سکتے تھے کہ جب عوام بے شعور ہیں، خواص بے حِس ہیں اور فوج اور طاقت تو جابر و غاصب حکومت کے پاس ہے، لہذا مجھے بھی آرام سے کسی مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھانی چاہیئے یا کوئی دینی مدرسہ کھول لینا چاہیئے۔ اُس غفلت، بے حِسی اور خاموشی کے دور میں امام عالی مقام ؑ نے اذانیں دینے اور نمازیں پڑھانے کے بجائے لوگوں کو غُلامی کے خلاف بیدار کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ آپ جانتے تھے کہ آپ کو ایک منفرد قسم کی قربانی دینے کی ضرورت ہے۔ آپ سے پہلے جتنے بھی شہداء نے قربانیاں دیں، وہ اسلام کے دفاع اور اسلام کو مضبوط کرنے کیلئے تھیں، لیکن آپ نے جو قربانی دینی تھی، وہ خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کیلئے تھی۔ آپ نے ایک ایسی قربانی دینی تھی، جس سے دنیا کا ہر انسان چونک جائے، بیدار ہو جائے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک ایسی منفرد قربانی کے لئے آپ کو کسی بڑے لشکر کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایک خاص حکمتِ عملی کی ضرورت تھی۔

چنانچہ آپ نے کوئی لشکر اکٹھا نہیں کیا، نہ ہی ہتھیار جمع کئے اور نہ ہی طبلِ جنگ بجایا۔ آپ نے واضح طور پر یہ کہا کہ میں قربان ہونے کے لئے جا رہا ہوں، لیکن ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہا کہ میں یزید کو قتل کرنے یا اُس کا تختہ اُلٹنے کیلئے جا رہا ہوں۔ آپ نے قُربانی کا راستہ اختیار کیا اور اُس کے لئے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کا انتخاب کیا۔ یہی ایک سچے مجاہد کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ جہاد کا آغاز اپنے آپ سے کرتا ہے۔ لوگ حضرت امام حسینؑ کا راستہ روک رہے تھے، لیکن امام اُنہیں سمجھا رہے تھے کہ اب رُکنے سے نہیں اُٹھنے سے کام چلے گا۔ اِمام نے اپنا ہدف یزید کا تخت اُلٹنا نہیں بلکہ قربان ہونا بتایا۔ آپ نے یہ انوکھا ہدف اختیار کرکے یہ سمجھا دیا کہ کچھ لوگ ہدف اس لئے اختیار کرتے ہیں، تاکہ وہ اُس ہدف کے ذریعے کسی حکومت یا مقام و مرتبے تک پہنچ جائیں، لیکن کچھ لوگ کسی ہدف کو اِس لئے اختیار کرتے ہیں، تاکہ وہ ہدف باقی رہے۔ اُس زمانے میں غُلامی کے خلاف قُربانی دینا لوگوں کا ہدف نہیں رہا تھا۔

حضرت امام حسینؑ نے غُلامی کے خلاف قربانی دے کر قُربانی دینے کے جذبے کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسینؑ نے بظاہر یزید کے تخت کو نہیں اُلٹا اور آپ لق و دق صحرا میں اپنے ساتھیوں سمیت بھوکے و پیاسے شہید ہوگئے۔ آپ کے خاندان کی مستورات کو قیدی بنا کر کوچہ و بازار میں پھرایا گیا، لیکن آپ کی قربانی کے بعد لوگوں کو ہوش آگیا۔ لوگ خوابِ غفلت سے بیدار ہوگئے، لوگوں نے غُلامی کی غلاظت کو محسوس کرنا شروع کر دیا۔ آپ کے بعد پے درپے قربانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس سے پہلے لوگ صرف اپنی عبادات میں مگن تھے، لیکن اس کے بعد قیام ہی قیام کرنے لگے۔ توّابین نے قیام کیا، مختار ثقفی نے تلوار اٹھائی، عبداللہ ابن زبیر نے میدان سجایا، اہلِ مدینہ نے یزید کی غُلامی سے انکار کیا۔۔۔ لوگوں نے یزید کی غُلامی میں اپنے جھکائے ہوئے سر اُٹھا لئے، یہانتک کہ بنو امیّہ کا تخت تاراج ہوگیا۔ یہ سب حسینؑ ابن علیؑ کی قربانی کی بدولت ہوا۔ آپ نے غاصب حکومت کو اپنے حصے کا دھکا دیا اور دوسروں کیلئے راستہ بنا دیا، اس کے بعد لوگ اپنے اپنے حصّے کا دھکا دیتے چلے گئے۔ لوگوں کو سمجھ آگئی کہ قربان ہو کر بھی قابضوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔

مسلمانوں کو پتہ چل گیا کہ فتح کا ایک راستہ قربانی بھی ہے۔ مسلمانوں نے یہ جان لیا کہ غُلامی سے نجات کے لئے بیداری اور بیداری کیلئے قُربانی ضروری ہے۔ آج جب ساری دنیا کشمیریوں سے منہ پھیرے ہوئے ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمران اپنی موج مستیوں میں مگن ہیں۔ عوام کی دینداری نماز و روزے کی حد تک ہی محدود ہے۔ کوئی نہیں جو کشمیریوں کو قابض ریاست سے نجات اور آزادی دلانے کے لئے میدان میں اُترے۔ ایسے میں کشمیریوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ غُلامی کی غلاظت کے خلاف لوگوں میں شعور کو زندہ رکھیں۔ بے شک خالی ہاتھ ہیں، لیکن حضرت امام حسینؑ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قربانیوں کے ذریعے اقوامِ عالم کے ضمیر کو جھنجوڑیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کریں۔ حسینؐ کا پیغام۔۔۔۔ کشمیریوں کے نام یہی ہے کہ جس دور کے مسلمان بے ضمیر اور بے حِس ہو جائیں، اُس دور میں نماز، روزے اور حج سے بڑی عبادت، غُلامی کے خلاف لوگوں کو بیدار کرنا ہے۔