وحدت نیوز ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین سیاسی اشتراک کا معاہدہ طے پا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور عمران خان نے دونوں جماعتوں کے مابین سیاسی اشتراک کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ وفود کی سطح پر ہونے والے معاہدے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بیرونی ڈکٹیشن اور غلامی کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی سرزمین پر غیر ملکی اڈوں کے قیام کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین کے وفد میں وائس چیئرمین ایم ڈبلیو ایم علامہ احمد اقبال رضوی، مرکزی جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، مرکزی سیکرٹری ایمپلائز ونگ ملک اقرار حسین و دیگر شامل تھے، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری و دیگر موجود تھے۔ دونوں پارٹیوں کے مابین سیاسی اشتراک کے معاہدے کے نکات درج ذیل ہیں:

1۔ وطن عزیز پاکستان کی داخلی وحدت، سلامتی اور استحکام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اسلامی اقدار کا تحفظ، تحریک پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت اور سیاسی، اقتصادی اور دفاعی خود انحصاری کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔

2۔ اسرائیل کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کی دی ہوئی گائیڈ لائن سے کسی قسم کی روگردانی نہیں کی جائے گی اور کشمیر و فلسطین کے موضوع پر اپنے اخلاقی، قانونی نقطہ نظر سے کسی قسم کا انحراف نہیں کیا جائے گا۔

3۔ پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے، مسلم ممالک کے ساتھ اتحاد و وحدت کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی۔ ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہوگا۔

4۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات میں مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی اور ان تنازعات میں فریق نہیں بنا جائے گا۔ دوست پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔

5۔ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنائے جائے گا۔

6۔ وطن عزیز پاکستان میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے گی اور استحصال شدہ طبقہ کی بحالی اولین ترجیح ہوگی۔

7۔ ہمیں غلامی قبول نہیں، پاکستانی سرزمین کسی بھی ملک کو فوجی اڈوں کے لیے نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں ہی ہوں گے، آزاد خارجہ پالیسی اور داخلی خود مختاری ہمارے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور اس بیانیے سے کسی طرح بھی روگردانی نہیں کی جائے گی۔