زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
فوج کی اعلی سطح قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے
شہر کے پہلے چوک پر گاڑی سے اترنے کے بعد ہم ڈاکخانے جانے والی گاڑی کا انتظار کر رہے تھے، کہ بالکل پاس ہی ایک بہت بڑا ٹرک کھڑا ہوا، اس کا پچھلا حصہ بڑی تختوں سے بند تھا، ان تختیوں پر ایک حسین قدرتی منظر نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا، یہ میرے لئے بہت ہی خوبصورت منظر تھا، منظر میں کچھ سرسبز پہاڑ تھے، اور عین بیچ میں ایک مسکراتے ہوئے معصوم بچے کی تصویر بنی ہوئی تھی، یہ بچہ سینہ تان کے کھڑا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ پیشانی تک لائے ہوئے بہت ہی پرچوش انداز میں کسی کو سلام کر رہا تھا، اور اس کے سینے کے بالکل سامنے بہت ہی خوبصورت اور دلآویز خط کے ساتھ یہ جملہ لکھا ہوا تھا: ” *پاک فوج کو سلام*۔”
یہ قدرتی حسین و جمیل منظر، اور اس پر لکھا ہوا یہ جملہ نہ نجانے کیوں میری توجہ کا مرکز بنا، اور نہیں معلوم کیوں بار بار میری آنکھیں ان تختیوں کو دیکھنے لئے موڑ جاتی تھیں، میرے ساتھ میرے والد مرحوم کھڑے تھے، جب ان کو یہ احساس ہوا، کہ میں بار بار اس ٹرک کی جانب دیکھ رہا ہوں، تو انہوں مسکراتے ہوئے، نہایت ہی شفقت بھرے لہجے میں کہا: محمد! کیا دیکھ رہے ہو؟ لگتا ہے ٹرک میں کوئی چیز پسند آئی گئی ہے؟! میں نے ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا: نہیں بابا، پس ویسے یہ تختیوں پر قدرتی منظر بہت اچھا لگا، اچھا بابا یہ بتائیے، کہ یہ بچا پاک فوج کو سلام کیوں کر رہا ہے، پتہ نہیں مجھے یہ جملہ کیوں اچھا لگا؟
والد صاحب ایک بار پھر مسکرائے، اور کہا: بیٹا! *جب ہم رات کو گھروں میں آرام سے سو جاتے ہیں، تو ہماری فوج کے دلیر جوان مورچوں میں بیٹھ کر ہماری حفاظت کرتے ہیں*، تو ایسے لوگوں کو تو سلام کرنا چاہیے نا! میں نے کہا: جی بابا، کیوں نہیں، میں بھی انہیں سلام کرتا ہوں، والد صاحب مسکرائے اور کہنے لگے: اچھا بیٹا اب گاڑی آئی گئی ہے، ڈاکخانے چلتے ہیں، پھر دیر ہو جائے گی۔
میں اس دن اپنے والد کے ساتھ شہر کے مختلف جگہوں پہ گیا، لیکن ٹرک پہ بنا وہ منظر، اور جلی حروف میں لکھا ہوا وہ جملہ: ” پاک فوج کو سلام ” اور پھر والد صاحب کا جواب، میرے ذہن میں بار بار گردش کر رہا تھا، اور دل ہی دل میں فوجی جوانوں سے ایک مخصوص سی محبت ہو گئی، لیکن کبھی فوج کے جوانوں کو قریب سے نہیں دیکھا تھا، پھر ایک دن – اگرچہ ٹھیک سے یاد نہیں – لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں، کہ ہمارے گاؤں  سے کچھ دور کے علاقے میں کسی قبائلی تنازعے کو حل کرنے کے لئے فوج کے کچھ دستے بلائے گئے تھے، فوجی جوانوں کا وہ قافلہ ہمارے گاؤں کے عین بیچ سے گزرا، یہ پہلی دفعہ تھا، کہ میں نے پاک فوج کے جوانوں کو براہ راست قریب سے دیکھا، مختلف گاڑیوں پر مشتمل جب یہ قافلہ ہمارے گاؤں سے گزرا، تو میں دیکھا کہ گاؤں کے لوگوں نے والہانہ استقبال کیا، جہاں سے قافلہ گزرتا گیا، لوگ مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر اپنی فوج کو سلام کر رہے تھے، فوجی جوان بھی اپنے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس استقبال کا جواب دے رہے تھے۔ میں وہ منظر آج تک نہیں بول سکا۔
یہ اس وقت کی بات جب میں پانچویں یا چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، اور پھر جیسے جیسے عمر گزرتی گئی، والد صاحب کے اس جملے پر یقین پختہ ہوتا چلا گیا، کہ واقعا اگر کسی بھی ملک کی فوج طاقتور ہو، تو اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے دشمن ہزار بار سوچتا ہے، اور ساتھ ایک اور انتہائی اہم بات یہ بھی واضح ہوگئی، کہ جس طرح کسی بھی ملک کا اہم اثاثہ، اور بہترین سرمایہ اس کی فوج ہے، بالکل اسی طرح فوج کی اصل طاقت، اس کی عسکری مضبوط قیادت، اچھی تربیت، اور اسلحے کی نوعیت نہیں، اگرچہ یہ سب کچھ ضروری ہیں، بلکہ فوج کی اصل طاقت، عوام کے دل میں اس کے لئے محبت اور احترام کا جذبہ ہے، عوامی حمایت ہی کسی بھی ملک کی فوج کی سب سے اہم اور بہترین طاقت ہے، اور ایسی فوج کو کبھی شکست بھی نہیں ہو سکتی۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے، کہ پاک فوج کے بارے پاکستانی عوام کی اکثریت کے دل میں اب وہ محبت، اور گرمجوشی نہیں، جو آج سے دو یا تین دھائیاں پہلے تھی، پاک فوج کی اعلی سطح کی قیادت یہ بات بہت اچھی طرح جانتی ہے، اس افسوس ناک بات کی کئی وجوھات ذکر ہو سکتے ہیں، لیکن حالیہ سیاسی بحران میں جس انداز سے پاک فوج کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، یہ بات بہت ہی زیادہ تشویشناک ہے، حالیہ بحران کو لے کر عوام کے دلوں میں اپنی فوج کے خلاف انتہائی غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جو کہ کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں، کہ شائد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا، کہ عوام کی جانب سے یہ بر ملا سڑکوں پہ یہ نعرہ لگا کہ چوکیدار چور ہے، اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی اس غم و غصے کا اظہار بر ملا ہو رہا ہے۔
کل عید کے دن جنرل قمر باجوہ کیپٹن محمد کاشف شہید کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے گیا، اور یہ خبر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹویٹر پر دی، میں نے پہلی بار دیکھا، کہ اکثر لوگ بجائے اس کے کہ اس اقدام کو سراہیں، وہ بر ملا پاک فوج پہ تنقید کر رہے ہیں: چند لوگوں کی آراء کو یہاں بطور مثال پیش کر رہا ہوں تاکہ اندازہ ہو سکے، کہ لوگ فوج پر کس طرح تنقید کر رہے ہیں۔
ایک نے لکھا: “‏‎کاشف دل میں بہت سارے سوال چھوڑ کر شہید ہوگیا، وہ یہ سوچتا ہوگا، کہ میرا چیف میرے خون کا سودہ کیسے کر سکتا ھے۔۔میرے جوان جان قربان کرتے اپنے ملک کی خوداری کےلیے اور میرا چیف ایک خط پر لیٹ گیا۔۔افسوس صد افسوس۔”
دوسرے نے لکھا: ‏‎” اللہ تعالیٰ کیپٹن محمد کاشف کی شہادت قبول فرمائے، وہ اس درتی کے لئے قربان ہوا جس درتی پر چوروں اور ڈاکوؤں کو بیٹھا دیا گیا وہ بھی امریکی خواہش کے مطابق۔”
تیسرے نے لکھا: ” ‏‎جناب باجوہ صاحب، ان شہدا کو پوری قوم سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔
لیکن آپ کی PR مہم کو رد کرتے ہیں، اصل مدعا پر آئیں، امریکی سازش میں سہولت کار کیوں بنے؟”
ائی ایس پی آر کے کل کی اس خبر پر اب تک ہزاروں افراد نے اپنی رائے دی ہے، جس میں محتاط انداز کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ، اسی فیصد لوگوں نے قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور ٹوٹیر پر اس خبر سے پہلے والی دو خبروں کا بھی یہی حال ہے۔
میں بطور پاکستانی اس چیز کو پاک فوج کا سب سے بڑا نقصان سمجھتا ہوں، فوج کی اعلی سطح قیادت کو یہ بات جاننی چاہیے، کہ جس فوج کے بارے عوام کے دلوں میں محبت اور احترام ختم ہو جاتا ہے، اس فوج کی نہ تو کوئی طاقت باقی رہتی ہے، اور نہ ہی کوئی حیثیت؟ وہ جرنیل حضرات جو اس وقت اپنی ذاتی مفاد کو پاکستان کے سب سے اہم ادارے کے مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں، انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہیے، کیونکہ کوئی بھی انسان ادارے سے زیادہ مہم نہیں، اور کوئی بھی ادارہ ملک سے زیادہ مہم نہیں، خدانخواستہ یہ ملک ہی نہ رہے، تو پھر پاکستان کا کونسا ادارہ باقی رہے گا۔
لہذا اپنی عوام کو زدو کوب کرنے، ڈرانے دھمکانے، اور کالی شیشوں کی گاڑیاں بھیج کر انہیں ہراساں کرنے کے بجائے، فوج کو چاہیے، کہ وہ اپنے اندر اس کرپٹ مافیا پر ہاتھ ڈالے، اس وقت فوج پر عوام کا غصہ اس ملک و قوم کی سلامتی کے لئے بالکل بھی نیک شگون نہیں۔
کیا آپ کو پتہ نہیں، کہ اس زمانے کا بڑا شیطان امریکہ جب بھی کسی مکل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یا وہاں حکومت گرانے چاہتا ہے، تو سب سے پہلے اس ملک کی فوج کو کمزور کرکے اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ فوج ہی وہ ہر اول دستہ ہے، جو ملک کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور فوج کو کمزور کرنے کا سب سے کارگر امریکی نسخہ یہ ہے، کہ عوام کو اپنی فوج سے دور کر دیا جائے، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کیا فوج کی قیادت نے محسوس نہیں کیا کہ اب عوام میں اپنی فوج کے حوالے سے وہ پہلے جیسا جذبہ نہ رہا، وہ پہلی جیسی محبت نہیں رہی؟ اور پھر حالیہ سیاسی بحران میں فوج کے کردار نے اس غصے میں مزید اضافہ کیا، کیا یہ مسلح افواج کے حق میں ہے، کہ وہ بھی امریکی مفادات کے تحفظ کی خاطر ملک کا نقصان کریں؟ یہ انتہائی شرمناک، خوفناک، اور خطرناک صورت حال ہے، میں یہ سمجھتا ہوں، کہ اس وقت فوج کو عوام کے ساتھ اپنے سلوک پر نظر ثانی کرنی چاہیے، عوام کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے، اور سب سے پہلے پاکستان کی مصلحت کو مقدم کرنا چاہیے۔
اور ہاں، شائد بعض کو پتہ نہ ہو، کہ امریکہ اب پہلے کی طرح طاقتور نہیں رہا، اگر یقین نہ آئیں، تو صرف پچھلے تین دہائیوں پر محیط عرصے پر نظر کریں، اور صرف مشرق وسطی میں ہی دیکھ لیں، کہ کس طرح یہ بڑا شیطان ایرانی، شامی، عراقی، یمنی، اور لبنان کی غیور عوام کے سامنے ذلیل و خوار ہوا ہے، افسوس ہے کہ پاکستان ایک اٹیمی قوت ہو، اور اس کے باجود وہ امریکے کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔
خدا اس ملک پر رحم فرمائے۔
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
محمد اشفاق