تحریر: نذر حافی

عید الفطر کے ایّام ہیں۔ مسلمان عیدالفطر کی خوشیوں میں مگن ہیں۔ سوچا کہ آئیے اسپِ تخیّل پر سوار ہو کر دیارِ نبیﷺ کو چلتے ہیں۔ دیارِ نبیﷺ سے ہر مسلمان، عشق کرتا ہے۔ عید کے ایّام ہوں یا غم کا موسم، دل ِبے قرار حرمین شریفین کا تصوّر کرکے درود و سلام کا ورد کرنے لگتا ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ کے الفاظ میں:
مصطفیٰ ؐجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام۔۔۔ شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
آبِ تطہیر سے جس میں پودے جمے۔۔۔ اُس ریاضِ نجابت پہ لاکھوں سلام
خونِ خیرُالرُّسلؐ سے ہے جن کا خمیر۔۔۔ اُن کی بے لوث طینت پہ لاکھوں سلام
سیّدہ زاہرہ طیّبہ طاہرہ۔۔۔ جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام
حرمینِ شریفین سے مسلمانوں کا یہ عشق بلا وجہ نہیں ہے۔ اس عشق کی دلیل وہاں کے مقدس مقامات ہیں۔ مکے اور مدینے میں موجود حضور نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہﷺ کے پیارے اور جلیل القدر اصحابؓ کے تاریخی آثار اور ان کی نورانی قبور ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کو قلبِ اسلام بھی کہا جاتا ہے۔

آیئے! عید کے ایّام میں دیارِ نبیؐ میں مدفون نورانی ہستیوں کی قبروں پر بھی سلام کے لئے چلتے ہیں۔ ان کی مسمار شدہ قبریں اور نشانیاں دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے نبیؐ اپنی امّت کے درمیان کتنے مظلوم ہیں۔ مدینہ منوّرہ کے مشرق میں جنت البقیع کا مقدس ترین قبرستان ہے۔ یہاں دس ہزار سے زیادہ رسولﷺ کے جلیل القدر اصحاب رسولؓ دفن ہیں۔ ان میں سے چند ایک کے نام پیش کر رہا ہوں، اہل بیت، اُمّہات المومنینؓ، فرزند رسولؐ حضرت ابراہیمؓ، رسولؐ کے چچا حضرت عباسؓ، پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطّلبؓ، خلیفہ سوم حضرت عثمان ؓ اور اس کے علاوہ ہزاروں اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ اس قبرستان کی عظمت و تقدس کے کیا کہنے کہ جو ہجرت کے بعد شہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔ اس قبرستان کے بارے میں چودھری دلّو رام کوثری نے کیا خوب کہا تھا:
کیا جنت البقیع کی شانِ رفیع ہے۔۔۔ برجِ فلک ہر ایک مزارِ بقیع ہے
ذرہ ہے آفتاب اسی ارضِ پاک کا۔۔۔ صدقہ ہے یہ تمام بزرگوں کی خاک کا

قابلِ ذکر ہے کہ پہلے مہاجر مسلمان عثمان بن مظعون اور انصار کے پہلے مسلمان اسعد بن زرارہ الخزرجی بھی یہیں مدفون ہیں۔ تاریخی کتب سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں یہاں صرف قبریں ہی نہیں تھیں بلکہ مہاجرین کے گھر بھی تھے، جن میں سے ابن افلح، محمد ابن زید، سعید ابن عثمان اور عقیل ابن ابی طالبؑ کے گھر زیادہ مشہور ہیں۔ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ خلیفہ سوّم کو یہاں دفن نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ انہیں نزدیک ہی یہودیوں کے قبرستان حش کوکب میں دفنایا گیا تھا۔ بعد ازاں مدینے کے گورنر مروان ابن حکم کے زمانے میں بقیع اور حش کوکب کے درمیان سے دیوار ہٹائی گئی۔ اس موقع پر عثمان بن مظعونؓ کی قبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے نصب شدہ پتھر کو وہاں سے اٹھا کر خلیفہ سوّم حضرت عثمان بن عفانؓ کی قبر پر رکھ دیا گیا۔

اس قبرستان کو منہدم کرنے کی ایک وجہ تاریخ اسلام کو مسخ کرنا بھی ہے۔ یہیں پر امیر المومنینؑ حضرت علیؑ نے اپنی زوجہ اور رسول اللہ ؐکی بیٹی کے گریہ کرنے کیلئے بیت الحزن یا بیت الاحزان بھی تعمیر کیا تھا۔ اسے تاریخ ِاسلام میں پہلا غمکدہ، عزاخانہ، امامباڑہ یا حسینیہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس قبرستان میں تدفین سے پہلے میت کو رکھنے کے لیے ایک مخصوص جگہ بھی بنائی گئی تھی، جسے “جنازہ گاہ” کہا جاتا تھا۔ اسی جنازہ گاہ میں مُردوں کو غسل و کفن دیا جاتا تھا۔ سو سال پہلے تک اس قبرستان کے گِرد کوئی دیوار یا باڑ نہیں تھی۔ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے بعد اس قبرستان کی قبور کی زیارت کیا کرتے تھے۔ 8 شوال 1344 کو آلِ سعود کی حکومت نے ان قبور کو مسمار کرکے قبرستان کے گرد چاردیواری کھڑی کر دی۔ اب قبرستان کی زمین بالکل ہموار ہے۔ بعض جگہوں پر بغیر نام و نشان کے پتھر موجود ہیں، جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں پر کوئی قبر ہے۔ حسبِ ضرورت درمیان میں ایک فٹ پاتھ بھی بنائی گئی ہے۔

اسی طرح جدہ میں مقبرہ حضرت حوّا کو کنکریٹ سے بند کر دیا گیا، دار الارقم نامی وہ پہلی درسگاہ جس میں نبی پاکﷺ نے تعلیم دی، مدینہ میں بی بی فاطمہ ؑکا گھر، مدینہ میں امام جعفر صادقؑ کا گھر، بلکہ بنو ہاشم کا سارا محلہ ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ 1998ء میں ہمارے پیارے نبیﷺ کی والدہ بی بی آمنہؑ کے مقبرے اور قبر کو گرانے کے بعد نظر آتش کر دیا گیا۔ مدینے میں نبیﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہؓ کی قبر مٹا دی گئی، حضرت امام علی کرم اللہ وجہ کا وہ گھر جس میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی ولادت ہوئی، اسے مسمار کر دیا گیا۔ اسی طرح وہ گھر جس میں اللہ کے آخری نبیؐ کی ولادت ہوئی، اس گھر کو گرانے کے بعد اسے مویشی بازار میں تبدیل کر دیا گیا۔

پیارے نبی کی پیاری زوجہ بی بی خدیجہؓ کا گھر جہاں قرآن مجید کی کچھ پہلی آیات کا نزول ہوا، وہاں پر غسل خانے بنا دیئے گئے، مکّے سے ہجرت کے بعد مدینے میں جس گھر میں نبی اکرمؐ نے قیام کیا تھا، اس گھر کو گرا دیا گیا۔ حضرت حمزہ کی قبر سے منسلک مسجد ڈھا دی گئی، مسجد فاطمہ زہرا ؑ، مسجد المنارا تین اور امام جعفر صادقؑ کے بیٹے سے منسوب مسجد اور مزار کو 2002ء میں گرایا گیا، مدینے میں جنگ خندق سے منسوب 4 مساجد، مسجد ابو رشید، سلمان الفارسی مسجد مدینہ، رجعت الشمس مسجد مدینہ، مدینہ میں مسجد جنت البقیع اور مکّے میں جنّت الموللہ گرا دی گئیں، اسی طرح فرزند رسول حضرت موسیٰ کاظمؑ کی والدہ کی قبر اور مکّہ میں بنو ہاشم کی قبریں بالکل مٹا دی گئیں۔ یاد رہے کہ احد کے مقام پر حضرت حمزہ اور باقی شہداء کے مقبروں کو بھی منہدم کر دیا گیا ہے۔

میں ایک عام سا مسلمان ہوں۔ ہمیشہ یہ سوچتا رہتا ہوں کہ اگر کسی کے دین میں قبریں تعمیر کرنا بدعت ہے تو پھر کیا اُسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی قبروں کے بجائے دوسروں کی قبروں کو مسمار کرنا شروع کر دے۔؟ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عقیدے پر عمل کرے، وہ چاہے تو اپنے مردوں کو جلا دے، پانی میں بہا دے، ان کی قبریں مسمار کر دے یا انہیں تکہ بوٹی کرکے جانوروں کے آگے ڈال دے۔ دوسروں پر زبردستی اپنا عقیدہ تھوپنا، حکومت اور طاقت کے بل بوتے پر اُن کے بزرگان کی لاشوں کی بے حرمتی اور قبور کا مسمار کرنا یہ سراسر زیادتی ہے۔ خیر سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ اگر قبور کی تعمیر بدعت ہے تو کیا یہ بڑے بڑے شیش محل، پلازے، ہوٹل اور عشرت کدے تعمیر کرنا نعوذ باللہ سنّت میں شامل ہیں۔؟

اگر اولیائے خدا، اصحابِ رسول ؓ اور اہلِ بیت رسول ؑ کی قبور پر گنبد کی تعمیر بدعت ہے تو پھر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ اطہر کا گنبد نعوذ باللہ کیوں نہیں گرایا۔؟ جب آپ آلِ سعود سے نبی اکرمﷺ کے مزارِ اقدس پر موجود گنبد کے بارے میں پوچھیں گے تو تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ اس وقت سرزمینِ وحی پر کس کا قبضہ ہوچکا ہے اور آگے چل کر یہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں!!! المختصر یہ کہ 8 شوّال یعنی یوم انہدام بقیع نزدیک ہوا چاہتا ہے اور دل کی کیفیّت ناقابل بیان ہے۔