تحریر: نذر حافی
[email protected]

ذہانت کے اپنے آداب ہوتے ہیں۔ اُن آداب کی کُنجی نظم و ضبط ہے۔ اُمور کو بروقت انجام دینے سے بہتر کوئی ذہانت نہیں ہوسکتی۔ حمایت کرنی ہو یا مخالفت، تنقید کرنی ہو یا تعریف، دوستی نبھانی ہو یا دشمنی، ہمیشہ بروقت اقدام کیجئے۔ وہ کسان ہی نہیں جو فصل کو اُس کے اپنے موسم میں کاشت نہیں کرتا۔ جو بیج وقت پر نہ بویا جائے، وہ شجرِ سایہ دار کیسے بنے گا۔ آج لوگ سڑکوں پر ہیں۔ اُن کے دماغ آمادہ، اُن کے دل تیار اور اُن کی زبانیں آزاد ہیں، تاہم یہ سب کافی نہیں۔ چونکہ عوام کے اذہان صاحبانِ قرطاس و قلم کی گرفت میں ہوتے ہیں۔ قرطاس و قلم کے بغیر شعور اپاہج اور گنگ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں قرطاس و قلم کو اطہر شاہ خان یا ’’مسٹر جیدی‘‘ نے نئی اٹھان عطا کی۔ وہ 1943ء میں ہندوستانی ریاست رام پور کے ایک اخون خیل پٹھان قبیلے میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں اُن کے والدین نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی۔ بچپن میں ہی اُنہیں یتیمی کا سامنا کرنا پڑا۔

گھر کا ماحول بھی انسان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اُن کے ہاں علمی ماحول تھا، سو یتیمی حصولِ تعلیم میں رکاوٹ نہ بنی۔ پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹر کرنے کے بعد وہ ایک قلمکار، ادیب، فنکار اور شاعر کے طور پر پہچانے گئے۔ اُن کے کیرئر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے ہوا اور پھر ٹی وی کی سکرین نے انہیں گھر گھر پہنچا دیا۔ وہ ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ اخبارات، سٹیج اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے لئے بھی کہانیاں، مکالمے، ڈرامے، خاکے، سکرپٹس اور اشتہارات لکھتے تھے۔ طبع ازمائی تو انہوں نے مضمون نویسی، فکشن، فینٹسی، قطعہ نگاری، فلم نویسی، ڈراما (ڈرامہ) نگاری، سکرپٹ رائٹنگ، افسانہ نگاری، شعر و شاعری، اداکاری، ہدایت کاری و صدا کاری اور کالم نویسی سمیت فنونِ لطیفہ کے متعدد میدانوں میں کی۔

اُن کا ریڈیو پر ایک کمرشل پروگرام “رنگ ہے رنگ، جیدی کے سنگ” سترہ برس تک چلا۔ قلمکاری کے ہمراہ اداکاری میں بھی یدِطولیٰ رکھتے تھے۔ حکومت نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور پی ٹی وی نے گولڈ میڈل عطا کیا۔ المختصر یہ کہ ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد 2020ء میں وہ ستر برس کی عمر میں فوت ہوگئے۔ فوت تو سب نے ہونا ہے، لیکن انسان کی معاشرے کی اصلاح اور بھلائی کیلئے کی جانے والی کوششیں اور خدمات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ آج اُن کے ایک معروف ڈرامے “با اَدب با ملاحظہ ہوشیار” کا ذکر کرتے ہیں۔ شاید عام لوگوں کے لئے اس میں تفریح اور ہنسی مذاق سے بڑھ کر کچھ نہیں، لیکن سنجیدہ، باشعور اور پڑھے لکھے افراد کے لئے اس ڈرامے میں عقلوں پر دستک دینے کا سارا سامان موجود ہے۔

یہ ڈراما (ڈرامہ) ایک مطلق العنان بادشاہ کے دربار کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کے چرنوں میں بیٹھی ہوئی خوشامد و چاپلوس اشرافیہ کبھی ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کا سوچ ہی نہیں سکتی۔ اس ڈرامے میں ایک مقتدر بادشاہ اور اُس کے زیرِ سایہ کرپٹ اور خائن درباریوں کی نفسیات کو بہترین انداز میں ترسیم کیا گیا ہے۔ ایک ایسا دربار جہاں امورِ سلطنت کو صداقت و دیانت، عقل و منطق، تدبّر و حکمت اور فہم و فراست کے بجائے لوٹ کھسوٹ، دھونس دھاندلی نیز فراڈ اور مکاری کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ جہاں غربت مٹانے کیلئے فقیروں کو قتل اور زنجیرِ عدل ہلانے والوں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ جہاں بادشاہ کے ظالمانہ احکامات کے آگے چوں چرا کرنے کے بجائے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ ہمارا آج کا پاکستان ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جن لوگوں نے وہ ڈراما (ڈرامہ) ابھی تک نہیں دیکھا، وہ ایک مرتبہ اُسے ضرور دیکھیں۔

وائٹ ہاوس کے شاہی محل میں جلوہ افروز امریکی بادشاہ کے سامنے کرپٹ درباریوں کی نفسیات کو سمجھنے کیلئے یہ ڈرامہ دیکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ دیکھیں گے تو ہمیں سمجھ آئے گی کہ بھکاریوں، ڈاکووں، غدّاروں اور مکّاروں کی نفسیات خود دار اور غیور لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔ آج پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہی نفسیاتی کشمکش جاری ہے۔ ایک طرف امریکہ و یورپ کی غلام اور پروردہ اشرافیہ کی سوچ ہے اور دوسری طرف قائداعظمؒ اورعلامہ اقبال ؒ کا ویژن اور نظریہ ہے۔ ان دنوں کچھ لوگوں نے اچانک ایک مصلحت آمیز چُپ سادھ لی ہے۔ مبادا ہمارے مردہ باد امریکہ کہنے سے کہیں عمران خان کو کوئی فائدہ نہ پہنچ جائے۔ راقم الحروف کے نزدیک انسانی شرف، قومی استقلال، ریاستی خود مختاری اور امریکی و یورپی استعمار سے نجات یہ سب عمران خان کی ملکیّت نہیں ہے۔ جب عمران خان نہیں تھا تو برّصغیر کے مسلمانوں نے اُس وقت اپنی شرافت، آزادی اور استقلال کیلئے یہ پاکستان حاصل کیا تھا۔

پاکستان میں مردہ باد امریکہ کا نعرہ عمران خان نے پہلی مرتبہ نہیں لگایا۔ یہ نعرہ کتنی ہی دہائیوں سے پاکستان کی فضاوں میں گونج رہا ہے۔ ظلم و جبر اور استعمار کی اطاعت کے مقابلے میں ایبسلوٹلی ناٹ ہر کوئی نہیں کہہ سکتا۔ امریکہ کے مقابلے میں یہ ایبسلوٹلی ناٹ ہر باشعور پاکستانی کی آواز ہے۔ رہی بات عمران خان کی تو عمران خان کی مخالفت کی وجہ سے ہم اپنے ضمیر کی آواز کا گلا نہیں گھونٹ سکتے۔ مردہ باد امریکہ یہ ہر پڑھے لکھے پاکستانی کے ضمیر کی صدا ہے۔ اس وقت عوام متحرک ہیں، ان کی اس تحریک کو ذہانت کے ساتھ بیداری اور بصیرت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھئے! ذہانت کے اپنے آداب ہوتے ہیں۔ اُن آداب کی کُنجی نظم و ضبط ہے۔ اُمور کو بروقت انجام دینے سے بہتر کوئی ذہانت نہیں ہوسکتی۔ ذہانت کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے دربار میں “با اَدب با ملاحظہ ہوشیار” نظر آنے کے بجائے مردہ باد امریکہ کا نعرہ لگایا جائے۔ ان دنوں لوگوں کے دماغ آمادہ، اُن کے دل تیار اور اُن کی زبانیں آزاد ہیں۔ یہ تکلم کا موسم ہے اور تکلّم کے موسم میں صاحبانِ قرطاس و قلم کا سکوت عقلوں کو بانجھ کر دیتا ہے۔