تحریر: نذر حافی
[email protected]

انجینئر مرزا محمد علی ایک منفرد آدمی ہیں۔ اُن کی انفرادیت دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ہے۔ ایسے اعترافات سچ بولے بغیر نہیں ہوسکتے۔ سچ بولنے کیلئے بھی ہُنر چاہیئے۔ اسی لئے سچے لوگ ہر جگہ کم ہوتے ہیں۔ اب موجودہ ملکی حالات میں لوگوں سے سچ مخفی ہے۔ بھکاریوں کو سچ سے کوئی زیادہ غرض بھی نہیں۔ اُنہیں تو بس یہی خواب دکھایا جا رہا ہے کہ امریکہ سے بھیک آئے گی تو ہم مزے سے کھائیں گے۔ دوسری طرف امریکی بھی ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی لئے تو وہ کبھی بھی ہمارا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ مسٹر نواز شریف نے جب ایمل کانسی کو امریکہ کے ہاتھوں بیچا تو کمرہ عدالت میں ایک امریکی وکیل نے برجستہ کہا تھا کہ “ڈالروں کیلئے پاکستانی اپنی ماں تک کو بیچ دیتے ہیں۔” آج بھی ڈالروں کیلئے ہی ساری تگ و دو ہے۔ یہ رہے ہمارے سیاست دان اور یہ رہی ان کی سیاست۔

یہاں پر ریمنڈ ڈیوس کو بھی یاد کر لیجئے۔ اس وقت بھی ہم نے بہت ڈالر کمائے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس لاہور میں سی آئی اے کا جاسوس تھا۔ وہ پتہ نہیں تاجر بن کر کہاں کہاں پھرا۔ ایک دن اُسے شک پڑا کہ کوئی اُس کے تعاقب میں ہے۔ اُس نے اپنے شک کی بنا پر لاہور میں دن دہاڑے دو پاکستانیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی۔ اتنے میں امریکی ایمبیسی کی ایک برق رفتار گاڑی اُس کی مدد کیلئے آئی۔ ڈرائیور نے راستے میں آتے ہوئے ایک اور عبادالحق نامی پاکستانی کو بھی کچل دیا۔ بعد ازاں ریمنڈ ڈیوس بھی اور کچلنے والا ڈرائیور بھی امریکہ پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ جن دو آدمیوں کو ریمنڈ ڈیوس نے قتل کیا تھا، اُن میں سے ایک کی بیوی نے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خودکُشی کر لی تھی۔

پھر ریمنڈ ڈیوس نے امریکہ پہنچ کر اپنے سہولت کاروں کے بارے میں جو کچھ کہا اور اپنی ایک کتاب دی کنٹریکٹر میں جو انکشافات کئے، وہ سب آپ کو انٹرنیٹ سے مل جائیں گے۔ ان میں سے ایک انکشاف یہ بھی ہے کہ مجھے رہا کرانے کے لیے سب سے پہلے جان کیری نے نواز شریف کو اعتماد میں لیا اور پھر صدر زرادری، نواز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا نے مل کر جدوجہد کی۔ خیر بات ہو رہی تھی کہ سچ بولنے والے ہر جگہ کم ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا کر بڑے بڑے مسائل سے غافل رکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارا سب بڑا مسئلہ روٹی ہے، ساتھ ہی روٹی کے لئے امریکہ کی غلامی کرنے کے بھاشن بھی دیئے جاتے ہیں۔ میرا اس ملک کے عظیم دانش مندوں، علمائے کرام، شعراء، ادباء، صحافیوں، اساتذہ اور خطباء سے یہ سوال ہے کہ قوموں کے لئے بڑا مسئلہ اُن کی روٹی کا ہوتا ہے یا اُن کی غلامی کا؟

لوگوں کو غلامی پر رضامند کرنے والے سیاست دانوں اور دانشوروں کے بارے میں اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
شاعر بھی ہیں پیدا، عُلماء بھی، حُکماء بھی
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ
مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک
ہر ایک ہے گو شرحِ معانی میں یگانہ
بہتر ہے کہ شیروں کو سِکھا دیں رمِ آہُو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ