سانحہ مری اور بدمذہبوں کا بیانیہ
تحریر: نذر حافی
مری جنّت ارضی ہے۔ جنّت سے تو ہمیں عشق ہے۔ ہمیں صرف جنت میں جانے کا عشق نہیں بلکہ دوسروں کو بھیجنے کا بھی ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہمارے کچھ مسلمان بھائیوں نے جنّت میں جانے کیلئے ایک سری لنکن کو ٹھکانے لگا دیا تھا۔ پھر جنّت میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کیلئے اُس کی لاش کو آگ لگا کر اُسے خاکستر بھی کر دیا۔ ساتھ ہی جنّت میں اپنے مقام کو یقینی بنانے کیلئے لبّیک یارسول اللہؐ، لبّیک یارسول اللہ ؐ کے نعرے بھی لگائے۔ اتنے بڑے عاشقوں کی اگر سیلفیاں نہ ہوتیں تو ساری محنت ضائع تھی۔ چنانچہ آگ میں بھنتے ہوئے سری لنکن کے ساتھ سیلفیاں بھی بنائی گئیں۔ اس پر بدمذہب اور بدعقیدہ لوگوں نے خواہ مخواہ شور ڈالا۔ کہتے تھے کہ انسانی اقدار۔۔۔ مہمان کے ساتھ ایسا سلوک! وغیرہ وغیرہ۔
بدمذہب بھائیو! اُس نے ویسے بھی ایک نہ ایک دِن مر ہی جانا تھا۔ اگر اُس کے مرنے سے چند مسلمان جنّت میں چلے جائیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے!؟ باقی رہی اس کی ماں اور اہلِ خانہ کی بات۔۔۔۔ اُنہیں کیا ہونا ہے!؟ اُنہیں بھی کچھ دن رو دھو کر صبر آ ہی جائے گا۔ آخر سانحہ ساہیوال کے لواحقین کو بھی صبر آہی گیا، ذہنی معذور صلاح الدین کے ورثاء کو بھی اللہ نے صبر دے دہی دیا اور آئے روز کے بلووں میں جو پولیس والے مارے جاتے ہیں، اُن کے اہلِ خانہ کو بھی صبر تو آ ہی جاتا ہے۔ لہذا عوام کو چاہیئے کہ بدمذہبوں کے بیانیے پر توجہ نہ دیں، صبر کریں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کریں۔
سری لنکن کی لاش پر بنائی گئی سیلفیاں ابھی تازہ ہی تھیں کہ مری میں برف پڑنے لگی۔ جس نے سُنا وہ منہ اٹھا کر مری کو دوڑ پڑا۔ مری ویسے بھی جنّت ہے۔ اب اس مرتبہ برفباری کے فرشتوں نے بھی کچھ زیادہ ہی سخاوت دکھائی۔ آسمان والوں کی سخاوت کو دیکھ کر زمین والوں نے بھی موقع غنیمت جانا۔ ایک انڈہ پانچ سو اور ہزار روپے میں، ایک کمرے کا کرایہ پچاس ہزار تک اور پانی کی ایک بوتل پانچ سو سے ڈیڑھ ہزار میں فروخت کی گئی۔ جو اتنی رقم دے سکتے تھے، انہوں نے دے دی اور جو نہیں دے سکتے تھے، وہ مری کی جنّت سے سیدھے جنّت الفردوس پہنچ گئے۔ اس پر پھر ایک مرتبہ بدمذہب اور بدعقیدہ لوگوں نے واویلا مچایا۔ پھر وہی بیانیہ کہ انسانی اقدار۔۔۔۔ مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک! کوئی نہیں جو اِن بدمذہبوں سے یہ پوچھے کہ اس میں واویلے کی کیا بات ہے؟ یہ مہمان حضرات جنّت ہی دیکھنے تو مری میں آئے تھے۔ بس ہُوا یہ ہے کہ مری کی جنّت میں رہنے کیلئے اُن کے پاس پیسے نہیں تھے، اس لئے اگلے جہان کی مُفت والی جنّت میں انہیں بھیج دیا گیا۔
ہمیں خوش ہونا چاہیئے کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کثرت ہے کہ جو جنّت میں جانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو جنّت میں بھیجنے سے بھی نہیں کتراتے۔ یہ ہمارے علمائے کرام نے ہی ہمیں سکھایا ہے کہ لوگوں کو جنّت میں بھیجنا کوئی جُرم نہیں ہے، اسی لئے تو وہ بھی خودکُش حملے کروا کر لوگوں کو جنت میں بھیجتے رہے ہیں۔ جنّت میں جانا، جنت میں بھیجنا یا دنیا میں جنت بنانا کوئی عیب تو نہیں۔ لہذا عوام النّاس بدمذہبوں کے بیانیے پر توجہ دینے کے بجائے صبر سے کام لیں اور شوروغُل کے بجائے چُپ کرکے مرحومین کیلئے فاتحہ پڑھیں، قرآن خوانی کریں اور انہیں ایصالِ ثواب کرکے اُن کے گناہ بخشوائیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بدمذہبوں کا پروپیگنڈہ بہت چلتا ہے۔ یہ لوگوں کو صبر نہیں کرنے دیتے۔ انہی کی بے صبری کی وجہ سے آج مری کے ایک انتہائی محنت کش اور مزدور آدمی ثاقب عباسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شنید ہے کہ مری کا یہ باریش، نمازی، نیک، مومن اور متقی انسان ثاقب عباسی رات کی یخ بستہ سردی میں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے محنت مزدوری کیا کرتا تھا۔ اس محنت مزدوری کیلئے اس نے اپنی ایک سپاہ بنائی ہوئی تھی۔ یہ اپنی سپاہ کے ساتھ مل کر رات کے اندھیرے میں روڈ پر برف پھیلا دیتا تھا۔ جب برف جم کر روڈ بلاک کر دیتی تھی تو مہمانوں کی گاڑیاں اس برف میں پھنس جاتی تھیں۔ اب یہ مہمانوں سے اُجرت لے کر اُن کی گاڑیوں کو دھکا دیتا تھا۔ لیں جی اب پھر بدمذہب یہی بیانیہ دہرائیں گے کہ انسانی اقدار۔۔۔ مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک! وغیرہ وغیرہ۔
مہمانوں کے حوالے سے ایک اور اہم خبر بھی ملاحظہ فرمایئے! خبر بڑی تھی لیکن میڈیا نے ہضم کر دی۔ اچھا ہوا کہ ہضم کر دی، چونکہ بدمذہب لوگ خواہ مخواہ اس خبر کو اُچھالتے اور پھر وہی انسانی اقدار کا چورن بیچتے۔ یہ خبر آزاد کشمیر کے ایک علاقے عباس پور کی ہے۔ 5 جنوری کو عباس پور کے رہائشی عزیز شاہ کے گھر دو آدمی مہمان بن کر آئے۔ سخت سردی اور بارش تھی۔ کشمیری تہذیب و ثقافت کے مطابق مہمانوں کی خاطر مدارت کی گئی۔ اتنے میں عزیز شاہ بھی پہنچ گئے۔ وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو مہمانوں نے فائرنگ کرکے انہیں موقع پر ہی جنّت پہنچا دیا۔
گھر میں موجود خواتین نے ڈنڈوں اور کُلہاڑیوں سے اِن مہمانوں کی خوب درگت بنائی۔ خوب چھترول کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ موقع پر پولیس کے بجائے خواتین موجود تھیں، ورنہ یہ مہمان تو پکڑے ہی نہیں جانے تھے۔ اس کے بعد ابھی تک پولیس سخت تفتیش کرنے میں مگن ہے۔ ہمارا یہ مشورہ ہے کہ پولیس تفتیش وغیرہ کی زحمت بھی نہ کرے۔ اگر تفتیش کا کام بھی علاقے کی خواتین کے سپرد کر دیا جائے تو یقیناً خواتین کی کارکردگی پولیس کی نسبت زیادہ تسلّی بخش ہوگی۔
عباس پور والا واقعہ مذکورہ بالا واقعات سے تھوڑا مختلف ہے۔ دیگر مذکورہ واقعات میں میزبانوں کی طرف سے مہمانوں کو مارا گیا اور اس وقوعہ میں مہمانوں نے میزبان کو مار دیا۔ یعنی ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں انسانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں۔ جہاں مہمان کو مارنا یا مہمان بن کر کسی کو مار دینا روا ہے۔ ہم کلمہ طیّبہ پڑھنے کے باوجود، حُسنِ کردار، عفو و درگز، تحمل، رواداری، سخاوت، ہمدردی، مہمان نوازی، صبر، ایثار اور فراخدلی کے کافر ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ محسنِ انسانیت تو انسانی اقدار کے پیغمبرﷺ اور اُن کے تربیت یافتہ افراد تو انسانی اقدار کے پیکر تھے۔ وہاں اگر کسی کے ہاں کوئی مہمان آجاتا اور گھر میں کھانا کم ہوتا تو میزبان کسی بہانے سے چراغ گُل کرکے مہمان کے ساتھ صرف منہ ہلاتا رہتا۔ یہاں تک کہ مہمان سیر ہو کر کھانا کھاتا۔ وہاں تو اچھا کھانا ہمسائے کے گھر بھیج دیا جاتا، یہاں تک کہ وہی کھانا مختلف گھروں سے گھوم کر پھر پہلے شخص کے گھر آجاتا، وہاں تو اگر ایک کھجور بھی کسی کے پاس ہوتی تو وہ آدھی دوسرے کو دے دیتا۔۔۔۔
ہمارے ہاں جہاں انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی بات کرنے والوں کو بدمذہب، بدعقیدہ اور دین سے بیزار افراد کہا جاتا ہے، وہاں کے اسلامی باشندوں اور وہاں کے علمائے کرام سے ہماری یہ دست بستہ گزارش ہے کہ آپ کی عبادات، آپ کی تلاوتِ قرآن، آپ کی اذانیں، آپ کے روزے، آپ کے حج، سب کے سب سر آنکھوں پر! ہماری دعا ہے کہ خدا آپ کی تہجد کی نمازیں قبول کرے، آپ کی مساجد آباد رہیں اور آپ کے دینی مدرسے اسی طرح پھلتے پھولتے رہیں، لیکن خدا را اِن بدمذہبوں کے بیانیے پر بھی کچھ توجہ دیں۔۔۔ جی ہاں جنہیں آپ موم بتی مافیا، بدمذہب اور بدعقیدہ کہتے ہیں، ان کے بیانیے پر بھی توجہ دیں! چونکہ انسانی اقدار کا کفر کرنے والوں کو محسنِ انسانیتؐ کا کلمہ پڑھنا زیب نہیں دیتا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں