ابھی چند سال پہلے جب مشرق و مغرب میں شیطان کی طاقت کا ڈنکا بج رہا تھا اور چاروں سمت سے شیاطین کے تیروں کا مینہ برس رہا تھا تو ایسے میں قاسم سلیمانی نے بارود کے مُصلّے پر نمازِ عشق ادا کی۔ ہم نے دیکھا کہ قاسم سلیمانی کی اس نمازِ عشق نے طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے خونخواروں کے شکنجے سے بےبس انسانیت کو نجات دلائی۔ قاسم سلیمانی عالمِ بشریت کیلئے شیطان کے مقابلے میں ایک الہیٰ اور آہنی سِپر تھے۔ آپکے پارہ پارہ بدن کے خاکستر ذرّوں پر زبانِ عشق میں طالبانِ راہ حق اور فقیرانِ عرفان و تصوّف کیلئے یہ سندیسہ موجود ہے کہ اگر کوئی خدا کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے کا متمنّی ہے تو وہ مخلوقِ خدا کو اپنے زمانے کے شیطانوں کے سِتم سے نجات دلانے کی تگ و دو کرے۔
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

گواہ کو شہید کہتے ہیں، شہید کوئی عام گواہ نہیں ہوتا، ایسا گواہ شہید کہلاتا ہے، جو کسی بھول چوک یا خطا و نسیان کے بغیر گواہی دے، المختصر یہ کہ ایسا گواہ جو گواہی دینے میں امین ہو، اُسے شہید کہتے ہیں۔ اصطلاح میں جو شخص راہِ خدا میں قُربان ہو جائے، اُسے شہید کہا جاتا ہے۔ اس کلمے کی مجمل تفسیر یہ ہے کہ جو آدمی اپنی زندگی کو نامِ خدا پر نثار کرکے خدا کی ذات پر اپنے ایمان کی ناقابلِ تردید گواہی دے دیتا ہے، وہ شہید کہلاتا ہے۔ آسان الفاظ میں شہید کی شہادت اُس کے ایمان کی مظہر ہوتی ہے۔ با الفاظِ خاص! ایمان کے قُلّہ کوہ پر شہادت کی تجلّی کَونْدتی ہے۔ اِس جبلِ ایمان کو سر کرنے کا لازمہ حرکت اور عمل ہے۔ ایمان کے طور کی چوٹی تک جو بھی پہنچا، وہ حرکت اور عمل کی طنابوں کو تھام کر ہی پہنچا۔ حرکت اور عمل صفتِ حیات ہے۔ یہ صفت ایمان کے ہمراہ مومن کے پیکر میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ چنانچہ غیرِ مومن سے مومن کے ایمان کے مطابق حرکت اور عمل کا تقاضا ہی عبث ہے۔ یعنی مومن جس پر ایمان لاتا ہے، اپنے عمل سے اُسی کی جانب حرکت کرتا ہے۔ اُسی کو صراطِ مستقیم، اُسی کو مطلوبِ حقیقی، اُسی کو قبلہ و کعبہ اور اُسی کو اپنا مبدا و معاد سمجھتے ہوئے پوری یکسوئی اور ساری توانائی کے ساتھ اُسی کی جانب دوڑ پڑتا ہے۔ مومن کی اس کیفیّت کو ایک نامی گرامی شاعر نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

کوئے یار سے سوئے دار تک کی اس حرکت و عمل کے حسین ارتعاش کو معرفت جنم دیتی ہے۔ آفتابِ معرفت کی تمازت سکون اور جمود کی سرد تہوں کو پگھلا دیتی ہے۔ معرفتِ مطلوب کا سورج جب سوا نیزے پر چمکتا ہے تو طالبِ حقیقی کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اُس دم اُس کی لغزشِ مستانہ میں حیاتِ جاودانہ یونہی تو رقص نہیں کرتی۔ بقولِ غالب
عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
یہ ایک مسلمّہ امر ہے کہ شدّتِ عشق میں عاشق کو دِلبر کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ اُس لمحے دنیا و ما فیہا اور اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے، جب اُسے ہر طرف معشوق و مطلوب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یوں وارداتِ قلبی کے باعث اسی عالمِ ناسوت میں عُشّاق کی ارواح فردوسِ بریں کی مناجات سننے لگتی ہیں اور اُن کے خاکی اجساد امتحانات کے طبل پر مانند بسمل لطیف رقص کرنے لگتے ہیں۔ پس ایمان و عشق لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ اقبال فرماتے ہیں:
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

جب عاشق اپنے معشوق میں جذب ہو کر مجذوب ہو جاتا ہے تو پھر وہ ہر طرف حق دیکھتا ہے، اپنے اعضاء و جوارح سے حق بولتا ہے، اپنے ہر حرف و لفظ سے حق کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ اِس دارِ فانی میں وہ اکیلا ہی مردِ میدان رہ جاتا ہے، وہ تنِ تنہا حق کا منادی بن کر انالحق کی صدا دینے لگتا ہے۔ اُس وقت اُس کی یہی صدا دراصل گنجینہ معنی کا طلسم اور حقیقت کا زمزم ہوتی ہے۔ جب ایمان اور عشق کا اختلاط ہو جائے۔ اختلاط بھی ایسا کہ ایمان عشق اور عشق ایمان بن جائے۔ جب اس اختلاط کے باعث عاشق اپنے معشوق کے، محب اپنے محبوب کے، عبد اپنے معبود کے، ساجد اپنے مسجود کے، حامد اپنے محمود کے اتنے قریب ہو جائے تو پھر صحرائے عشق میں اُس کے نقشِ پا کو طریقت اور اس نے جہاں جہاں پڑاو ڈالا ہو اور جن جن مقامات و منازل سے گزرا ہو اُنہیں سیر و سلوک کی منازل کہتے ہیں۔ سیر و سلوک میں ایک منزل ایسی بھی آتی ہے کہ جب مسافر خود عشق بن جاتا ہے، خود ایمان بن جاتا ہے، خود راستہ بن جاتا ہے، خود چراغ بن جاتا ہے، خود ہی ہادی، خود ہی راہرو اور خود ہی مکتب بن جاتا ہے۔ سیر و سلوک کے متلاشیوں یعنی اربابِ صفا اور اہلِ فنا کیلئے اقبال نے کیا خوب پیغام دیا ہے کہ
عقل و دل و نگاہ کا مرشد اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدۂ تصورات

بندگانِ خدا کے درمیان ایسے عارفانِ الِہیٰ اور عاشقانِ خدا بھی ہیں کہ جنہوں نے عرفان و تصوّف کی ملکوتی بہشت کے زرّیں ابواب کو سادہ دل اور عام انسانوں کیلئے بھی کھول دیا ہے۔ انہوں نے طریقت اور سیر و سلوک کی تنگ گھاٹیوں کو مخلوقِ خدا کیلئے شاہراہ عام بنا دیا ہے۔ انہوں نے نفسِ امّارہ سے چھٹکارے کیلئے ترکِ دنیا کرکے خلوت نشینی کو اپنانے کے بجائے دکھی انسانوں کی داد رسی، اقوام کے تہذیبی سرمائے کی حفاظت، آزاد اور خود مختار ممالک سے استعماری طاقتوں کے انخلا، طاغوت کی ذہنی غلامی سے نجات، معاشرے میں عدل کی فراہمی، سماج میں مساوات کے قیام، دنیا میں مظلوموں کی مدد، مشکلات میں محتاجوں کی سرپرستی، ضرورت کے وقت ظالموں سے مقابلہ، ہر محاذ پر غاصبوں سے ٹکراو اور مجبوروں کی فریاد رسی جیسی کلیدیں استعمال کرکے اہلِ عالم کو خدا کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اپنی انسان دوستی کی بنیاد پر جہاں حضرت انسان کو عشق کا نیا مفہوم عطا کیا ہے، وہیں خدا کی معرفت کی اساس پر مکتبِ عرفان کو تعبیر ِنو اور جہتِ عام بھی بخشی ہے۔ عرفان کا یہی مفہوم علامہ محمد اقبال کے ہاں بھی ملتا ہے:
کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری
کمال ترک ہے تسخیر خاکی و نوری
میں ایسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آیا
تمہارا فقر ہے بے دولتی و رنجوری

ایسے متحرک، فعال اور باعمل لوگوں کا مکتب ایک جامع مکتب ہے۔ اس مکتب میں خلوص کی رعنائیاں، الہام کی پرچھائیاں، زمانے کی گردشیں، علم کی شمعیں، تجزیہ و تحلیل کی روشنیاں، شب بیداریوں کی تنہائیاں، فقاہت کی روشنائیاں، طریقت کی گہرائیاں، ایمان کی بصیرت، دل کا نور، دماغ کا فہم، ضمیر کی زندگی اور جرات، شہامت، شجاعت، صداقت، مدیریت، حرّیت، شفافیّت، عدالت، کرامت، بندگی، اطاعت، ولایت، شہادت۔۔۔ الغرض وہ سب کچھ ہے کہ جو ایک انسان کو حرکت اور عمل پر ابھارتا ہے۔ اس مکتب میں سُستی، تھکاوٹ، مایوسی، پسپائی، شکست، اور خدا سے غفلت کا شائبہ تک نہیں۔ گویا یوں کہیں کہ
جبینِ شوق پہ مرد قلندر کی شکن کیوں ہو
اسے کیا غم کہ جس کو دوست خود رحمان رکھتا ہے
یہ ہے وہ مکتب جس کے علمبردار حضرت امام خمینی ؒ ہیں۔ جنہوں نے شہنشاہیت کے پنجوں میں سسکتی ہوئی انسانیت سے قطعِ تعلق نہیں کیا بلکہ آپ نے میدانِ عمل میں اُتر کر بلکتی ہوئی انسانیت کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ راہیانِ سیروسلوک کے راستے میں حضرت امام خمینی جیسے مُرشدِ کامل کا یہ عارفانہ جملہ شمعِ فروزاں بن کر مُدّام نور افشانی کرتا رہتا ہے۔ آپ کے مطابق پچاس سالہ عبادت سے انسان اُس مقام تک نہیں پہنچ سکتا، جس تک راہِ خدا میں لڑنے والا مجاہد ایک شب میں پہنچ جاتا ہے۔ یہی ہے وہ شمعِ فروزاں جس کی لو میں قاسم سلیمانی جیسے عرفاء جادہ ِ سیروسلوک پر گامزن رہتے ہیں۔

ابھی چند سال پہلے جب مشرق و مغرب میں شیطان کی طاقت کا ڈنکا بج رہا تھا اور چاروں سمت سے شیاطین کے تیروں کا مینہ برس رہا تھا تو ایسے میں قاسم سلیمانی نے بارود کے مُصلّے پر نمازِ عشق ادا کی۔ ہم نے دیکھا کہ قاسم سلیمانی کی اس نمازِ عشق نے طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے خونخواروں کے شکنجے سے بےبس انسانیت کو نجات دلائی۔ قاسم سلیمانی عالمِ بشریت کیلئے شیطان کے مقابلے میں ایک الہیٰ اور آہنی سِپر تھے۔ آپ کے پارہ پارہ بدن کے خاکستر ذرّوں پر زبانِ عشق میں طالبانِ راہ حق اور فقیرانِ عرفان و تصوّف کیلئے یہ سندیسہ موجود ہے کہ اگر کوئی خدا کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے کا متمنّی ہے تو وہ مخلوقِ خدا کو اپنے زمانے کے شیطانوں کے سِتم سے نجات دلانے کی تگ و دو کرے۔ مکتبِ سلیمانی میں اسی تَگ و دَو کا نام سیروسلوک ہے۔ عرفان کے اس منہج کو خبیب تابش نے اپنے الفاظ میں یو ں بیان کیا ہے کہ
یہی ہے منہج نبوی یہی کار نبوّت ہے
کہ انساں کی غلامی سے رہے آزاد ہر گردن

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں